دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلام آباد کے لیے وقت ہے، پاکستان کے لیے نہیں؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا کی سیاست میں آج ایک عجیب سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس جلسوں، جلوسوں، احتجاجی تحریکوں، لانگ مارچوں اور اسلام آباد کی طرف سیاسی پیش قدمی کے لیے وقت بھی ہے، وسائل بھی ہیں، انتظامی مشینری بھی ہے اور سیاسی توانائی بھی، مگر کیا پاکستان کے ایک قومی دن، یومِ دفاع و شہداء، کے لیے بھی اتنا ہی وقت، اتنی ہی توجہ اور اتنی ہی توانائی موجود ہے؟

6 ستمبر کسی سیاسی جماعت کا دن نہیں۔ یہ کسی حکومت کا دن نہیں۔ یہ وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشمکش کا دن بھی نہیں۔ یہ پاکستان کے ان لوگوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنی جانیں دیں۔ یہ اس قوم کے اجتماعی حافظے کا دن ہے جس نے 1965ء میں ایک بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر دنیا کو بتایا تھا کہ پاکستان محض ایک جغرافیہ نہیں، ایک قومی عزم بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے عسکری اداروں کی قیادت نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، غازیوں اور شہداء کے اہل خانہ کو سلام پیش کیا اور واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ وفاقی سطح پر بھی یومِ دفاع کے حوالے سے سرکاری پیغامات سامنے آئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تقریبات ہوئیں۔ مگر خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے میں سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی اپنی آواز کہاں ہے؟

یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ یہی صوبہ ملک کی سلامتی کے سب سے حساس محاذوں میں سے ایک ہے۔ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے فوجیوں، پولیس اہلکاروں، قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس صوبے کے گاؤں، بازار، مساجد، سکول، پولیس تھانے اور سڑکیں دہشت گردی کے زخموں کی گواہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کے لیے دفاعِ پاکستان کوئی تاریخی باب نہیں، روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔ ایسے صوبے میں یومِ دفاع و شہداء محض ایک سرکاری کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ قومی شعور کا سب سے نمایاں دن ہونا چاہیے تھا۔

اختلاف کی گنجائش جمہوریت کا حسن ہے۔ پی ٹی آئی کو وفاقی حکومت سے اختلاف ہے، ریاستی اداروں سے اختلاف ہے، سیاسی نظام سے اختلاف ہے، اپنے سیاسی کارکنوں کے لیے شکایات ہیں اور اپنے سیاسی مطالبات ہیں۔ ان سب پر احتجاج بھی ہو سکتا ہے، جلسے بھی ہو سکتے ہیں، لانگ مارچ بھی ہو سکتے ہیں اور حکومت پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر پاکستان ان تمام سیاسی اختلافات سے بڑا ہے۔ ریاست پاکستان کسی ایک جماعت کی نہیں اور شہداء کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں تھے۔

یہی بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگر ایک صوبائی حکومت کے پاس سیاسی تحریک کے لیے دن رات کی منصوبہ بندی، سرکاری مشینری کی متحرک کاری، سڑکوں پر سیاسی اجتماع، انتظامی تیاری اور کروڑوں روپے کے اخراجات کی گنجائش موجود ہے تو پھر قومی دن کے لیے ایک باوقار تقریب، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، یادگاروں پر حاضری، سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم، تعلیمی اداروں میں خصوصی پروگرام اور وزیراعلیٰ کا ایک واضح قومی پیغام کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔

یہ سوال وسائل کا کم اور ترجیحات کا زیادہ ہے۔

ریاستی وسائل سیاسی سرگرمیوں میں استعمال ہوں یا نہ ہوں، اس پر الگ بحث ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ لیکن قومی دن کے موقع پر صوبائی حکومت کی ترجیحات خود ایک سیاسی پیغام بن جاتی ہیں۔ حکومت جس چیز کے لیے وقت نکالتی ہے، جس چیز کے لیے پوری مشینری حرکت میں لاتی ہے اور جس چیز کو اپنی سیاسی ترجیحات میں جگہ دیتی ہے، وہی اس کی ترجیحات کا آئینہ ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے شہداء کے خاندان شاید یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر اسلام آباد پہنچنے کے لیے اتنی سیاسی بے قراری ہے تو ان کے شہیدوں کو یاد کرنے کے لیے ایک دن کی سرکاری سنجیدگی کیوں نہیں؟

اگر سڑکوں پر طاقت کے اظہار کے لیے سیاسی کارکنوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے تو شہداء کی قبروں پر پھول چڑھانے کے لیے سرکاری نمائندے کیوں نہیں بھیجے جا سکتے؟

اگر لانگ مارچ کے لیے صوبائی سیاست کے پاس مسلسل وقت ہے تو یومِ دفاع کے لیے چند گھنٹے کیوں نہیں؟

اور اگر سیاسی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ ہر قومی معاملہ بھی سیاسی عینک سے دیکھا جانے لگے تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ہماری جماعتی وابستگیاں ہماری قومی وابستگیوں پر غالب تو نہیں آ رہیں؟

یہاں ایک اور بات بھی واضح رہنی چاہیے۔ افواج پاکستان پر تنقید جمہوری حق ہے۔ کسی فوجی پالیسی، حکومتی فیصلے یا ریاستی ادارے سے اختلاف بھی سیاسی حق ہے۔ لیکن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا کسی ادارے کی حمایت نہیں بلکہ اپنے ملک کی تاریخ اور اپنے لوگوں کی قربانی کا احترام ہے۔ دنیا کی کوئی سنجیدہ جمہوریت اپنے شہداء کو اس لیے نظرانداز نہیں کرتی کہ موجودہ حکومت یا ریاستی اداروں سے سیاسی اختلاف ہے۔

آج کا دن ہمیں یہی بنیادی سبق یاد دلاتا ہے کہ حکومتیں آتی جاتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، قیادتیں بدلتی ہیں، مگر ملک باقی رہتا ہے۔ 6 ستمبر 1965ء کی قربانیاں کسی جماعت کے انتخابی منشور کا حصہ نہیں تھیں۔ ان لوگوں نے پاکستان کے لیے جان دی تھی، کسی پارٹی کے لیے نہیں۔

اس لیے خیبر پختونخوا کی حکومت سے سوال سیاسی دشمنی کے طور پر نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر پوچھا جانا چاہیے: کیا ایک صوبائی حکومت کے پاس اسلام آباد کے لیے وقت ہے مگر پاکستان کے لیے نہیں؟

اگر یہ تاثر غلط ہے تو اسے ختم کرنے کی ذمہ داری بھی حکومت ہی کی ہے۔ ایک باوقار سرکاری پیغام، شہداء کے لیے خصوصی تقریب، ان کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی اور قومی دن کو اس کے شایانِ شان انداز میں منانا اس سوال کا بہترین جواب ہو سکتا تھا۔

کیونکہ پاکستان کے قومی دن کسی حکومت کے محتاج نہیں ہوتے، مگر حکومتوں کی قومی ترجیحات انہی دنوں میں ضرور بے نقاب ہو جاتی ہیں۔

اسلام آباد کی سیاست کل بھی ہوتی رہے گی، احتجاج بھی ہوتے رہیں گے، حکومتیں بھی بدلتی رہیں گی؛ مگر شہداء کا دن سال میں صرف ایک بار آتا ہے۔
واپس کریں