دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نالائق حکومت، احمقانہ فیصلے، رج کے لوٹ مار اور انتشاری سیاست
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزی محور بنا رکھا ہے۔ اگست میں انہوں نے مختلف اضلاع میں تحریک انصاف کی سڑکوں پر سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہوئے کارکنوں کو 27 ستمبر کے لیے تیار ہونے کی ہدایت کی، خود لانگ مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا اور اسے فیصلہ کن سیاسی مرحلہ قرار دیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے پانچ روزہ دورے پر بھی تحریک انصاف کی اسی سڑکوں پر چلنے والی سیاسی مہم کے سلسلے میں گئے ہیں تاکہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کو متحرک کیا جا سکے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے یا نہیں۔ جمہوری سیاست میں سیاسی سرگرمی ہر سیاسی جماعت اور رہنما کا حق ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی پہلی ذمہ داری کیا ہے؟
وزیراعلیٰ کا منصب کسی سیاسی جماعت کے جلسوں، ریلیوں یا احتجاجی تحریک کی قیادت سے بڑا منصب ہے۔ ان کے سامنے پورا صوبہ ہوتا ہے۔ سکول، ہسپتال، پولیس، سڑکیں، آبپاشی، روزگار، امن و امان، سرکاری ادارے اور کروڑوں شہری ان کی انتظامی ذمہ داری ہیں۔
اگر وزیراعلیٰ کا بیشتر وقت 27 ستمبر کی تیاری، سڑکوں پر اجتماعات اور کارکنوں کی سیاسی صف بندی میں صرف ہو رہا ہو تو یہ پوچھنا عوام کا حق ہے کہ صوبہ کون چلا رہا ہے اور صوبے کی بنیادی ترجیحات کون طے کر رہا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے تعلیمی نظام کی زمینی تصویر کچھ اور کہانی سنا رہی ہے۔
صوبے کے 1,507 سرکاری سکول آج بھی چاردیواری جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ محض اینٹوں، سیمنٹ اور تعمیراتی کام کا مسئلہ نہیں؛ یہ بچوں کے تحفظ، طالبات کی رازداری، اساتذہ کے لیے محفوظ ماحول اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری کا سوال ہے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کوہستان لوئر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 204 سکولوں کی چاردیواری موجود نہیں۔ مانسہرہ میں 169، کوہستان اپر میں 160، بٹگرام میں 118، کولائی پالس میں 113 اور ایبٹ آباد میں 110 سکول اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ شانگلہ کے 72، جنوبی وزیرستان اپر کے 66 اور خیبر کے 43 سکول بھی چاردیواری کے بغیر چل رہے ہیں۔
صرف ان نو اضلاع کا حساب لگائیں تو تعداد 1,055 سکول بنتی ہے، یعنی صوبے بھر کے چاردیواری سے محروم سکولوں کا تقریباً 70 فیصد۔ باقی 452 سکول صوبے کے دوسرے اضلاع میں موجود ہیں جہاں بچے اور بچیاں ایسے تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کی بنیادی حدود تک محفوظ نہیں۔
یہاں حکومت سے ایک سادہ سا سوال بنتا ہے:
کیا چاردیواری بھی اب خیبر پختونخوا کے سکولوں کے لیے کوئی عیاشی ہے؟
چاردیواری محض ایک دیوار نہیں ہوتی۔ سکول کی چاردیواری بچوں کو باہر کے غیر متعلقہ افراد سے تحفظ فراہم کرتی ہے، طالبات کو ضروری رازداری دیتی ہے، سکول کی حدود متعین کرتی ہے اور تعلیمی ماحول کو محفوظ بناتی ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سماجی، جغرافیائی اور امن و امان کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، وہاں سکول کو کھلا چھوڑ دینا معمولی انتظامی کوتاہی نہیں ہو سکتی۔
مگر تعلیمی بدانتظامی کی کہانی صرف چاردیواری تک محدود نہیں۔
محکمۂ تعلیم کے اعدادوشمار کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ صوبہ بھر میں طلبا کے لیئے 14 لاکھ 94 ہزار 287 کرسیوں اور ڈیسک کی کمی ہے، جبکہ محکمۂ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق 11 لاکھ 6 ہزار 800 اضافی فرنیچر خرید کر ان سکولوں کو بجھوایا گیا ہے، جہاں اسکی ضرورت سرے سے تھی ہی نہیں۔
یعنی ایک طرف طلبہ کے لیے جن سکولوں میں فرنیچر کی کمی ہے ان کو چھوڑ کر لاکھوں کی تعداد میں اضافی فرنیچر ایسے سکولوں میں پہنچ گیا جہاں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
محکمۂ تعلیم کی رپورٹ نے خود سفارش کی ہے کہ اضافی فرنیچر ان سکولوں میں منتقل کیا جائے جہاں اس کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک سیدھا سا سوال پیدا ہوتا ہے:
جب صوبے میں 14 لاکھ 94 ہزار 287 فرنیچر کی کمی موجود تھی تو 11 لاکھ 6 ہزار 800 اضافی فرنیچر ایسے سکولوں میں کیسے پہنچا جہاں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی؟
اگر ضرورت کا تعین موجود تھا تو خریداری ضرورت کے مطابق کیوں نہ ہوئی؟
اگر سکول وار ضرورت کا ریکارڈ موجود تھا تو تقسیم کا نظام کیوں ناکام ہوا؟
اور اگر ضرورت کا درست تخمینہ ہی موجود نہیں تھا تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری وسائل خرچ کرنے کی بنیاد کیا تھی؟
یہ سوال کسی ایک افسر یا ایک محکمے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ پورے تعلیمی انتظامی نظام کی کارکردگی جانچنے کے لیے کافی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعلیٰ کی سیاسی ترجیحات اور حکومت کی انتظامی کارکردگی ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔
ایک طرف 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہے، کارکنوں کی سیاسی صف بندی ہے، سڑکوں پر سرگرمیاں ہیں اور سیاسی تبدیلی کے دعوے ہیں؛ دوسری طرف 1,507 سکول چاردیواری کے بغیر ہیں، 14 لاکھ 94 ہزار 287 فرنیچر کی کمی ہے اور 11 لاکھ 6 ہزار 800 اضافی فرنیچر ایسے سکولوں میں موجود ہے جہاں اس کی ضرورت نہیں۔
یہ تضاد محض اتفاق نہیں سمجھا جا سکتا۔ کم از کم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ضرورت، منصوبہ بندی، خریداری اور تقسیم کے درمیان کہیں نہ کہیں ایک بنیادی انتظامی خلا موجود ہے۔
تعلیم کے میدان میں حکومت کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ کتنے نئے اعلانات کیے گئے، کتنے اجلاس منعقد ہوئے یا کتنی مرتبہ تعلیمی اصلاحات کا ذکر تقریروں میں آیا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ ایک عام بچے کو حکومت نے کتنا محفوظ، باوقار اور معیاری سکول فراہم کیا۔
تعلیمی پالیسی کا مطلب صرف نئے سکول بنانا نہیں ہوتا۔ تعلیمی پالیسی کا مطلب یہ بھی ہے کہ پہلے سے موجود سکول محفوظ ہوں، بچوں کے بیٹھنے کا مناسب انتظام ہو، طالبات کے لیے باوقار ماحول ہو، صاف پانی اور واش روم موجود ہوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر ہوں، اساتذہ دستیاب ہوں اور حکومت کو ہر سکول کی حقیقی ضرورت کا علم ہو۔
اگر حکومت ایک طرف بڑے ترقیاتی منصوبوں اور نئے پیکیجوں کے اعلانات کرے اور دوسری طرف ہزاروں سکول بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو سوال پیدا ہوگا کہ ترجیحات کہاں طے ہو رہی ہیں؟
کیا سیاسی نمائش بنیادی تعلیمی ضرورت سے زیادہ اہم ہے؟
کیا جلسے اور ریلیاں سکول کی چاردیواری سے زیادہ فوری ضرورت ہیں؟
کیا سیاسی کارکنوں کی صف بندی اس بچے سے زیادہ اہم ہے جو سکول میں بیٹھنے کے لیے مناسب نشست کا انتظار کر رہا ہے؟
اور کیا 27 ستمبر کی سیاسی تیاری اس صوبے کے ان 1,507 سکولوں سے زیادہ اہم ہے جنہیں آج بھی اپنی بنیادی حدود محفوظ کرنے کے لیے حکومت کی ضرورت ہے؟
حکومت کے حامی یقیناً یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیاں اور حکومتی امور ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے۔ مگر پھر سوال کارکردگی کا ہے۔
اگر دونوں کام ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں تو تعلیم کی یہ حالت کیوں ہے؟
اگر حکومت کے پاس منصوبہ بندی اور نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہے تو ایک ہی صوبے میں نشستوں کی شدید کمی اور اضافی فرنیچر کی اتنی بڑی مقدار کیسے پیدا ہوئی؟
اصل مسئلہ شاید پیسے کی کمی سے زیادہ ترجیحات اور منصوبہ بندی کی کمی ہے۔
ایک حکومت کا امتحان اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ محدود وسائل کو کہاں خرچ کرتی ہے۔
اگر ایک سکول میں چاردیواری نہیں تو وہاں دیوار ترجیح ہونی چاہیے۔
اگر بچوں کے لیے نشستیں نہیں تو وہاں نشست ترجیح ہونی چاہیے۔
اور اگر کسی دوسرے سکول میں فرنیچر ضرورت سے زیادہ ہے تو اسے ضرورت مند سکول تک پہنچانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
محکمۂ تعلیم کی طرف سے اضافی فرنیچر ضرورت مند سکولوں کو منتقل کرنے کی سفارش دراصل ایک آسان حل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منتقلی کب ہوگی؟ کتنے سکولوں کو فرنیچر منتقل کیا جائے گا؟ کس ضلع سے کس ضلع میں منتقل کیا جائے گا؟ اس کی نقل و حمل پر کتنا خرچ آئے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئندہ خریداری سے پہلے سکول وار ضرورت کا درست تعین کیسے یقینی بنایا جائے گا؟
اسی طرح 1,507 چاردیواری سے محروم سکولوں کے لیے بھی حکومت کو واضح منصوبہ دینا چاہیے۔ ہر سکول کے لیے مطلوبہ لاگت کیا ہے؟ کتنے سکول رواں مالی سال میں مکمل ہوں گے؟ کتنے اگلے سال؟ اور اس منصوبے کی تکمیل کی حتمی مدت کیا ہے؟
کیونکہ تعلیم تقریروں سے نہیں، ترجیحات کے درست تعین سے بنتی ہے۔
آج خیبر پختونخوا میں ایک طرف وزیراعلیٰ 27 ستمبر کو سیاسی تبدیلی کا دن قرار دے رہے ہیں اور کارکنوں کو لانگ مارچ کے لیے تیار کر رہے ہیں، دوسری طرف صوبے کے بچے اپنی بنیادی تعلیمی سہولتوں کے لیے حکومت کے منتظر ہیں۔
یہاں عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیے اصل ترجیح کیا ہے۔
اسلام آباد کی طرف جانے والا لانگ مارچ یا اپنے بچے کا محفوظ سکول؟
سیاسی نعرہ یا سکول کی چاردیواری؟
جلسے کا ہجوم یا کلاس روم میں بیٹھنے کے لیے نشست؟
حکومت اگر واقعی تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتی ہے تو اسے پہلے سکول کی طرف دیکھنا ہوگا، پھر سڑک کی طرف۔
اسے پہلے بچے کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، پھر سیاسی کارکن کا۔
اسے پہلے سکول کی چاردیواری مکمل کرنی ہوگی، پھر سیاسی تحریک کی صف بندی۔
کیونکہ صوبے کے بچے ووٹ بینک نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہیں۔
اور آخر میں سوال وہی ہے جو ہر والدین، ہر استاد اور ہر طالب علم حکومت سے پوچھ سکتا ہے:
جس صوبے کے 1,507 سرکاری سکول آج بھی چاردیواری کے منتظر ہوں، جہاں 14 لاکھ 94 ہزار 287 نشستوں کی کمی ہو، اور اسی وقت 11 لاکھ 6 ہزار 800 اضافی فرنیچر کی خریداری سامنے آئے، وہاں تعلیمی پالیسی آخر کہاں ہے؟
اعدادوشمار کا جواب شاید سب سے زیادہ تلخ ہے:
تقریروں میں تعلیم بہت ہے، مگر ترجیحات میں تقریباً زیرو۔
واپس کریں