پاکستان تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا سے خوفناک انتقام
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ شاید پیسے کی کمی، وسائل کی قلت یا منصوبوں کا فقدان نہیں، بلکہ حکمرانی کی ترجیحات کا وہ بحران ہے جس نے صوبائی حکومت کی سیاسی توانائی کو عوامی خدمت کے بجائے مسلسل سیاسی مزاحمت میں تبدیل کر دیا ہے۔ صوبہ ایک ایسی حکومت کے پاس ہے جس کے پاس وسائل بھی ہیں، آئینی اختیار بھی، انتظامی مشینری بھی اور ایک بھاری بھرکم بجٹ بھی، مگر سوال یہ ہے کہ ان سب کو صوبے کی زندگی بدلنے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا رہا ہے۔
مالی سال 2026-27 میں خیبر پختونخوا کا مجموعی بجٹ 2.170 کھرب روپے ہے، جبکہ سالانہ ترقیاتی بجٹ 524 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ یعنی صوبے کے پاس اتنے بڑے مالیاتی وسائل کا سالانہ حجم موجود ہے کہ حکومت تعلیم، صحت، امن و امان، آب رسانی، زراعت، بلدیات، روزگار اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بجٹ کا حجم خود بخود حکمرانی پیدا نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس رقم سے کتنے سکول بہتر ہوئے، کتنے ہسپتال فعال ہوئے، کتنی بستیاں صاف پانی سے جڑیں، کتنی سڑکیں بنیں، پولیس کتنی مضبوط ہوئی اور عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔
خیبر پختونخوا کے امن و امان ہی کو دیکھ لیجیے۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں پولیس کے اہلکار روزانہ اپنی جانوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2022 سے 2026 کے پہلے سات ماہ تک 844 پولیس اہلکار اور افسران شہید ہو چکے تھے، جن میں صرف رواں سال کے پہلے سات ماہ میں 150 سے زیادہ اہلکار شامل ہیں۔ ایسے صوبے میں وزیراعلیٰ کے منصب کی پہلی ترجیح امن، پولیس کی صلاحیت، انسداد دہشت گردی، انتظامی استحکام اور شہریوں کے تحفظ سے جڑی ہونی چاہیے۔
لیکن یہاں ایک عجیب سیاسی تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ جس حکومت کے سربراہ کو صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونا چاہیے، وہی سربراہ ایک قومی سیاسی تحریک کے سب سے نمایاں سیاسی کمانڈر کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ احتجاج، دھرنے، جلسے، سٹریٹ موومنٹ، سیاسی رابطہ کاری، ملک بھر کے دورے اور 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاری اس وقت صوبائی سیاست کا مرکزی منظرنامہ بن چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں، کارکنوں کو متحرک کر رہے ہیں اور لانگ مارچ کی تیاری کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: ایک سیاسی جماعت کے لیے جو چیز کامیابی ہے، وہ ضروری نہیں کہ ایک صوبائی حکومت کے لیے بھی کامیابی ہو۔
اگر پی ٹی آئی کا مقصد اپنے کارکنوں کو متحرک کرنا، سیاسی دباؤ بڑھانا، احتجاجی قوت دکھانا اور 27 ستمبر کو ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اسلام آباد پہنچنا ہے تو اس محاذ پر اسے کامیاب ضرور کہا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے بڑے پیمانے پر کارکنوں کو متحرک کرنے کا ہدف اور اس مقصد کے لیے مسلسل سیاسی سرگرمیاں اس حکمت عملی کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔
لیکن یہی کامیابی ایک دوسرے زاویے سے صوبائی حکمرانی کی ناکامی کا سوال بھی پیدا کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ اگر سیاسی جماعت کے سربراہ یا کارکن ہوتے تو ان کی اولین ذمہ داری پارٹی کو متحرک کرنا ہوتی۔ مگر وزیراعلیٰ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہوتی جو اسے ووٹ دیتے ہیں یا اس کی جماعت سے وابستہ ہیں؛ اس کی ذمہ داری پورے صوبے کے ہر شہری کو جوابدہی ہوتی ہے۔ اسے اپوزیشن کے کارکن، غیر جانب دار شہری، سرکاری ملازم، استاد، ڈاکٹر، کسان، تاجر، پولیس اہلکار اور اس شخص کو بھی جواب دینا ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خیبر پختونخوا کے بحران کی اصل تصویر سامنے آتی ہے۔
صوبے میں حکومت تو موجود ہے، مگر حکمرانی مسلسل سیاسی سرگرمی کے نیچے دب رہی ہے۔
جلسہ ایک سیاسی کامیابی ہو سکتا ہے، دھرنا ایک سیاسی دباؤ پیدا کر سکتا ہے، لانگ مارچ ایک سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، ملک گیر دورہ جماعتی تنظیم کو مضبوط کر سکتا ہے؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز اس وقت تک صوبائی حکمرانی کی کامیابی نہیں بن سکتی جب تک سکول بہتر نہ ہوں، ہسپتال چل نہ رہے ہوں، پولیس محفوظ نہ ہو، دہشت گردی کم نہ ہو، بلدیاتی نظام فعال نہ ہو، زراعت کو پانی نہ ملے، روزگار پیدا نہ ہو اور شہری کو اپنے گھر کی دہلیز پر ریاست کی موجودگی محسوس نہ ہو۔
یہاں خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے: ریاستی صلاحیت کو سیاسی توانائی میں تبدیل کرنے کے بجائے سیاسی توانائی کو ریاستی کارکردگی میں تبدیل ہونا چاہیے تھا۔
صوبے کے پاس 524 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہے۔ اگر اتنے بڑے مالیاتی وسائل، مکمل انتظامی ڈھانچہ، منتخب اسمبلی، پولیس اور صوبائی محکموں کا پورا نظام موجود ہو تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ حکومت کے پاس کرنے کو کچھ نہیں؛ سوال یہ بنتا ہے کہ حکومت کی توجہ کا مرکز کیا ہے؟
اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب مستقبل میں خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت کے بارے میں تاریخ دے گی۔
پی ٹی آئی نے گزشتہ برسوں میں خیبر پختونخوا کو اپنی سیاسی طاقت کا سب سے مضبوط مرکز بنایا ہے۔ یہ اس کی سیاسی کامیابی ہے۔ لیکن اگر یہی صوبہ مسلسل احتجاجی سیاست، وفاق سے محاذ آرائی اور قومی سطح کی سیاسی کشمکش کے لیے استعمال ہوتا رہا تو پھر یہ کامیابی صوبے کے لیے ایک قیمت بھی رکھتی ہے۔ حکومت کا ہر دن، ہر گھنٹہ اور ہر انتظامی فیصلہ ایک محدود مدت اور وسیلہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا وقت بھی ایک محدود مدت اور وسیلہ ہے۔ اگر وہ وقت سیاسی تحریک کو دیا جاتا ہے تو لازماً صوبائی انتظامیہ، عوامی خدمات اور اصلاحات کے لیے وقت کم ہوتا ہے۔
یہاں کسی جماعت کے سیاسی حق سے انکار نہیں۔ احتجاج آئینی حق ہے، سیاسی اجتماع جمہوری عمل کا حصہ ہے اور حکومت میں موجود جماعت کو بھی اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ لیکن حکومت اور احتجاجی تحریک کے کردار ایک نہیں ہوتے۔ ایک سیاسی جماعت سڑک پر ہو سکتی ہے؛ ایک صوبائی حکومت کو دفتر، ادارے اور نظام چلانا ہوتا ہے۔
اسی لیے خیبر پختونخوا کا اصل سوال یہ نہیں کہ 27 ستمبر کو کتنے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر تک خیبر پختونخوا میں کتنے سکول بہتر ہوئے، کتنے ہسپتال فعال ہوئے، کتنے پولیس اہلکار محفوظ ہوئے، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا، کتنے شہریوں کو صاف پانی ملا اور کتنے ترقیاتی منصوبے حقیقت میں مکمل ہوئے۔
اگر کسی حکومت کی سیاسی کامیابی کا پیمانہ جلسے کی تعداد، مارچ کا حجم، نعرے کی شدت اور سڑک پر موجود کارکنوں کی تعداد بن جائے تو حکومت آہستہ آہستہ ریاستی کارکردگی کے اصل پیمانے سے دور ہو جاتی ہے۔
اور شاید یہی خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
پی ٹی آئی سیاسی تحریک چلانے میں کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن صوبہ چلانا ایک بالکل مختلف امتحان ہے۔
سیاسی ہیرو بننا نسبتاً آسان ہے؛ چیف ایگزیکٹو بن کر کروڑوں انسانوں کے صوبے کی روزمرہ زندگی بدلنا اصل امتحان ہے۔ تاریخ کسی وزیراعلیٰ کو اس بنیاد پر یاد نہیں رکھتی کہ اس نے کتنے جلسے کیے، کتنے قافلے نکالے یا کتنے کارکن اسلام آباد پہنچائے۔ تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے دور میں ریاست کتنی مضبوط ہوئی، ادارے کتنے مؤثر ہوئے اور عام آدمی کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔
خیبر پختونخوا کو آج کسی نئے سیاسی نعرے سے زیادہ نئے حکمرانی کے معیار کی ضرورت ہے۔
حکومت اگر احتجاج بھی کرے اور حکومت بھی چلائے تو کوئی اعتراض نہیں؛ مگر جب احتجاج حکومت پر غالب آ جائے، جب پارٹی چیف ایگزیکٹو پر غالب آ جائے اور جب سیاسی مقصد صوبائی مقصد پر غالب آ جائے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ حکومت صوبہ چلا رہی ہے یا حکومت صوبے کو سیاسی تحریک کے طور پر چلا رہی ہے؟
میرے نزدیک خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے: وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کی خرابی؛ حکومت کی عدم موجودگی نہیں، حکمرانی کی کمزوری؛ سیاسی قوت کی کمی نہیں، اس قوت کا غلط استعمال۔
اور شاید سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ جس محاذ پر پی ٹی آئی سب سے زیادہ کامیاب دکھائی دیتی ہے، عین اسی محاذ پر خیبر پختونخوا بطور صوبہ سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے۔
واپس کریں