خالد خان۔ کالم نگار
27 ستمبر کو اسلام آباد پر پی ٹی آئی کی مجوزہ چڑھائی اب محض ایک سیاسی احتجاج نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ایک بڑا مالیاتی سوال بھی جڑ گیا ہے۔ ایک ایسی سیاسی سرگرمی جس کا مقصد ایک عدالت سے سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنا بتایا جا رہا ہے، اس کا پہلا دن ہی کروڑوں روپے کا بتایا جا رہا ہے۔
یہاں سے سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، سوال پیسے کا بن جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر خیبر پختونخوا جنید اکبر کے مطابق اسلام آباد مارچ کے پہلے دن کا بجٹ 45 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے بعد ہر روز تقریباً 14 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ چونکہ مارچ کی مدت غیر متعین بتائی جا رہی ہے، اس لیے یہ کوئی معمولی سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ایک مسلسل مالیاتی آپریشن بھی بن ہے۔
اگر یہی تخمینہ برقرار رہتا ہے تو دس روزہ سرگرمی کا مجموعی خرچ تقریباً 171 کروڑ روپے، بیس روزہ سرگرمی کا 311 کروڑ روپے اور تیس روزہ سرگرمی کا 451 کروڑ روپے بنتا ہے۔
یہ حساب پی ٹی آئی کی طرف سے بتائے گئے تخمینے کی بنیاد پر ہے، کوئی سرکاری یا آڈٹ شدہ حساب نہیں۔ لیکن سوال اس کے باوجود بالکل حقیقی ہے:
یہ پیسہ آئے گا کہاں سے؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے حق سے متعلق نہیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے۔ سیاسی جماعت کو احتجاج کرنا ہے، جلسہ کرنا ہے یا حکومت کے خلاف آواز اٹھانی ہے، یہ اس کی سیاسی آزادی ہے۔ لیکن جب اس احتجاج کے لیے پہلے دن 45 کروڑ اور اس کے بعد روزانہ 14 کروڑ روپے کا مالیاتی تخمینہ پیش کیا جائے تو عوام کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل ہے کہ اس رقم کا ذریعہ کیا ہے۔
کیونکہ بجٹ بتانا شفافیت کا صرف آدھا حصہ ہے۔
خرچ کتنا ہوگا، یہ بتانے کے ساتھ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ رقم کہاں سے آئے گی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی کو ایک مکمل مالیاتی حساب کتاب دینی چاہیے۔
پی ٹی آئی کوئی نئی سیاسی جماعت نہیں۔ اس نے برسوں سے چندہ جمع کیا ہے، بیرون ملک پاکستانیوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کی مہمات چلائی ہیں، مقامی عطیات لیے ہیں اور مختلف سیاسی سرگرمیوں کے لیے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے مالی تعاون طلب کیا ہے۔ لہٰذا اگر 27 ستمبر کے مارچ کے لیے بھی یہی ذرائع استعمال ہو رہے ہیں تو ان کی تفصیل سامنے لانا کوئی غیرمعمولی مطالبہ نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ 45 کروڑ کہاں سے آئیں گے؟
کتنے عام کارکن دیں گے؟
کتنے پارٹی ارکان دیں گے؟
کتنے ٹکٹ ہولڈرز حصہ ڈالیں گے؟
کتنے کاروباری افراد یا نجی عطیہ دہندگان رقم فراہم کریں گے؟
بیرون ملک پاکستانیوں سے کتنی رقم آئے گی؟
اور سب سے اہم سوال:
کون کتنا دے گا؟
یہ تفصیل سامنے آئے تو عوام خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ عوامی چندہ ہے، کارکنوں کا تعاون ہے، بڑے عطیہ دہندگان کی مالی معاونت ہے یا کسی اور ذریعے سے آنے والا سرمایہ۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پی ٹی آئی کی فنڈنگ کا ماضی پہلے ہی ایک بڑے قانونی اور سیاسی تنازع کا موضوع رہ چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے مالی معاملات پر تفصیلی کارروائی ہوئی اور ممنوعہ ذرائع سے رقوم وصول کرنے کے بارے میں فیصلہ سامنے آیا۔ پی ٹی آئی نے اس فیصلے اور اس کی تشریح کو چیلنج کیا اور اپنا مؤقف پیش کیا کہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم کا تعلق پاکستانی شہریوں سے تھا۔
یعنی پی ٹی آئی کی مالیاتی تاریخ پہلے ہی عوامی بحث، قانونی کارروائی اور سوالات کا حصہ رہی ہے۔
ایسے میں جب آج وہ خود 45 کروڑ روپے کے ابتدائی احتجاجی بجٹ کا فگر دیتی ہے تو اس سے مکمل شفافیت کا مطالبہ بالکل فطری ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ماضی میں ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ اپنی جگہ ہے اور 27 ستمبر کے مارچ کی موجودہ فنڈنگ اپنی جگہ۔
ماضی کے کسی فیصلے کو موجودہ مارچ کے پیسے کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن ماضی کی مالیاتی تاریخ کی روشنی میں موجودہ بڑے مالیاتی دعوے کے ذرائع پوچھنا ضرور جائز ہے۔
اور یہی صحافت ہے۔
الزام لگانا صحافت نہیں؛ سوال کرنا، دستاویز مانگنا اور حساب سامنے رکھنا صحافت ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی اٹھنا چاہیے، اور یہ سوال کسی ملک کا نام لیے بغیر بھی پوری شدت کے ساتھ اٹھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور فلاحی اداروں کو بیرون ملک سے مالی معاونت ملنے کی مثالیں موجود رہی ہیں۔ بیرون ملک سے عطیات وصول کرنا بذات خود کوئی غیرقانونی عمل نہیں، بشرطیکہ رقم قانونی ذرائع سے آئے اور متعلقہ قوانین کے مطابق ظاہر کی جائے۔ لیکن جب ایک سیاسی جماعت غیرمعمولی پیمانے کی احتجاجی سرگرمی کا بجٹ خود جاری کرتی ہے تو یہ پوچھنا بہرحال جائز ہے کہ اس رقم کا ذریعہ کیا ہے۔
لہٰذا سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ 45 کروڑ روپے کے اس بجٹ میں پاکستان کے اندر سے کتنی رقم آئے گی اور بیرون ملک سے کتنی؟
اگر بیرون ملک سے فنڈنگ آئے گی تو کن قانونی ذرائع سے آئے گی؟ کون سے افراد یا ادارے عطیات دیں گے؟ کتنی رقم آئے گی؟ کس کے نام سے آئے گی؟ کس ذریعے سے پاکستان پہنچے گی؟ اور کیا اس تمام رقم کو قانون کے مطابق ظاہر کیا جائے گا؟
اور اس سے بھی آگے ایک حساس مگر جائز سوال:
کیا کسی ایسی بیرونی طاقت یا نیٹ ورک سے بھی مالی معاونت حاصل ہونے کا امکان ہے جو پاکستان میں سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھا سکتا ہو؟
ہم کسی ملک کا نام نہیں لے رہے، نہ کسی حکومت یا ادارے پر الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہم صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ایک سیاسی جماعت پہلے دن 45 کروڑ اور اس کے بعد روزانہ 14 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ خود پیش کر رہی ہے تو اس رقم کے تمام ذرائع عوام کے سامنے کیوں نہیں ہونے چاہئیں؟
بجٹ جاری کر دیا گیا ہے تو فنڈنگ سورسز بھی جاری کیے جائیں۔
کتنی رقم کارکن دیں گے؟
کتنی پارٹی دے گی؟
کتنی رقم بڑے عطیہ دہندگان دیں گے؟
کتنی رقم بیرون ملک پاکستانی دیں گے؟
اور اگر کوئی غیرملکی ذریعہ موجود ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
یہ سوال الزام نہیں، شفافیت کا تقاضا ہے۔
بلکہ پی ٹی آئی کے لیے تو یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دے۔ 45 کروڑ کا بجٹ سامنے رکھنے کے ساتھ اگر وہ فنڈنگ کے ذرائع، عطیہ دہندگان اور متوقع آمدن کا مکمل حساب بھی عوام کے سامنے رکھ دے تو کسی کو پاکستان دشمن طاقتوں، خفیہ نیٹ ورک یا بیرونی مالی معاونت کے امکانات پر سوال اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
لیکن اگر بجٹ پبلک ہو اور فنڈنگ سورسز غائب ہوں تو سوال پیدا ہونا بھی فطری ہے اور صحافت کا فرض بھی۔
یہ صرف پی ٹی آئی کا خرچ نہیں ہوگا۔
اگر ہزاروں افراد اسلام آباد آتے ہیں، راستے بند ہوتے ہیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات ہوتے ہیں، کنٹینرز لگتے ہیں، سکیورٹی انتظامات ہوتے ہیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے یا معمول کی سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو ریاست کا بھی ایک مالیاتی بل بنتا ہے۔
یعنی ایک طرف سیاسی جماعت کا احتجاجی بجٹ ہے اور دوسری طرف ریاستی مشینری کا خرچ۔
ایک کا پیسہ کہاں سے آتا ہے، یہ سیاسی جماعت کا سوال ہے۔
دوسرے کا پیسہ کہاں سے آتا ہے، وہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ احتجاجی سیاست کے مالیاتی اثرات کا مکمل حساب ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اور حساس پہلو بھی ہے۔
پی ٹی آئی کے بارے میں سیاسی مخالفین کی جانب سے یہ دعویٰ بارہا کیا جاتا رہا ہے کہ اس کے صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور تنظیمی عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد نسبتاً نچلے یا نچلے متوسط طبقے سے سیاست میں آئی، مگر سیاسی زندگی میں آنے کے بعد ان میں سے بعض افراد کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ بعض کے خلاف کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
یہاں بھی اصول وہی ہے:
الزام، الزام ہے؛ جرم اس وقت بنتا ہے جب عدالت میں ثابت ہو۔
لیکن اگر کسی سیاسی جماعت کے نمایاں افراد کی دولت میں غیرمعمولی اضافے کے سوالات موجود ہوں، اور اسی جماعت کو کروڑوں روپے کے احتجاجی بجٹ کی ضرورت پیش آ جائے، تو دولت کے ذرائع اور سیاسی فنڈنگ کے ذرائع کے بارے میں سوال کرنا عوام کا حق ہے۔
یہاں ہمیں جذبات سے نہیں، دستاویزات سے کام لینا ہوگا۔
کس کے پاس کتنی دولت تھی؟
کب تھی؟
اب کتنی ہے؟
آمدن کا ذریعہ کیا ہے؟
انتخابی گوشواروں میں کیا ظاہر کیا گیا؟
ٹیکس ریکارڈ کیا کہتا ہے؟
پارٹی کو کس نے کتنی رقم دی؟
واپس کریں