اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے خیبر پختونخوا کو بجلی دو
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، خراب ٹرانسفارمروں اور طویل بندش کے خلاف سڑکوں پر ہیں، بعض مقامات پر احتجاج گرڈ سٹیشنوں تک پہنچ چکا ہے، اہم شاہراہیں بند ہو رہی ہیں اور روزمرہ زندگی مفلوج ہوتی جا رہی ہے؛ دوسری طرف صوبائی حکومت اسلام آباد کی طرف ایک اور سیاسی مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس کی قیادت کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
مگر اس سارے سیاسی شور میں ایک سوال دب کر رہ گیا ہے:
خیبر پختونخوا کے عوام کہاں جائیں؟
وہ عوام جو بجلی کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، وہ اسلام آباد کا رخ کریں یا اپنے گھروں کو روشن کرنے کے لیے اپنے ہی منتخب نمائندوں کا گریبان پکڑیں؟
یہ سوال پاکستان تحریک انصاف کی مخالفت میں نہیں بلکہ حکمرانی کے بنیادی اصول کے تحت ہے۔
جس جماعت کو خیبر پختونخوا میں ایک دو نہیں بلکہ تیسری مسلسل حکومت کرنے کا موقع ملا، اس کے سامنے آج سب سے بڑا امتحان اسلام آباد کی سڑک نہیں جس پر چل کر وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرے گی، بلکہ اپنے صوبے کی وہ سڑکیں ہیں جہاں بجلی کے ستائے ہوئے عوام سراپا احتجاج ہیں۔
اسلام آباد فتح کرنے سے پہلے پشاور کو روشن کرنا ضروری ہے۔
عوام بجلی مانگ رہے ہیں۔
اور بجلی کسی سیاسی جماعت کا منشور، انتخابی وعدہ یا احتجاجی نعرہ نہیں؛ یہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
گھروں میں پنکھے بند ہیں۔ پانی کی موٹریں نہیں چل رہیں۔ چھوٹے کاروبار متاثر ہیں۔ دکاندار پریشان ہیں۔ طلبہ پڑھائی کے لیے بجلی ڈھونڈ رہے ہیں۔ گرمی میں بچے، خواتین اور بوڑھے اذیت میں ہیں۔ ہسپتالوں، دکانوں، کارخانوں اور دفاتر کا کام متاثر ہو رہا ہے۔
ایسے ماحول میں جب لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں تو اسے صرف سیاسی شرارت کہنا بھی عوام کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
لیکن احتجاج بھی اس وقت مسئلے کا حل نہیں رہتا جب وہ گرڈ سٹیشنوں میں داخل ہونے، اہلکاروں سے تصادم اور بجلی کے نظام کو زبردستی چلانے تک پہنچ جائے۔
گرڈ سٹیشن کوئی سیاسی جلسہ گاہ نہیں، بجلی کا نظام ہے؛ اسے یرغمال بنا کر عوام کو مستقل بجلی نہیں مل سکتی۔
اور پھر احتجاج کے نام پر اہم شاہراہیں بند کرنا؟
پیر کے روز تہکال کے عوام نے یونیورسٹی روڈ بند کیا۔ یہ کوئی گاؤں کی گلی نہیں بلکہ پشاور کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ اس کے اطراف بڑے سرکاری و نجی ہسپتال، درجنوں طبی مراکز، تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی دفاتر اور بڑے کاروباری مراکز قائم ہیں۔ یہی شاہراہ یونیورسٹی ٹاؤن، حیات آباد، ریگی للمہ ٹاؤن، عسکری سکس اور ڈی ایچ اے سمیت پشاور کی بڑی رہائشی آبادیوں کو ملاتی ہے اور آگے افغانستان اور وسطی ایشیا کی طرف جانے والی اہم اور واحد زمینی گزرگاہ ہے۔
اس سڑک کو بند کرنا صرف ٹریفک روکنا نہیں۔
یہ مریض کی یمبولینس روکتا ہے، طالب علم کا امتحان چھڑاتا ہے، ملازم کو دفتر سے منع کرتا ہے اور کاروبار کا پہیہ جام کرتا ہے۔
عوام بجلی مانگ رہے ہیں، مگر احتجاج کا بوجھ بھی آخرکار عوام ہی اٹھا رہے ہیں۔
اور اس سارے منظرنامے میں صوبائی حکومت کہاں ہے؟
یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔
کیونکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اب ڈیڑھ دہائی ہونے کو ہے۔
یہ چند ماہ یا ایک دو سال کا اقتدار نہیں۔
چودہ سال!
چودہ سال کسی حکومت کے لیے کم مدت نہیں ہوتی۔
اس دوران توانائی کے شعبے میں بڑے بڑے دعوے ہوئے۔ پن بجلی کے منصوبے، چھوٹے ڈیم، توانائی کی پیداوار اور صوبے کے قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کے وعدے کیے گئے۔
عمران خان کے دور میں خیبر پختونخوا میں سیکڑوں چھوٹے ڈیم بنانے کے منصوبوں اور اعلانات کا ذکر سامنے آتا رہا۔ 2014ء میں عمران خان کی طرف سے 350 اور اس سے زائد چھوٹے ڈیموں کے حوالے سے اعلانات بھی ریکارڈ پر رہے ہیں۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق 2024ء تک صوبے میں 26.7 ارب روپے کی لاگت سے 56 سمال ڈیمز مکمل کیے جا چکے تھے۔
تو سوال تو بنتا ہے:
اعلان کتنے تھے؟
منصوبے کتنے بنے؟
مکمل کتنے ہوئے؟
بجلی کتنی پیدا ہوئی؟
اور سب سے بڑا سوال:
چودہ سال بعد بھی خیبر پختونخوا کے عوام بجلی کے لیے سڑکوں پر کیوں ہیں؟
یہ سوال صرف عمران خان سے نہیں۔
یہ سوال پی ٹی آئی کی مسلسل صوبائی حکومتوں سے ہے۔
یہ سوال سابق وزرائے اعلیٰ سے ہے۔
یہ سوال موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی ہے۔
خیبر پختونخوا صرف بجلی استعمال کرنے والا صوبہ نہیں۔ یہ پانی، دریاؤں، پہاڑوں اور پن بجلی کے بے پناہ وسائل رکھنے والا صوبہ ہے۔
تربیلا یہاں ہے، دریا یہاں ہیں، پہاڑ یہاں ہیں، پانی یہاں ہے—پھر اندھیرا بھی یہیں کیوں ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کسی سیاسی نعرے سے نہیں دیا جا سکتا۔
اگر گزشتہ چودہ برس میں بجٹ تھا، حکومت تھی، اسمبلی تھی، بیوروکریسی تھی، قدرتی وسائل تھے اور سیاسی مینڈیٹ تھا تو پھر مستقل توانائی منصوبے کیوں نہیں بن سکے؟
بڑے پن بجلی منصوبے کیوں نہیں؟
چھوٹے ہائیڈل منصوبوں کا جال کیوں نہیں؟
شمسی توانائی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیوں نہیں؟
ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات پر سنجیدہ پیش رفت کیوں نہیں؟
دور دراز علاقوں کے لیے مقامی سولر گرڈ کیوں نہیں؟
بجلی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام کیوں نہیں؟
اور سب سے بڑھ کر وفاق کے ساتھ بجلی کی پیداوار، ترسیل، واجبات اور تقسیم کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا گیا؟
چودہ سال احتجاج کے لیے کافی ہیں؛ چودہ سال منصوبہ بندی اور تعمیر کے لیے بھی کافی ہونے چاہئیں۔
یوں شہر بہ شہر ، قریہ بہ قریہ ، کوبکو اور محلوں کو اندھیرے میں رکھنا حکمرانی کا کوئی قابلِ فخر ماڈل نہیں۔
وزیراعلیٰ کا سب سے بڑا سیاسی جلسہ اسلام آباد میں نہیں، پشاور کے بجلی سے محروم محلوں میں ہونے چاہئیں۔
چارسدہ کے عوام سے پوچھیں۔
صوابی کے عوام سے پوچھیں۔
مردان کے عوام سے پوچھیں۔
نوشہرہ، بنوں، کوہاٹ، ڈی آئی خان، سوات اور دوسرے اضلاع کے عوام سے پوچھیں۔
انہیں دھرنے، حملے اور لانگ مارچ چاہیئے یا بجلی؟
اگر اسلام آباد میں ہزاروں یا لاکھوں لوگ جمع کیے جا سکتے ہیں تو بجلی کے مسئلے پر پیسکو، واپڈا، نیپرا، وفاقی وزارت توانائی، صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر کیوں نہیں بٹھایا جا سکتا؟
اسلام آباد کے لیے قافلہ بعد میں، بجلی کے لیے میز پہلے۔
عوام کو نعرے نہیں، بجلی چاہیے۔
عوام کو دھرنے نہیں، بجلی چاہیے۔
عوام کو لانگ مارچ نہیں، بجلی چاہیے۔
عوام کو پنکھا چلانے کے لیے بجلی چاہیے۔
بچے پڑھ سکیں، اس کے لیے بجلی چاہیے۔
دکاندار کا کاروبار چل سکے، اس کے لیے بجلی چاہیے۔
مریض کا علاج جاری رہے، اس کے لیے بجلی چاہیے۔
اور کسان کا پانی کا پمپ چل سکے، اس کے لیے بھی بجلی چاہیے۔
عمران خان کے مقدمات، ان کی سزا، جیل میں ان کے حالات اور ان سے ملاقاتوں کے معاملات پر پی ٹی آئی کو اپنے مؤقف کے اظہار اور قانونی جدوجہد کا پورا حق حاصل ہے۔
لیکن اگر پی ٹی آئی کا مؤقف یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا تو اس کا سب سے مضبوط راستہ عدالت، اپیل، قانونی درخواست اور آئینی جدوجہد ہے۔
سڑک پر احتجاج جمہوری حق ہے۔
اختلاف جمہوری حق ہے۔
حکومت پر تنقید جمہوری حق ہے۔
لیکن احتجاج کو تصادم میں تبدیل کرنا نہ عمران خان کے مسئلے کو حل کرتا ہے اور نہ خیبر پختونخوا کے عوام کا۔
گرڈ سٹیشن پر چڑھائی حل نہیں۔
پولیس سے ٹکراؤ حل نہیں۔
شاہراہیں بند کرنا حل نہیں۔
اسلام آباد کو میدانِ جنگ بنانا بھی حل نہیں۔
پاکستان کو اس وقت ایک اور محاذ نہیں، ایک میز چاہیے۔
حکومت اور پی ٹی آئی بیٹھیں۔
جو مقدمات عدالتوں میں ہیں، انہیں عدالتوں میں چلنے دیا جائے۔
جو سیاسی معاملات مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں، انہیں مذاکرات سے حل کیا جائے۔
جو آئینی سوالات ہیں، انہیں آئینی اداروں کے سامنے رکھا جائے۔
اور خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی پوری توانائی اپنے صوبے پر خرچ کرے۔
کیونکہ یہ کیسا سیاسی منظر ہے کہ صوبے کے عوام بجلی کے لیے سڑکوں پر ہوں اور صوبائی حکومت اسلام آباد جانے کی تیاری کر رہی ہو؟
پہلے پشاور کو روشن کرو، پھر اسلام آباد جاؤ۔
یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف نعرہ نہیں۔
یہ ایک حکومت کو عوام کا مشورہ ہے۔
اور اگر واقعی 27 ستمبر کو اسلام آباد جانا ہی ہے تو جانے سے پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عوام کے سامنے صرف سیاسی تقریر نہ کریں، توانائی کا حساب بھی دیں۔
گزشتہ چودہ برس میں کتنے پن بجلی منصوبے مکمل ہوئے؟
کتنی بجلی پیدا ہوئی؟
کتنے سمال ڈیم بنے؟
کتنے منصوبے زیر تعمیر ہیں؟
کتنے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں؟
شمسی توانائی کے کتنے منصوبے لگے؟
ہوا سے بجلی کے کتنے منصوبے شروع ہوئے؟
وفاق سے بجلی کے معاملے پر کتنے معاہدے ہوئے؟
پیسکو کے ساتھ کیا مستقل نظام بنایا گیا؟
اور اگلے تین سال میں خیبر پختونخوا اپنی بجلی کی ضرورت کا کتنا حصہ خود پیدا کرے گا؟
عوام کو جواب چاہیے۔
اور جواب تقریر میں نہیں، اعداد میں چاہیے۔
کیونکہ عوام اب وعدے نہیں، پنکھا چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت ایک نئے سیاسی معرکے سے زیادہ توانائی انقلاب کی ضرورت ہے۔
پانی موجود ہے۔
دریا موجود ہیں۔
پہاڑ موجود ہیں۔
سورج موجود ہے۔
ہوا موجود ہے۔
وسائل موجود ہیں۔
صلاحیت موجود ہے۔
کمی صرف مستقل پالیسی، شفاف انتظام، سرمایہ کاری، وفاق سے بہتر تعلقات اور سیاسی ارادے کی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی رواداری محض اخلاقی خوبی نہیں بلکہ قومی ضرورت بن جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت سے اختلاف کرے، احتجاج کرے، سوال اٹھائے—یہ جمہوریت ہے۔
حکومت پی ٹی آئی سے اختلاف کرے، جواب دے، اپنا مؤقف پیش کرے—یہ بھی جمہوریت ہے۔
لیکن ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر ملک کو مسلسل احتجاج، تصادم اور سڑکوں کی سیاست میں دھکیلنا کسی کے حق میں نہیں۔
عمران خان کا معاملہ عدالتوں میں حل ہونا چاہیے۔
حکومت کا معاملہ پارلیمان اور انتخابات میں حل ہونا چاہیے۔
اور خیبر پختونخوا کا بجلی کا مسئلہ حکومت کے دفتر میں حل ہونا چاہیے۔
عوام کو ہر مسئلے کے حل کے لیے اسلام آباد جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔
کیونکہ جس دن عوام یہ سمجھ لیں کہ حکومتیں ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑنے میں مصروف ہیں، اس دن سیاسی نظام سے ان کا اعتماد اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔
آج خیبر پختونخوا کی سڑکوں سے ایک آواز بلند ہو رہی ہے:
ہمیں کیا چاہیے؟
سیاست بھی۔
جمہوریت بھی۔
اپنے حقوق بھی۔
لیکن سب سے پہلے؟
بجلی۔
اور اسلام آباد کی طرف جانے والے ہر سیاسی قافلے سے پہلے خیبر پختونخوا کے عوام کا ایک ہی سوال ہونا چاہیے:
"ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر اسلام آباد پر چڑھائی کیوں؟
پہلے خیبر پختونخوا کو بجلی دو، پھر اسلام آباد جاؤ!"
واپس کریں