دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا حکومت کی زیرو تعلیمی پالیسی
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں تعلیم کے نام پر دعوے بہت ہیں، اعلانات بہت ہیں، اجلاس بہت ہیں، مگر جب ان دعووں کو سکول کی زمینی حقیقت کے سامنے کھڑا کیا جائے تو تصویر خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ صوبے کے 1,507 سکول آج بھی چاردیواری جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ محض اینٹوں، سیمنٹ اور تعمیراتی کام کا مسئلہ نہیں؛ یہ بچوں کے تحفظ، طالبات کی رازداری، اساتذہ کے لیے محفوظ ماحول اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری کا سوال ہے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کوہستان لوئر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 204 سکولوں کی چاردیواری موجود نہیں۔ مانسہرہ میں 169، کوہستان اپر میں 160، بٹگرام میں 118، کولائی پالس میں 113 اور ایبٹ آباد میں 110 سکول اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ شانگلہ کے 72، جنوبی وزیرستان اپر کے 66 اور خیبر کے 43 سکول بھی چاردیواری کے بغیر چل رہے ہیں۔
صرف ان نو اضلاع کا حساب لگائیں تو تعداد 1,055 سکول بنتی ہے، یعنی صوبے بھر کے چاردیواری سے محروم سکولوں کا تقریباً 70 فیصد۔ باقی 452 سکول صوبے کے دوسرے اضلاع میں موجود ہیں جہاں بچے اور بچیاں ایک ایسے تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کی بنیادی حدود تک محفوظ نہیں۔
یہاں حکومت سے ایک سادہ سا سوال بنتا ہے: کیا چاردیواری بھی اب خیبر پختونخوا کے سکولوں کے لیے کوئی عیاشی ہے؟
چاردیواری محض ایک دیوار نہیں ہوتی۔ سکول کی چاردیواری بچوں کو باہر کے غیر متعلقہ افراد سے تحفظ فراہم کرتی ہے، طالبات کو ضروری رازداری دیتی ہے، سکول کی حدود متعین کرتی ہے اور تعلیمی ماحول کو محفوظ بناتی ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سماجی، جغرافیائی اور امن و امان کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، وہاں سکول کو کھلا چھوڑ دینا انتظامی معمولی کوتاہی نہیں ہو سکتی۔
تعلیم کے میدان میں حکومت کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ کتنے نئے اعلانات کیے گئے، کتنے اجلاس منعقد ہوئے یا کتنی مرتبہ تعلیمی اصلاحات کا ذکر تقریروں میں آیا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ ایک عام بچے کو حکومت نے کتنا محفوظ، باوقار اور معیاری سکول فراہم کیا۔
اگر ایک بچہ صبح گھر سے نکل کر سکول پہنچتا ہے اور وہاں اسے چاردیواری تک میسر نہیں تو پھر تعلیمی انقلاب کے دعوے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اگر ایک طالبہ ایسے سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہے جس کی حدود محفوظ نہیں تو حکومت کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتیں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے اعدادوشمار پیش کرتی ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں، پل بنتے ہیں، عمارتیں بنتی ہیں، افتتاحی تختیاں لگتی ہیں، تقریبات ہوتی ہیں، تصاویر بنتی ہیں اور پھر انہی تصاویر کو کارکردگی کی دستاویز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف 1,507 سکول بنیادی چاردیواری کے انتظار میں ہیں۔
یہ سوال صرف موجودہ حکومت سے نہیں بلکہ پورے تعلیمی انتظامی ڈھانچے سے ہے۔ آخر سکولوں کی بنیادی ضروریات کا تعین کس بنیاد پر ہوتا ہے؟ ترقیاتی ترجیحات کون طے کرتا ہے؟ جن سکولوں میں چاردیواری موجود نہیں، وہاں سالانہ بنیادوں پر کتنے بچے زیر تعلیم ہیں؟ کتنی طالبات ہیں؟ کتنے سکول حساس یا دور دراز علاقوں میں واقع ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت نے ان 1,507 سکولوں کے لیے مکمل، واضح اور مقررہ مدت پر مشتمل منصوبہ کیوں نہیں بنایا؟
حکومت اگر واقعی تعلیم کو اپنی ترجیح سمجھتی ہے تو اسے بڑے دعووں سے پہلے چھوٹی مگر بنیادی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔ ایک سکول کی چاردیواری شاید سیاسی تقریر کا موضوع نہ بنے، اس پر کوئی بڑا افتتاحی جلسہ بھی نہ ہو، اس کے لیے کوئی شاندار بینر بھی نہ لگے، مگر ایک بچے کے لیے اس دیوار کی اہمیت کسی بڑے منصوبے سے کم نہیں۔
تعلیمی پالیسی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ حکمران تعلیم کے بارے میں کیا کہتے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست نے بچے کے لیے کیا کیا ہے۔
اور خیبر پختونخوا میں آج کا ایک بڑا سوال یہی ہے کہ اگر 1,507 سکولوں کی بنیادی چاردیواری بھی مکمل نہیں ہو سکی تو پھر ہم کس تعلیمی انقلاب کی بات کر رہے ہیں؟
یہ صورت حال حکومت کو آئینہ دکھاتی ہے۔ آئینے میں تقریریں نظر نہیں آتیں، حقیقت نظر آتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ صوبے کے ہزاروں بچے ایسے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں جہاں ان کے تعلیمی ادارے کی بنیادی حدود تک محفوظ نہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی پالیسی کے بڑے بڑے نعروں سے نکل کر سکول کی چار دیواری، صاف پانی، واش روم، بجلی، فرنیچر، اساتذہ اور بنیادی حفاظتی سہولیات جیسے حقیقی مسائل کو اپنی پہلی ترجیح بنائے۔ کیونکہ تعلیم کا آغاز جدید نصاب سے پہلے محفوظ سکول سے ہوتا ہے۔
ورنہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں:
جس صوبے کے 1,507 سکول آج بھی چاردیواری کے منتظر ہوں، وہاں تعلیمی پالیسی آخر کتنی ہے؟
اعدادوشمار کا جواب بہت تلخ ہے:
تقریروں میں شاید بہت زیادہ، مگر زمینی حقیقت میں تقریباً زیرو۔
واپس کریں