دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بڑے لوگوں کی لوٹ مار کی کہانی؛ عدالتی اور انتظامی ریکارڈ کی زبانی
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
فلائنگ کرافٹ پیپر ملز چارسدہ کی زمین کے خردبرد کا معاملہ اور حقیقی سوالات
چارسدہ کی نوشہرہ روڈ پر واقع فلائنگ کرافٹ پیپر ملز کی اراضی کا معاملہ محض ایک صنعتی زمین، ہاؤسنگ سکیم یا مبینہ غیر قانونی پلاٹنگ کا تنازع نہیں رہا۔ دستیاب سرکاری اور عدالتی دستاویزات کو 2011ء سے 2026ء تک ایک مسلسل سلسلے کے طور پر دیکھا جائے تو ایک ایسی پیچیدہ قانونی و انتظامی داستان سامنے آتی ہے جس میں 1100 کنال سے زائد اراضی، صنعتی مقصد کے لیے حاصل کی گئی زمین، عوامی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کی منظوری، اسی منظوری کی منسوخی، ہائی کورٹ کا فیصلہ، سابقہ مالکان کو زمین واپس کرنے کا حکم، اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا حکمِ امتناعی، بعد ازاں ہاؤسنگ سکیم، سکول کی زمین، ریونیو انتقالات، مبینہ پلاٹنگ، صنعتی زمین کے استعمال سے متعلق وعدے اور معاہدے، سابق مزدوروں کے بقایا جات اور بالآخر 2026ء میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائی ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ نہیں کہ اس زمین پر کس کا دعویٰ درست ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 1100 کنال اراضی کی قانونی حیثیت مختلف عدالتی اور انتظامی مراحل سے گزرنے کے بعد آج کیا ہے، اور اس دوران زمین پر ہونے والی ہر تبدیلی کس قانونی اختیار کے تحت ہوئی؟
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے بارے میں محض زبانی دعوے نہیں بلکہ متعدد سرکاری خطوط، ریونیو ریکارڈ، نقشے، این او سیز، عدالتی احکامات، معاہدات اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں سے متعلق دستاویزات دستیاب ہیں۔
کہانی 2011ء سے شروع ہوتی ہے، لیکن اس سال کے واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم عدالتی پس منظر سامنے رکھنا ضروری ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق 2011ء میں 1100 کنال سے زائد اراضی کے حوالے سے ہاؤسنگ، فارم ہاؤسز، ہسپتال اور انگلش میڈیم سکول جیسے عوامی و سماجی مقاصد کے لیے استعمال کا معاملہ سامنے آیا۔ 9 اگست 2011ء کو ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز اینڈ کامرس خیبر پختونخوا کی جانب سے خط نمبر 4424/1/1/IND کے ذریعے مذکورہ اراضی کے استعمال کے حوالے سے این او سی جاری کیا گیا۔
لیکن اسی معاملے میں ایک نہایت اہم دستاویز سامنے آتی ہے جس کے مطابق مذکورہ این او سی کو محکمہ صنعت نے اگلے ہی روز منسوخ کر دیا تھا۔
یہ نقطہ پوری کہانی کی قانونی سمت تبدیل کر دیتا ہے۔
کیونکہ اگر ایک طرف 1100 کنال زمین کے استعمال کے لیے این او سی جاری ہوا اور دوسری طرف وہ اگلے ہی روز منسوخ بھی کر دیا گیا تو پھر یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعد کی عدالتی کارروائی میں اس منسوخی کے حکم کی کیا حیثیت تھی اور کیا یہ حکم مکمل طور پر عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا؟
اسی عرصے میں سابق مالکان اور محکمہ صنعت کی جانب سے اس معاملے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق جسٹس وقار سیٹھ کے روبرو معاملہ آیا اور 1100 کنال اراضی کے حوالے سے پہلے جاری کیے گئے حکم اور اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔
عدالتی کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ عدالت کے سامنے 1100 کنال اراضی کے عوامی مقاصد کے لیے استعمال سے متعلق سابقہ کارروائی زیرِ بحث آئی۔ اگر دستیاب دستاویزات میں موجود محکمہ صنعت کی جانب سے اگلے روز جاری کیا گیا منسوخی کا حکم اس وقت موجود تھا تو اس کا عدالتی کارروائی پر اثر ایک ایسا سوال ہے جس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔
یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی دستاویز کے عدالت کے سامنے پیش نہ کیے جانے کو محض قیاس کی بنیاد پر دانستہ فراڈ یا عدالت کو دھوکا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل عدالتی فیصلہ، اس کے ساتھ منسلک ریکارڈ اور مقدمے کی کارروائی ہی یہ طے کر سکتی ہے کہ عدالت کے سامنے کون سی معلومات موجود تھیں اور کون سی نہیں تھیں۔
عدالتی فیصلے کے نتیجے میں سابقہ مالکان کو زمین واپس کرنے کا حکم بھی سامنے آیا۔ اس کا بنیادی پس منظر یہ تھا کہ جو اراضی عوامی مقصد اور ترقیاتی ضرورت کے تحت حاصل کی گئی تھی، اگر وہ مقصد برقرار نہیں رہا یا زمین اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوئی تو اس کی قانونی حیثیت کا دوبارہ تعین ضروری تھا۔
یہاں سے معاملہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف حاجی غلام علی سابق گورنر خیبرپختونخوا اور جمعیت علماء اسلام ( فضل الرحمان ) کے صف اول کے راہنما اور دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا گیا اور 2016ء میں حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا۔
یہ حکمِ امتناعی اس پوری زمین کی بعد کی تاریخ کا ایک مرکزی قانونی نقطہ ہے۔
کیونکہ اگر سپریم کورٹ نے 2016ء میں ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا تھا تو اس کے بعد اس مقدمے کا حتمی انجام کیا ہوا؟ کیا سپریم کورٹ نے بعد میں کوئی فیصلہ جاری کیا؟ اگر فیصلہ نہیں ہوا تو مقدمہ آج کس حیثیت میں ہے؟ اور اس دوران 1100 کنال اراضی پر ہونے والی انتظامی، بلدیاتی، ریونیو اور تعمیراتی سرگرمیوں کی قانونی بنیاد کیا تھی؟
دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ مقدمے کے عدالتی ریکارڈ کی موجودہ دستیابی اور فائل کی صورتحال بھی ایک الگ اور نہایت سنجیدہ سوال بن چکی ہے۔ اس معاملے کی حتمی تصدیق سپریم کورٹ کے اصل عدالتی ریکارڈ سے ہی ممکن ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: اگر کسی زمین کی ملکیت یا واپسی سے متعلق معاملہ اعلیٰ ترین عدالت میں زیرِ سماعت ہو اور اس پر حکمِ امتناعی موجود ہو تو اس عرصے کے دوران زمین پر ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کی قانونی حیثیت واضح ہونی چاہیے۔
لیکن دستیاب ریکارڈ اس کہانی کو یہیں ختم نہیں کرتا۔
1100 کنال اراضی کے معاملے کے متوازی بعد کے برسوں میں حاجی ترنگزئی بابا ہاؤسنگ سکیم کا معاملہ سامنے آتا ہے۔
21 اگست 2014ء کو میونسپل کمیٹی چارسدہ نے حاجی ترنگزئی بابا ہاؤسنگ سکیم کے لیے این او سی جاری کیا۔ اس این او سی میں منظور شدہ ڈیزائن اور ماسٹر پلان میں مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر تبدیلی نہ کرنے اور نئی تعمیرات کے لیے متعلقہ بلدیاتی ادارے کی تکنیکی منظوری کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عدالتی اور انتظامی ریکارڈ ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
26 اکتوبر 2020ء کو ٹی ایم اے چارسدہ نے ڈپٹی کمشنر چارسدہ کو خط نمبر 3939/TMA ارسال کیا، جس کا موضوع ہی تھا:
"Illegal Demolish of Existing School Building in the Approved Master Plan"
ٹی ایم اے کے خط میں بتایا گیا کہ منظور شدہ ماسٹر پلان میں شامل سکول کی عمارت کو مسمار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور متعدد نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ تقریباً 23 کنال 2 مرلہ کے پلاٹ کا ذکر کرتے ہوئے پولیس کارروائی اور ٹی ایم اے عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔
یہ سرکاری خط ایک نہایت بنیادی سوال اٹھاتا ہے:
اگر سکول کی زمین اور عمارت منظور شدہ ماسٹر پلان کا حصہ تھی تو اسے مسمار کرنے کی اجازت کس مجاز اتھارٹی نے دی؟
اور اگر ایسی کوئی اجازت موجود نہیں تھی تو بعد میں اس زمین کے استعمال میں تبدیلی کس قانونی اختیار کے تحت ہوئی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ 2011ء کے ریکارڈ میں اسی وسیع اراضی کے لیے سکول اور ہسپتال جیسے عوامی مقاصد کا ذکر موجود ہے، جبکہ 2014ء کے ہاؤسنگ سکیم کے این او سی میں ماسٹر پلان کی پابندی عائد کی گئی اور 2020ء میں خود ٹی ایم اے نے منظور شدہ ماسٹر پلان میں موجود سکول کی عمارت کی مبینہ مسماری کے خلاف ضلعی انتظامیہ سے کارروائی طلب کی۔
2014ء کا ایک اور سرکاری حکم اس معاملے کو مزید حساس بناتا ہے۔
24 فروری 2014ء کو ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے خط نمبر DC (CHD) 138/HCR کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر چارسدہ کو فلائنگ کرافٹ پیپر ملز کی اراضی کے انتقالات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیں۔
اس حکم میں سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے 1100 کنال اراضی کے مختلف استعمالات، جن میں ہاؤسنگ سکیم، زرعی فارم ہاؤسز، انگلش میڈیم سکول اور ہسپتال شامل تھے، کا ذکر کیا گیا۔
لیکن اسی حکم کا سب سے اہم حصہ 183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا سے متعلق تھا۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایت دی کہ فیکٹری ایریا کو متاثر نہ کیا جائے اور اس رقبے پر انتقال نہ کیا جائے۔ متعلقہ ریونیو عملے کو مخصوص خسرہ نمبرز کی واضح نشاندہی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ اس رقبے میں کسی قسم کا لین دین نہ ہو سکے۔
یہ حکم اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک سرکاری افسر نے مخصوص رقبے کی ریونیو شناخت کرتے ہوئے اس پر انتقال کی پابندی عائد کی تھی۔
اب سوال یہ ہے:
2014ء میں انتقال سے محفوظ قرار دی گئی 183 کنال 19 مرلہ زمین آج بھی اسی قانونی حیثیت میں ہے یا نہیں؟
اگر ہے تو اس پر موجودہ پلاٹنگ، تعمیرات یا کسی بھی قسم کی ملکیتی تبدیلی کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
اور اگر نہیں تو اس زمین کی حیثیت کب، کس حکم کے تحت اور کس مجاز اتھارٹی نے تبدیل کی؟
اسی 2014ء کے تناظر میں ایک اور اہم دستاویز سامنے آتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اسی سال ملز مالکان غلام علی سینٹر، عبدالرشید اور سینٹر دلاور خان اور پیپر ملز کے سابق مزدوروں کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوا، جس کے ضامن اس وقت کے جمعیت علماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا گوہر شاہ تھے۔
اس معاہدے میں 183 کنال 19 مرلہ صنعتی علاقے کو صنعتی مقصد کے لیے استعمال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ایک سٹیل مل زیرِ تعمیر تھی جسے جلد مکمل کرنے، اس کے ساتھ گھی مل، جپسم مل اور فلور مل قائم کرنے اور سابق مزدوروں کے بچوں کو روزگار فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ زمین کو صنعتی زون اور چارسدہ کی ترقی و فلاح و بہبود کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ اپنے اندر ایک اہم سوال رکھتا ہے۔
اگر 183 کنال 19 مرلہ زمین صنعتی مقصد کے لیے برقرار رکھنے، نئی صنعتیں قائم کرنے اور سابق مزدوروں کے بچوں کو روزگار دینے کا باقاعدہ وعدہ کیا گیا تھا تو پھر اس وعدے پر بعد میں کس حد تک عمل ہوا؟
دستیاب معلومات کے مطابق بعد میں اس معاہدے پر عملی طور پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہاں معاملہ صرف زمین کے استعمال تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ ان سابق مزدوروں کے مالی حقوق کا سوال بھی جڑ جاتا ہے جنہوں نے اس صنعتی ادارے میں کام کیا تھا۔ دستیاب دعووں کے مطابق ان مزدوروں کے بقایا جات بھی آج تک انہیں مکمل طور پر نہیں مل سکے۔
اگر یہ دعویٰ متعلقہ لیبر ریکارڈ، معاہدات، عدالتی فیصلوں یا بقایا جات کے مستند ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملے کا ایک نہایت اہم انسانی پہلو ہے۔
کیونکہ جس زمین کے بارے میں صنعتی پیداوار، روزگار، سابق مزدوروں کے بچوں کے مستقبل اور چارسدہ کی ترقی و فلاح و بہبود کے وعدے کیے گئے تھے، وہاں یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ ان وعدوں کے اصل مستحقین کو آخر کیا ملا؟
دستیاب ریونیو ریکارڈ میں 183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا سے متعلق متعدد خسرہ نمبرز سامنے آتے ہیں۔ 2013-14ء کے ریکارڈ میں متعلقہ نمبرز موجود ہیں، جبکہ 19 اکتوبر 2023ء کی رپورٹ اور 4 مارچ 2024ء کے دستخط شدہ ریکارڈ میں بھی متعلقہ اراضی نمبرز اور فیکٹری ایریا کے طور پر 183 کنال 19 مرلہ کی نشاندہی موجود ہے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر 2014ء کے ڈپٹی کمشنر کے حکم میں جن خسرہ نمبرز کو فیکٹری ایریا قرار دے کر انتقال سے محفوظ کیا گیا تھا، وہی نمبرز بعد کے ریونیو ریکارڈ میں بھی موجود ہیں، تو پھر ان پر ہونے والی موجودہ سرگرمیوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
2023ء میں معاملہ دوبارہ سرکاری اداروں تک پہنچتا ہے۔
25 اکتوبر 2023ء کو علی نواز خان نے ٹی ایم او چارسدہ کو درخواست دے کر فلائنگ کرافٹ پیپر ملز کے صنعتی علاقے میں مبینہ غیر قانونی پلاٹنگ، تعمیرات اور دکانوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔
ایک دوسری درخواست میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور ٹی ایم او کو مخاطب کرتے ہوئے سکول کے لیے مختص اراضی پر مبینہ قبضے، فروخت اور رہائشی و تجارتی پلاٹنگ کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ ان درخواستوں میں عائد الزامات کو خودبخود ثابت شدہ حقیقت نہ سمجھا جائے۔ لیکن یہ درخواستیں اس وقت اہم دستاویزی حیثیت اختیار کرتی ہیں جب ان سے پہلے سرکاری ریکارڈ میں زمین، فیکٹری ایریا، سکول اور ماسٹر پلان کے حوالے سے متعدد احکامات موجود ہوں اور بعد میں ضلعی انتظامیہ خود اسی علاقے میں تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کرے۔
اور پھر 2026ء آتا ہے۔
8 جنوری 2026ء کو ڈپٹی کمشنر چارسدہ کے سرکاری بیان کے مطابق صوبائی حکومت کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں اسسٹنٹ کمشنر چارسدہ نے نوشہرہ روڈ پر واقع فلائنگ کرافٹ پیپر ملز اور شوگر ملز کا دورہ کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق صنعتی اراضی پر غیر قانونی تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کا سخت نوٹس لیا گیا، چار افراد کو گرفتار کیا گیا اور تجاوزات ختم کی گئیں۔
یہ کارروائی پوری داستان میں ایک اہم موڑ ہے۔
کیونکہ اگر جنوری 2026ء میں صنعتی اراضی پر غیر قانونی تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کو کارروائی کرنا پڑی تو پھر یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ یہ تعمیرات کب شروع ہوئیں، کس رقبے پر ہوئیں، کس ریونیو حیثیت کے تحت ہوئیں اور متعلقہ اداروں نے اس سے پہلے کیا کارروائی کی؟
یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جنوری 2026ء کی کارروائی میں جن مقامات کو تجاوزات قرار دیا گیا، ان کے خسرہ نمبرز کیا تھے اور آیا وہ 2014ء کے ڈپٹی کمشنر کے حکم میں محفوظ قرار دیے گئے 183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔
اسی تناظر میں بعض افراد کی جانب سے موجودہ دور میں صنعتی اراضی کی مبینہ خریدوفروخت اور پلاٹنگ کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں میں میاں محمد یاسر کا نام لیا جاتا ہے جو سیکریٹری انڈسٹریز میاں عادل اقبال کا کزن بتایا جاتا ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کو رام کرنے کی ذمہ داری اس نے اٹھاتے ہوئے داؤد نامی شخص کے ذریعے مختلف افراد کو فائلوں کی صورت میں زمین کی فروخت کی کوششیں کی جارہی ہے۔ یہ الزام بھی زبان زد عام ہے کہ بابر اعجاز احمد عرف عرفانے جو پولیس کو اقدام قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب ہے مخالف آوازوں کو طاقت کے ذریعے دبا رہا ہے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ عرفانے کو مقامی پولیس کی سہولت کاری بھی حاصل ہے۔
ان دعوؤں کی آزادانہ اور مکمل تصدیق ضروری ہے۔
اگر کسی فرد کی جانب سے ایسی زمین کی فائلیں فروخت کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے جس کی ریونیو حیثیت، عدالتی حیثیت یا منتقلی پر سرکاری پابندی موجود ہو تو اصل سوال کسی فرد کا نام نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ ایسی فائلیں کس قانونی ملکیت، منظوری، لے آؤٹ اور ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر جاری یا فروخت ہوئیں؟
اسی طرح بعض حلقوں کی جانب سے بعض سرکاری افسران اور مذکورہ افراد کے درمیان رشتہ داری یا تعلق کا دعویٰ بھی سامنے آتا ہے۔ اس دعوے کو بھی صرف اسی صورت میں حتمی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جب اس کی قابلِ اعتماد دستاویزی تصدیق موجود ہو۔
اس پوری کہانی میں اصل ضرورت کسی فرد کو مجرم قرار دینا نہیں بلکہ زمین کے ریکارڈ کو ایک جگہ جمع کرکے اس کے قانونی تسلسل کو سامنے لانا ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا کے سامنے اب چند انتہائی واضح سوالات ہیں۔
1100 کنال اراضی اصل میں کس قانونی مقصد کے لیے حاصل کی گئی تھی؟
2011ء میں محکمہ صنعت کی جانب سے جاری ہونے والا این او سی اگلے روز منسوخ ہوا یا نہیں؟
اگر منسوخ ہوا تو اس منسوخی کا عدالتی کارروائی میں کیا کردار تھا؟
ہائی کورٹ نے سابقہ مالکان کو زمین واپس کرنے کا حکم کس قانونی بنیاد پر دیا؟
2016ء میں سپریم کورٹ نے کس بنیاد پر حکمِ امتناعی جاری کیا؟
اس مقدمے کا موجودہ عدالتی سٹیٹس کیا ہے؟
کیا اس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ ہوا؟
اگر نہیں ہوا تو 2016ء کے بعد 1100 کنال اراضی پر ہاؤسنگ سکیم، تعمیرات، پلاٹنگ اور دیگر سرگرمیوں کی قانونی بنیاد کیا تھی؟
حاجی ترنگزئی بابا ہاؤسنگ سکیم کا مکمل منظور شدہ ماسٹر پلان کیا ہے؟
سکول کے لیے مختص تقریباً 23 کنال 2 مرلہ زمین کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے؟
2020ء میں جس سکول کی عمارت کی مسماری کے خلاف ٹی ایم اے نے کارروائی طلب کی تھی، اس کے بعد کیا کارروائی ہوئی؟
2014ء کے مزدوروں اور ملز مالکان کے معاہدے پر کتنا عمل ہوا؟
سٹیل مل، گھی مل، جپسم مل اور فلور مل کے قیام کے وعدوں کی کیا حیثیت رہی؟
سابق مزدوروں کے بقایا جات کا کیا بنا؟
183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا کے اصل خسرہ نمبرز کون سے ہیں؟
2014ء کے بعد ان نمبروں پر کوئی انتقال، رجسٹری، تقسیم، رہن یا ملکیتی تبدیلی ہوئی یا نہیں؟
اگر ہوئی تو کس حکم کے تحت؟
2023ء کی شکایات پر متعلقہ اداروں نے کیا کارروائی کی؟
اور 8 جنوری 2026ء کو جن تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی ہوئی، ان کے خسرہ نمبرز، مالکان، نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی؟
یہ سوالات کسی سیاسی جماعت، کسی حکومت یا کسی فرد کے خلاف نہیں۔
یہ ریاستی ریکارڈ، عدالتی احکامات، ریونیو قانون اور عوامی مفاد کے سوالات ہیں۔
اگر تمام معاملات قانون کے مطابق ہوئے ہیں تو مکمل ریکارڈ سامنے آنے سے تمام شکوک ختم ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر کسی مرحلے پر عدالتی حکم، سرکاری این او سی، ریونیو پابندی، منظور شدہ ماسٹر پلان، صنعتی استعمال کی شرط یا زمین کی اصل قانونی حیثیت سے انحراف ہوا ہے تو اس کا تعین بھی صرف ایک مکمل اور غیر جانب دار انکوائری سے ہو سکتا ہے۔
اس لیے ضرورت کسی ایک محکمے کی داخلی رپورٹ کی نہیں بلکہ محکمہ مال، محکمہ صنعت، بلدیاتی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ عدالتی ریکارڈ کو ایک جگہ رکھ کر 1100 کنال اراضی کی مکمل قانونی تاریخ مرتب کرنے کی ہے۔
2011ء کا اصل ریکارڈ۔
محکمہ صنعت کا اصل این او سی اور اس کی منسوخی۔
متعلقہ ہائی کورٹ کا مکمل فیصلہ۔
سابقہ مالکان کو زمین واپس کرنے سے متعلق حکم۔
2016ء کا سپریم کورٹ کا حکمِ امتناعی۔
اس مقدمے کی تمام بعد کی آرڈر شیٹس اور موجودہ عدالتی حیثیت۔
2014ء کا ڈپٹی کمشنر کا حکم۔
183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا کے تمام خسرہ نمبرز۔
2014ء کا ملز مالکان اور سابق مزدوروں کے درمیان معاہدہ۔
اس معاہدے میں کیے گئے صنعتی اور روزگار کے وعدوں کا ریکارڈ۔
سابق مزدوروں کے بقایا جات سے متعلق ریکارڈ۔
حاجی ترنگزئی بابا ہاؤسنگ سکیم کا منظور شدہ ماسٹر پلان۔
2020ء کا ٹی ایم اے خط۔
2023ء کی درخواستیں اور ان پر ہونے والی کارروائی۔
2023ء اور 2024ء کے ریونیو ریکارڈ۔
اور 2026ء کی تجاوزات کے خلاف کارروائی۔
ان تمام دستاویزات کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو شاید وہ سوال بھی جواب پا جائے گا جو گزشتہ پندرہ برس سے اس زمین کے گرد گردش کر رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ زمین کس نے بیچی۔
اصل سوال یہ ہے کہ زمین قانونی طور پر کس حیثیت میں تھی، کس حکم کے تحت کس کے اختیار میں تھی، اور اس حیثیت میں تبدیلی کب اور کیسے ہوئی؟
اگر 183 کنال 19 مرلہ فیکٹری ایریا کو 2014ء میں انتقال سے محفوظ قرار دیا گیا تھا تو اس کے بعد اس کی ایک ایک تبدیلی کا ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔
اگر 1100 کنال زمین کی واپسی کا عدالتی حکم موجود تھا اور 2016ء میں سپریم کورٹ نے اس کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا تھا تو اس مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت بھی واضح ہونی چاہیے۔
اگر ہاؤسنگ سکیم کا ماسٹر پلان منظور شدہ تھا تو اس کے اندر سکول، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولتوں کے لیے مختص اراضی کی موجودہ صورتحال سامنے آنی چاہیے۔
اگر 2014ء میں صنعتی علاقے کو صنعتی پیداوار، روزگار اور چارسدہ کی ترقی و فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کا معاہدہ ہوا تھا تو اس پر عمل درآمد کی مکمل تفصیل بھی سامنے آنی چاہیے۔
اور اگر سابق مزدوروں کے بقایا جات آج تک ادا نہیں ہوئے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں نے کیا کیا۔
اور اگر 2026ء میں صنعتی اراضی پر غیر قانونی تجاوزات موجود تھیں تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ وہاں تک کیسے پہنچیں۔
یہ صرف چارسدہ کی ایک زمین کا سوال نہیں۔
یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ ریاستی ریکارڈ میں درج زمین کی قانونی حیثیت کو کوئی شخص، ادارہ یا طاقت کس اختیار کے تحت تبدیل کر سکتا ہے۔
اس لیے حکومت خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ 1100 کنال اراضی کا مکمل ریکارڈ طلب کرے، متعلقہ خسرہ نمبرز کی ازسرِنو پیمائش اور تصدیق کرائے، گزشتہ پندرہ برس کے تمام انتقالات اور رجسٹریوں کی جانچ کرے، منظور شدہ ماسٹر پلان اور موجودہ تعمیرات کا تقابلی سروے کرائے، صنعتی استعمال سے متعلق معاہدات اور ان پر عمل درآمد کی جانچ کرے، سابق مزدوروں کے بقایا جات کا ریکارڈ طلب کرے اور 2011ء سے آج تک جاری ہونے والے تمام عدالتی و انتظامی احکامات کو ایک جامع رپورٹ کا حصہ بنائے۔
ساتھ ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت رہنے والے مقدمے کی اصل فائل، تمام آرڈر شیٹس اور موجودہ عدالتی حیثیت بھی ریکارڈ پر لائی جائے تاکہ یہ حتمی طور پر واضح ہو سکے کہ 2016ء کے حکمِ امتناعی کے بعد اس مقدمے میں کیا پیش رفت ہوئی اور آج اس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
کیونکہ اگر ایک طرف عدالت کا حکم موجود ہو، دوسری طرف ریونیو ریکارڈ میں زمین کی ایک مخصوص حیثیت درج ہو، تیسری طرف منظور شدہ ماسٹر پلان میں عوامی سہولتوں کے لیے اراضی مختص ہو، چوتھی طرف صنعتی استعمال اور روزگار کے وعدے موجود ہوں، پانچویں طرف سابق مزدور اپنے بقایا جات کے منتظر ہوں اور چھٹی طرف اسی زمین پر پلاٹنگ، تعمیرات یا تجاوزات کے معاملات سامنے آ رہے ہوں تو خاموشی مزید سوال پیدا کرتی ہے۔
اب ضرورت قیاس آرائی کی نہیں، مکمل ریکارڈ کی ہے۔
فائلیں کھولی جائیں۔
خسرہ نمبرز ملائے جائیں۔
زمین کی پیمائش دوبارہ کی جائے۔
انتقالات کی مکمل چھان بین کی جائے۔
عدالتی احکامات کی زمانی ترتیب واضح کی جائے۔
منسوخ شدہ اور مؤثر این او سیز الگ الگ کیے جائیں۔
منظور شدہ نقشے اور موجودہ زمین کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔
صنعتی استعمال کے وعدوں اور ان پر عمل درآمد کی حقیقت سامنے لائی جائے۔
سابق مزدوروں کے مالی حقوق کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے۔
اور پھر عوام کو بتایا جائے کہ 1100 کنال اراضی کی قانونی داستان میں حقیقت کہاں ختم ہوتی ہے اور بے قاعدگی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ 1100 کنال زمین آج کہاں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ 2011ء سے 2026ء تک اس زمین کے ساتھ قانون نے کیا سلوک کیا، اور قانون کے ہوتے ہوئے زمین پر کیا کچھ ہوتا رہا۔
اور اس پوری داستان میں شاید سب سے زیادہ خاموش سوال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس صنعت میں اپنی زندگی کے سال گزارے، جن کے روزگار اور بچوں کے مستقبل کے وعدے کیے گئے، مگر اگر ان کے بقایا جات بھی آج تک باقی ہیں تو پھر یہ صرف زمین کی ملکیت کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ ریاست، صنعت، قانون اور ان انسانوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا بھی سوال بن جاتا ہے۔
واپس کریں