دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
14 جھلسے ہوئے معصوم روحوں کے 25 کروڑ عوام سے سلگتے سوال
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ ایسا خواب جس نے نیند سے زیادہ میری روح کو جگا دیا۔ میں نے دیکھا کہ چودہ ننھی ننھی روحیں میرے سامنے کھڑی ہیں۔ نہ ان کے ہاتھوں میں کوئی مطالبہ تھا، نہ لبوں پر کوئی شکوہ، نہ آنکھوں میں دنیا سے انتقام کی خواہش۔ وہ سب ابھی ابھی اس دنیا میں آئی تھیں، مگر دنیا نے انہیں اتنی مہلت بھی نہ دی کہ وہ اپنے ماں باپ کے چہرے پہچان سکتیں، اپنی پہلی مسکراہٹ دے سکتیں، اپنے ننھے ہاتھوں سے کسی انگلی کو تھام سکتیں یا زندگی کے معنی سمجھ سکتیں۔
وہ چودہ نومولود روحیں مجھے دیکھ کر بولیں: "خالد انکل! ہمیں آپ سے ایک جواب چاہیئے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات پر بنائے گئے پاکستان کی بَلی آخر ہم چودہ نومولود بچوں سے کیوں چڑھائی گئی؟"
میں خاموش رہا۔
وہ پھر بولیں: "ہم فارم پینتالیس کو نہیں جانتے، فارم سینتالیس کو بھی نہیں۔ ہمیں انتخابات کا علم نہیں، ہمیں حکومت اور اپوزیشن کا پتہ نہیں۔ ہمیں کسی جماعت سے محبت ہے نہ نفرت۔ ہم کسی جلسے میں نہیں گئے، کسی دھرنے میں شریک نہیں ہوئے، کسی کے حق میں نعرہ نہیں لگایا، کسی کے خلاف پوسٹ نہیں لکھی۔ ہمیں فیلڈ مارشل کا بھی علم نہیں، سیاست کا بھی نہیں، اقتدار کے کھیل کا بھی نہیں۔ پھر ہمیں کیوں مارا گیا؟"
میں ان کے سامنے کھڑا تھا اور میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ بولیں: "ہم نے تو ابھی پاکستان کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ ہم نے تو ابھی دنیا کی پہلی صبح بھی پوری طرح نہیں دیکھی تھی۔ ہم نے تو ابھی اپنی ماؤں کی آواز پہچانی بھی نہیں تھی۔ ہم نے تو ابھی باپ کی انگلی پکڑی بھی نہیں تھی۔ ہم نے تو ابھی یہ بھی نہیں سیکھا تھا کہ پاکستان میں زندہ رہنے کے لیے کس جماعت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے اور کس نعرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ پھر ہماری سزا کیا تھی؟"
پمز کے نرسری وارڈ میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک آتش زدگی نہیں تھی؛ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں پورا معاشرہ اپنا چہرہ دیکھنے پر مجبور ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 14 نومولود بچے آگ میں جاں بحق ہوئے اور ایک بچہ بچایا جا سکا۔ آگ نوزائیدہ بچوں کی نرسری تک پہنچی، جہاں وہ انکیوبیٹرز اور طبی آلات کے سہارے زندگی کی پہلی جنگ لڑ رہے تھے۔ وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا، وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹایا گیا اور حقائق جاننے کے لیے کمیٹیاں قائم ہوئیں۔
مگر خواب میں وہ چودہ بچے مجھ سے کہہ رہے تھے: "خالد انکل! ہمیں یہ نہ بتانا کہ کمیٹی بن گئی ہے۔ ہمیں یہ بتانا کہ ہم کیوں مرے؟ ہمیں یہ بتانا کہ ہماری حفاظت کے لیے جو نظام بنایا گیا تھا وہ کہاں تھا؟ ہمیں یہ بتانا کہ ہماری جان کی قیمت ایک سرکاری فائل سے زیادہ کیوں نہیں تھی؟"
میں نے کہا: "بچے، تحقیقات ہوں گی۔ ذمہ داروں کا تعین ہوگا۔"
وہ مسکرائے۔ ایک معصوم سی، مگر انتہائی تلخ مسکراہٹ۔
"ہمیں معلوم ہے انکل! تحقیقات ہوں گی۔ فائل بنے گی۔ اجلاس ہوگا۔ افسر بیان دیں گے۔ کچھ دن شور ہوگا۔ پھر کوئی نئی خبر آ جائے گی۔ لیکن ہمیں یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے اپنے بچے اس نرسری میں ہوتے تو کیا تم پھر بھی یہی کہتے کہ تحقیقات کا انتظار کرو؟"
میں پھر خاموش ہوگیا۔
ایک ننھی روح نے آگے بڑھ کر کہا: "ہم نے اللہ میاں کے ہاں ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ کسی ایک شخص کے خلاف نہیں۔ کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں۔ کسی ایک حکومت کے خلاف نہیں۔ ہم نے پچیس کروڑ پاکستانیوں کے خلاف اجتماعی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔"
"کیونکہ ہمارا قاتل صرف وہ شخص نہیں جو غفلت کرے۔ ہمارا قاتل وہ معاشرہ بھی ہے جو ہر سانحے کے بعد چند گھنٹے روتا ہے، چند دن غصہ کرتا ہے، چند دن سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگاتا ہے اور پھر اگلے تماشے کی طرف چلا جاتا ہے۔"
"ہمارے قاتل صرف حکام نہیں۔ عوام بھی ہیں، حکام بھی، طاقتور بھی، کمزور بھی، سیاست دان بھی، بیوروکریسی بھی، نظام بھی اور وہ شاہی جنتا بھی جو اپنے لیے بہترین ہسپتال، بہترین علاج اور بہترین حفاظتی انتظامات چاہتی ہے، مگر عام آدمی کے بچے کے لیے قسمت اور دعا کافی سمجھتی ہے۔"
یہ جملہ سن کر میری آنکھ کھل گئی۔
لیکن خواب ختم نہیں ہوا تھا۔
میں جاگتے ہوئے بھی ان چودہ بچوں کی آواز سن رہا تھا۔
وہ کہہ رہے تھے: "خالد انکل! ہمیں کسی سیاسی بحث میں مت گھسیٹنا۔ ہمارا مقدمہ کسی ایک حکومت یا کسی ایک جماعت کا مقدمہ نہیں۔ ہم تو اس پورے اجتماعی رویے کے خلاف گواہی ہیں جس میں انسانی جان کی قیمت حادثہ ہونے کے بعد یاد آتی ہے۔"
واقعی، ہم عجیب قوم ہیں۔ عمارت بناتے وقت نقشہ دیکھتے ہیں، افتتاح کے وقت تختی دیکھتے ہیں، بجٹ بناتے وقت اعداد دیکھتے ہیں، مگر مریض کی جان بچانے کے لیے حفاظتی نظام موجود ہے یا نہیں، یہ سوال اکثر تب پوچھتے ہیں جب لاشیں باہر آ چکی ہوتی ہیں۔
نوزائیدہ بچے کسی ریاست سے مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ صرف ایک محفوظ بستر چاہتے ہیں۔ صاف ہوا چاہتے ہیں۔ ایک تربیت یافتہ ہاتھ چاہتے ہیں۔ ایک ایسا ہسپتال چاہتے ہیں جہاں آگ لگنے کی صورت میں دروازے کھلے ہوں، راستے قابل استعمال ہوں، فائر سیفٹی کا نظام فعال ہو اور چند سیکنڈ کی غفلت ان کی پوری زندگی ختم نہ کر دے۔
مگر اگر ایک نرسری میں آگ لگ جائے اور چودہ بچے واپس نہ آ سکیں تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آگ کس نے لگائی۔ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ آگ سے بچانے کے لیے ہم نے کیا کیا تھا؟
ریاست صرف قاتل کو پکڑنے کا نام نہیں، ریاست موت کو روکنے کا نام بھی ہے۔
اور معاشرہ صرف جنازے میں شریک ہونے کا نام نہیں، معاشرہ جنازہ آنے سے پہلے ذمہ داری ادا کرنے کا نام بھی ہے۔
خواب میں ایک بچے نے اچانک میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی انگلی اتنی چھوٹی تھی کہ میری ایک انگلی بھی اس کے پورے ہاتھ سے بڑی تھی۔ اس نے کہا: "انکل! ہمارے والدین سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں۔"
میں چونک گیا۔
وہ بولا: "اچھا ہوا انہیں یہ دکھ ملا۔ انہوں نے ہمیں پیدا کرنے کا جرم کیوں کیا؟ جب تم لوگ ہمیں زندہ رہنے کے لیے محفوظ ملک، محفوظ ہسپتال، صاف ہوا، صاف پانی، محفوظ سڑک، قانون کی بالادستی اور عزت کی زندگی نہیں دے سکتے تو ہمیں دنیا میں کیوں لاتے ہو؟"
یہ سوال میرے سینے میں تیر کی طرح اترا۔
"ہر وہ ماں باپ مجرم ہے جو ایسے ملک میں بچے پیدا کرتا ہے؟" میں نے پوچھا۔
وہ بولا: "ہم انہیں مجرم نہیں کہنا چاہتے، مگر ان سے ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ اولاد پیدا کرنا صرف زندگی کو دنیا میں لانا ہے یا اسے محفوظ زندگی دینے کی ذمہ داری بھی ہے؟"
پھر ایک اور ننھی روح بولی: "ہمیں معلوم نہیں کہ ہم بڑے ہو کر کیا بنتے۔ شاید کوئی ڈاکٹر بنتا، شاید سائنس دان، شاید استاد، شاید شاعر، شاید سپاہی، شاید مزدور۔ شاید ہم میں سے کوئی اس ملک کو بدل دیتا۔ لیکن تم لوگوں نے ہمیں موقع ہی نہیں دیا۔"
اور پھر اس نے وہ سوال کیا جس نے میرے خواب کی ہر دیوار ہلا دی:
"اللہ نے جو زندگی ہمیں دی تھی، وہ تم لوگوں نے ہم سے کیوں چھین لی؟"
اس سوال کا جواب نہ فارم پینتالیس دے سکتا ہے، نہ فارم سینتالیس۔ نہ حکومت، نہ اپوزیشن۔ نہ پارلیمان، نہ عدالت۔ نہ بیوروکریسی، نہ کوئی طاقتور عہدہ۔
اس کا جواب ہمیں بحیثیت قوم دینا ہوگا۔
مجھے ان بچوں نے یہ بھی کہا کہ "انکل! ہمیں اس بات کا اطمینان ضرور ہے کہ ہم اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد نہیں مارے گئے۔ اگر ہم زندہ رہتے تو شاید چند ماہ، چند سال بعد کسی ایسے سانحے، کسی ایسے ظلم، کسی ایسے معاشرتی اندھیرے کا شکار ہو جاتے جس کے خلاف بھی تم لوگ چند دن شور مچاتے اور پھر خاموش ہو جاتے۔"
میں اس خواب کے اس حصے کو لکھتے ہوئے خود سے نظریں چرا رہا ہوں۔ کیونکہ یہ جملہ کسی بچے کا نہیں، ہمارے معاشرے کے خوفناک زوال کا آئینہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بچوں کی حفاظت بھی اجتماعی ذمہ داری کے بجائے خبر بن کر رہ جائے، وہاں ترقی کے دعوے کتنے کھوکھلے ہیں، اس کا اندازہ کسی اقتصادی رپورٹ سے نہیں بلکہ ایک نومولود کی خاموش لاش سے لگایا جا سکتا ہے۔
آج چودہ چھوٹے تابوت ہمارے سامنے نہیں، ہمارے ضمیر کے سامنے رکھے گئے ہیں۔
ہم ان بچوں کے قاتل شاید کسی ایک شخص کو نہ کہیں۔ مگر ہمیں اپنے حصے کا سوال ضرور پوچھنا ہوگا۔
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ ہمارے سرکاری ہسپتال محفوظ ہیں؟
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ نوزائیدہ بچوں کی نرسریوں میں فائر سیفٹی کے مکمل انتظامات ہیں؟
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ ہنگامی راستے کھلے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ عملہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہے؟
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ جو نوٹس برسوں سے جاری ہوتے رہے، ان پر عمل کیوں نہیں ہوا؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم نے کبھی یہ سوال اپنی ذات سے پوچھا کہ اگر مرنے والا بچہ کسی غریب کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا بچہ ہوتا تو کیا ہم پھر بھی اتنے ہی خاموش رہتے؟
تحقیقاتی کمیٹی کو اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ آگ کی اصل وجہ کیا تھی، حفاظتی انتظامات فعال تھے یا نہیں، ہنگامی ردعمل کیسا تھا، اور انتظامی سطح پر کوئی غفلت ہوئی یا نہیں۔
لیکن ایک کمیٹی صرف واقعے کی ذمہ داری طے کر سکتی ہے؛ وہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی ذمہ داری طے نہیں کر سکتی۔
وہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔
چودہ بچے ہمیں پکار رہے ہیں۔
وہ کسی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں اٹھائے ہوئے۔
وہ کسی ادارے کے خلاف نعرہ نہیں لگا رہے۔
وہ کسی شخص کو اپنا قاتل قرار نہیں دے رہے۔
وہ صرف ہم سے پوچھ رہے ہیں:
ہمیں کیوں مارا؟
ہمارا قصور کیا تھا؟
ہم نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟
ہم تو ابھی دنیا میں آئے ہی تھے، تم نے ہمیں دنیا سے رخصت کیوں کر دیا؟
اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے:
کیا پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا زندہ رہنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے یا صرف پیدا ہو جانا ہی اس کی تقدیر ہے؟
آج ان چودہ نومولود بچوں کی قبریں صرف چودہ خاندانوں کا دکھ نہیں۔ یہ پچیس کروڑ پاکستانیوں کے ضمیر کی قبرستانی خاموشی ہیں۔
اگر ہم نے آج بھی ان بچوں کے سوال کا جواب صرف ایک کمیٹی، ایک معطلی، ایک پریس کانفرنس اور چند تعزیتی بیانات سے دے دیا تو یاد رکھیے، ہم نے ان چودہ بچوں کو دوسری بار مار دیا ہوگا۔
کیونکہ پہلی موت آگ نے دی تھی۔
دوسری موت ہماری بے حسی دے گی۔
اور اگر ہم واقعی زندہ قوم ہیں تو ہمیں ان چودہ ننھی روحوں سے وعدہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں کسی نرسری، کسی ہسپتال، کسی سکول، کسی یتیم خانے اور کسی ایسے مقام پر جہاں معصوم بچے ہماری ذمہ داری ہوں، حفاظتی غفلت کو معمول نہیں بننے دیں گے۔
ورنہ کل کسی اور خواب میں کوئی اور ننھا بچہ آ کر پوچھے گا:
"خالد انکل! ہمیں کیوں مارا؟"
اور اس وقت شاید ہمارے پاس جواب دینے کے لیے کوئی خواب بھی باقی نہ ہو۔
واپس کریں