دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میری بات بن جائے
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
میری بات بن جائے
وہ بات لکھوں
الٰہی توفیق دے کہ
نبی کی نعت لکھوں
ہم خطا کاروں کے
کریم آقا کو
رحمتِ حق کا
وسیلہ لکھوں
اس ادا سے نصیب ہو
ان کی غلامی
کہ خود پہ رحمت کا
دروازہ لکھوں
خونِ جگر سے
باوضو ہو قلم میرا
پھر ان کی شان میں
حرفِ رضا لکھوں
لفظ میرے ہوں
مگر معنی وہ ہوں
جو مدینے کی
ہوا لکھوں
جو درود کی خوشبو
میں نہائے ہوئے ہوں
وہ ہر شعر کو
دعا لکھوں
نہ ہو اس میں
کوئی دعویٰ میرا
بس خود کو
ایک گنہگار لکھوں
ان کے قدموں کی
خاک کا صدقہ
اپنی پیشانی پہ
شفا لکھوں
جب ذکر آئے
حشر کا داد
میں ان کا نام ہی
آسرا لکھوں
میرا سرمایہ
کچھ بھی نہیں
بس محمد ﷺ کا
واسطہ لکھوں
واپس کریں