دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
الٰہی ختم ہو یوں یہ دعا صدیقیؔ کی
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
الٰہی مجھ میں وہ ذوقِ طلب پیدا کر دے
مرے دل کو حضورؐ کا شیدا کر دے
مرے لب پر رہے ذکرِ نبیؐ ہر آن مولا
مرے سینے میں اُن کی سچی الفت بھر دے
مرے افکار کو دے سنتِ سرکارؐ کی روش
مرے کردار کو اخلاق سے روشن کر دے
غمِ دنیا کی کشاکش سے بچا لے یا رب
مرا رشتہ فقط اُن کی اطاعت سے جوڑ دے
مرے آنسو بھی درودوں میں ڈھلیں یا ربِ کریم
مری تحریر کو مدحت کا وسیلہ کر دے
مرے سجدوں میں رہے نامِ محمد ہر دم
مری دھڑکن کو محبت کا ترانہ کر دے
مجھے نسبت ہو عطا آلِ نبیؐ پاک سے بھی
مری قسمت کو وفاؤں سے منور کر دے
بحقِ محمد، شفیعِ روزِ جزا
مری بخشش کو یقینی سرِ محشر کر دے
مری دنیا بھی سنور جائے اطاعت کی طرح
مری عقبیٰ کو رضائے الٰہی پر کر دے
الٰہی ختم ہو یوں یہ دعا صدیقیؔ کی
مری ہستی کو سراپا تیری بندگی کر دے
آمین یا رب العالمین
واپس کریں