دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اب آلو پر لکھیں گے ۔ خالد خان
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
آج دو سنجیدہ مضامین لکھے۔ دونوں خیرخواہوں کے مشورے پر روک دیے۔سوچا شاید مسئلہ میری صحافت میں ہے۔ پھر خیال آیا کہ موضوع ہی بدل لیتے ہیں۔
اب آلو پر لکھوں گا، پکوڑوں پر لکھوں گا، سموسوں پر لکھوں گا، چپس کی تاریخ اور ذائقے پر تحقیق کروں گا، شاید کبھی پاکستانی معاشرے میں میک اَپ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی ایک سنجیدہ تحقیقی فیچر لکھ دوں۔
آج کا تازہ شاہکار حاضر ہے: کالام کے آلو۔
حکومت خیبر پختونخوا سے صرف اتنی گزارش ہے کہ پہلے بتا دے، آلو پر لکھنے کی اجازت ہے یا اس کے لیے بھی کسی ادارے سے این او سی درکار ہوگا؟
کیونکہ اگر ملک میں قبضہ، قانون، پولیس، ریاستی اختیار اور عوامی حقوق جیسے موضوعات پر قلم رک جائے تو پھر صحافی کے پاس دو راستے رہ جاتے ہیں: یا خاموش ہو جائے، یا آلو کے کھیت میں چلا جائے۔
میں نے دوسرا راستہ منتخب کر لیا ہے۔
اب دیکھتے ہیں آلو بھی کتنا آزاد ہے۔
کالام کی وادیوں سے پاکستان کے دسترخوان تک — آلو کی وہ کہانی جس میں پہاڑ، محنت اور ذائقہ سب شامل ہیں
پاکستان میں شاید ہی کوئی سبزی ایسی ہو جس نے غریب کی سادہ ہانڈی سے لے کر مہنگے ہوٹلوں کے دسترخوان تک، دیسی سالن سے لے کر فاسٹ فوڈ کی دنیا تک اور گھریلو باورچی خانے سے لے کر بڑے صنعتی کارخانوں تک اپنا راستہ بنایا ہو، جتنا آلو نے بنایا ہے۔ یہ بظاہر مٹی کے اندر چھپا ہوا ایک معمولی سا پودا ہے، مگر پاکستان کی خوراک، زراعت، تجارت اور دیہی معیشت میں اس کی اہمیت معمولی نہیں۔ آلو اب صرف ایک سبزی نہیں بلکہ لاکھوں کسانوں کے لیے آمدن کا ذریعہ، شہروں کے لیے روزمرہ خوراک اور غذائی صنعت کے لیے ایک اہم خام مال بن چکا ہے۔
پاکستان میں آلو کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کی غیر معمولی استعداد ہے۔ اسے ابال کر کھایا جا سکتا ہے، بھون کر، تل کر، پکا کر، بھرتا بنا کر، سالن میں ڈال کر، گوشت کے ساتھ پکا کر اور چپس کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سموسہ، آلو کے پراٹھے، آلو گوشت، آلو پالک، آلو مٹر، فرائز، چپس اور بے شمار دوسری غذاؤں میں آلو بنیادی جزو ہے۔ صنعتی سطح پر بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے اور منجمد فرنچ فرائز، آلو کے چپس، نشاستہ اور دیگر مصنوعات کے لیے مخصوص خصوصیات رکھنے والی اقسام کی طلب پیدا ہو رہی ہے۔
زرعی اعتبار سے بھی آلو پاکستان کی اہم فصلوں میں شمار ہوتا ہے۔ پنجاب کے محکمہ زراعت کے مطابق آلو پاکستان کی بڑی خوردنی اور منافع بخش فصلوں میں شامل ہے اور گندم، چاول اور مکئی کے بعد اہم فصلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں اس کی بہاری اور خزاں کی فصلیں جبکہ پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔
پاکستان میں آلو کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز پنجاب ہے۔ قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم، اٹک، جھنگ، لاہور اور دیگر اضلاع میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے۔ پنجاب کے صرف قصور، اوکاڑہ، دیپالپور، ساہیوال اور پاکپتن کو صوبائی محکمہ زراعت آلو کا بنیادی پیداواری خطہ قرار دیتا ہے، جہاں صوبے کی تقریباً تین چوتھائی فصل پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کی مجموعی تصویر بھی دلچسپ ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سرکاری اعداد کے مطابق 2023-24 میں ملک میں آلو کا زیرِ کاشت رقبہ تقریباً 3 لاکھ 38 ہزار 715 ہیکٹر اور پیداوار تقریباً 84 لاکھ 34 ہزار ٹن رہی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آلو ہماری زرعی معیشت میں کس قدر بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں آلو کی کہانی پنجاب سے مختلف ہے۔ یہاں پہاڑی موسم، نسبتاً کم درجہ حرارت، زرخیز وادیوں اور گرمیوں میں دستیاب ٹھنڈے ماحول نے آلو کے لیے کئی قدرتی خطے پیدا کیے ہیں۔ سوات، چترال، دیر، مانسہرہ، بالاکوٹ اور نوشہرہ نمایاں پیداواری علاقوں میں شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں صوبے میں آلو کا کل زیرِ کاشت رقبہ 10,273 ہیکٹر اور پیداوار 160,034 ٹن رہی۔ اسی رپورٹ کے مطابق چترال میں 1,390 ہیکٹر سے 42,688 ٹن، نوشہرہ میں 978 ہیکٹر سے 15,599 ٹن اور سوات میں 480 ہیکٹر سے 6,371 ٹن آلو پیدا ہوا۔
مگر خیبر پختونخوا کے آلو کا ذکر ہو اور کالام کا نام نہ آئے تو کہانی ادھوری رہ جاتی ہے۔
سوات کی بالائی وادیوں میں کالام، اتروڑ، گبرال، اوشو اور مٹلتان کے علاقے آلو کی کاشت کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ یہاں کی زمین، بلندی، موسم اور پانی کا امتزاج ایسی فصل پیدا کرتا ہے جسے مقامی سطح پر ذائقے اور معیار کے اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ سوات کے ان علاقوں کا آلو ملک کے بڑے شہروں تک پہنچتا ہے اور مختلف اوقات میں سینکڑوں ٹرک راولپنڈی، لاہور اور کراچی کی منڈیوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔
کالام میں آلو کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1964 میں حاجی حضرت فقیر نامی شخص نے اتروڑ میں آلو متعارف کرایا۔ ابتدا میں اس تجربے کے ساتھ زیادہ کامیابی حاصل نہ ہوئی، مگر یہی کوشش بعد میں کالام اور بالائی سوات میں آلو کی تجارتی کاشت کی بنیاد بن گئی۔ آج وہی فصل اس خطے کے دیہی معاشی نظام کا اہم حصہ ہے۔
کالام کا آلو اس لیے بھی منفرد ہے کہ یہاں آلو کو عام طور پر موسمِ گرما کی فصل کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔ جب میدانی پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہوتا ہے، بالائی سوات کی ٹھنڈی وادیاں آلو کی فصل کے لیے نسبتاً موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں۔ یہی قدرتی فرق پاکستان کی آلو کی پیداوار کو موسم کے اعتبار سے متنوع بنانے میں مدد دیتا ہے۔
کالام کے کسان مختلف اقسام کاشت کرتے رہے ہیں۔ دستیاب مطالعات میں روکو، راجا، ڈیزری اور علاءالدین جیسی اقسام کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں روکو کو نسبتاً ابتدائی اور پسندیدہ قسم قرار دیا گیا، جبکہ علاءالدین کے بارے میں زیادہ پیداوار کی صلاحیت رپورٹ ہوئی ہے۔ تاہم کسی بھی قسم کی حقیقی برتری صرف اس کے نام سے طے نہیں ہوتی؛ زمین، بیج کا معیار، بیماریوں سے پاک بیج، کھاد، آبپاشی، موسم، برداشت کا وقت اور منڈی تک رسائی سب پیداوار اور منافع پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بہترین آلو کہاں پیدا ہوتا ہے؟
اس کا جواب صرف ایک شہر یا ضلع کا نام لے کر نہیں دیا جا سکتا۔ اگر مقصد زیادہ پیداوار ہے تو پنجاب کے بڑے پیداواری اضلاع نمایاں ہیں۔ اگر مقصد پہاڑی علاقوں میں موسمِ گرما کی معیاری فصل ہے تو سوات، کالام، چترال، دیر، مانسہرہ اور دیگر بالائی علاقوں کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر بات کسی مخصوص قسم، ذائقے، جسامت یا صنعتی استعمال کی ہو تو پھر بہترین علاقے کا تعین بھی مختلف ہو جاتا ہے۔
پنجاب کے محکمہ زراعت نے آلو کی کئی بہتر اقسام متعارف کرائی ہیں۔ مثال کے طور پر پی آر آئی ریڈ کی اوسط پیداوار 34.2 ٹن فی ہیکٹر، جبکہ ایس ایچ-5 کی اوسط پیداوار 35 ٹن فی ہیکٹر تک درج کی گئی ہے۔ ساہیوال ریڈ، ساہیوال وائٹ، کاسمو، صادق اور روبی بھی مختلف خصوصیات رکھنے والی اقسام میں شامل ہیں۔ بعض اقسام بیماریوں اور پالا برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ بعض کو صنعتی استعمال کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔
یہاں سے آلو کی ایک دوسری دنیا شروع ہوتی ہے: بیج۔
آلو کی اچھی فصل کا راز صرف زمین میں نہیں بلکہ بیج میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ صحت مند اور معیاری بیج بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا اور پیداوار بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ آلو پیدا کرنے والے ممالک میں بیج کی صحت، قسم کی خالصیت اور بیماریوں سے پاک پودے کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر آلو کی پیداوار اور برآمدی معیار کو مزید بہتر بنانا ہے تو معیاری بیج، ذخیرہ کرنے کی سہولت اور جدید پیداواری طریقوں پر توجہ ناگزیر ہے۔
کالام میں یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں فصل پیدا کرنا ایک مرحلہ ہے، اسے مناسب وقت پر محفوظ طریقے سے منڈی تک پہنچانا دوسرا۔ ماضی میں بالائی سوات کی سڑکوں اور مواصلاتی نظام کے مسائل نے کسانوں کو شدید متاثر کیا۔ ایک رپورٹ میں کالام اور بالائی سوات کے آلو کے بارے میں بتایا گیا کہ یہاں کے سرد پہاڑی علاقے معیاری آلو پیدا کرتے ہیں، لیکن نقل و حمل کی مشکلات کسانوں کے منافع کو متاثر کرتی ہیں۔
یہی آلو کا اصل المیہ بھی ہے۔ کسان زمین تیار کرتا ہے، بیج خریدتا ہے، کھاد ڈالتا ہے، فصل کی حفاظت کرتا ہے، مہینوں انتظار کرتا ہے اور آخرکار فصل نکالتا ہے، لیکن قیمت کا فیصلہ اکثر اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ منڈی میں رسد زیادہ ہو جائے تو قیمت گر جاتی ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو دور دراز کے کسان کا فائدہ کم ہو جاتا ہے، اور ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہو تو کسان کو فصل فوری فروخت کرنا پڑتی ہے۔
آلو کی فصل میں برداشت کے بعد ہونے والا نقصان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ناقص ذخیرہ، نامناسب درجہ حرارت، خراب پیکنگ اور طویل نقل و حمل کے دوران فصل کا ایک حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے آلو کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ کولڈ سٹوریج، گریڈنگ، پیکنگ، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ کا جدید نظام بنانا بھی ضروری ہے۔
کالام کے کسان کے لیے یہ ضرورت شاید ملک کے کسی بھی دوسرے علاقے سے زیادہ اہم ہے۔ یہاں آلو صرف فصل نہیں، پہاڑوں کے درمیان رہنے والے خاندانوں کی معاشی زندگی کا حصہ ہے۔ جب جولائی اور اگست کے دنوں میں بالائی سوات کی ڈھلوانوں پر سبز پتے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں تو بظاہر وہاں کچھ خاص نہیں ہوتا۔ اصل دولت زمین کے اندر خاموشی سے بڑھ رہی ہوتی ہے۔ چند ماہ بعد یہی زمین آلو کے ڈھیروں میں بدل جاتی ہے، بوریاں بھرتی ہیں، گاڑیاں تیار ہوتی ہیں اور کالام کی وادی سے ایک ایسی فصل روانہ ہوتی ہے جو پشاور، راولپنڈی، لاہور اور کراچی کے بازاروں میں پہنچ کر پاکستانی گھروں کے چولہوں کا حصہ بن جاتی ہے۔
کالام کے آلو کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس کے پیچھے صرف ایک فصل نہیں بلکہ ایک مکمل جغرافیہ کھڑا ہے۔ برف پوش پہاڑ، ٹھنڈی ہوائیں، چشموں کا پانی، پتھریلی ڈھلوانوں کے درمیان چھوٹے کھیت، کسان کے ہاتھ اور کئی دہائیوں کا تجربہ۔ 1964 میں اتروڑ میں شروع ہونے والی ایک کوشش نے وقت کے ساتھ ایک ایسی زرعی روایت کو جنم دیا جس نے بالائی سوات کی معیشت میں اپنا مقام بنا لیا۔
اور شاید آلو کی سب سے بڑی خوبی بھی یہی ہے کہ یہ ہمیں زمین کی ایک سادہ مگر گہری حقیقت یاد دلاتا ہے: ہر دولت سونے کی طرح چمکتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کچھ دولت زمین کے نیچے پیدا ہوتی ہے، کسان کے ہاتھوں سے نکلتی ہے اور ملک کے کروڑوں لوگوں کے دسترخوان تک پہنچ کر اپنی اصل قدر ظاہر کرتی ہے۔
کالام کی وادی میں جب کسان آلو کی فصل کھودتا ہے تو وہ صرف ایک سبزی زمین سے نہیں نکالتا؛ وہ اپنی محنت، اپنے خاندان کی امید اور پہاڑوں کی خاموش سخاوت کو مٹی سے باہر لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آلو کی کہانی دراصل پاکستانی کسان کی کہانی ہے—اور کالام اس کہانی کا وہ خوبصورت باب ہے جہاں برف، پانی، زمین اور انسان مل کر ایک معمولی سے آلو کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔
واپس کریں