دہشت گرد مارنے سے پہلے دہشت گرد پیدا ہونے کی وجہ تلاش کریں
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان میں دہشت گردی ایک بار پھر اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنا شاید سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ 2023 کے بعد دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق 2025 میں 699 دہشت گرد حملے ہوئے، جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز نے اسی سال عسکریت پسند حملوں کی تعداد 1066 بتائی۔ دونوں اداروں کے اعداد و شمار کا طریقہ کار ایک جیسا نہیں، اس لیے انہیں جمع نہیں کیا جاسکتا، لیکن دونوں سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ ایک ہی ہے جو پاکستان میں مسلح تشدد کا رجحان نیچے جانے کے بجائے اوپر جانا بتاتا ہے۔ 2026 میں بھی یہ سلسلہ رکنے کے آثار واضح نہیں۔ اگست کے آغاز میں سوات کے کبل میں امن کے حق اور دہشت گردی کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی پر خودکش حملے میں کم از کم 14 افراد مارے گئے، جن میں شہری اور پولیس اہلکار شامل تھے۔ یعنی مسئلہ اب صرف یہ نہیں رہا کہ دہشت گرد ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں؛ وہ اس عوامی مزاحمت کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔
اس صورتحال میں ہم ایک ہی سوال بار بار پوچھ رہے ہیں کہ دہشت گرد کہاں ہیں؟ کہاں سے آئے؟ انہیں کہاں سے پیسہ مل رہا ہے؟ اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے؟ تربیت کون دے رہا ہے؟ افغانستان میں انہیں پناہ کون دے رہا ہے؟ یہ سب اہم سوال ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن شاید اس سے بھی بڑا سوال ہم نے ابھی پوری سنجیدگی سے نہیں پوچھا اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو لڑنے والے آدمی کہاں سے مل رہے ہیں؟
یہ سوال ہمیں قدرے بے آرام کرے گا، کیونکہ اس کا جواب صرف سرحد پار نہیں ملے گا۔ بیرونی طاقتیں کسی نوجوان کو پیسہ دے سکتی ہیں، اسلحہ دے سکتی ہیں، تربیت دے سکتی ہیں، اسے سرحد پار محفوظ جگہ دے سکتی ہیں، لیکن ہر خودکش حملہ آور کے اندر وہ آمادگی کون پیدا کرتا ہے جو اسے اپنی جان ختم کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ کیا چند ہزار یا چند لاکھ روپے کسی انسان کو اس مقام تک لے جاتے ہیں جہاں وہ جانتا ہو کہ وہ چند لمحوں بعد مر جائے گا؟ اگر صرف پیسہ کافی ہوتا تو دنیا کے غریب ترین معاشروں کے ہر غریب نوجوان کے ہاتھ میں بندوق ہوتی۔ ایسا نہیں ہے۔
اس لیے اب ہمیں دہشت گردی کے بارے میں کچھ ایسے سوالات بھی پوچھنے ہوں گے جن سے شاید ہم خود بھی عرصے سے نظریں چرا رہے ہیں۔ کیا بعض علاقوں میں ریاست سے شدید بیگانگی نے نوجوانوں کو ایسے گروہوں کے لیے قابلِ قبول بنا دیا ہے؟ کیا مسلسل غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناقص سہولتیں، انصاف تک مشکل رسائی اور مستقبل کے بارے میں مایوسی کسی نوجوان کو انتہا پسند تنظیم کے قریب لے جاسکتی ہے؟ کیا ریاستی اداروں کے بارے میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والا عدم اعتماد دہشت گرد تنظیموں کو پروپیگنڈے کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے؟ کیا کہیں قبائلی، سیاسی یا ذاتی تنازعات دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ میں آکر ایک بڑی جنگ کا حصہ بن جاتے ہیں؟ اور کیا ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جو نظریے سے پہلے انتقام کے جذبے میں بندوق اٹھاتے ہیں؟
ان سوالات کا جواب یہ نہیں کہ ہر دہشت گرد غریب ہے، ہر بے روزگار نوجوان دہشت گرد بن سکتا ہے یا ریاست ہی دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔ یہ تینوں باتیں غلط اور خطرناک سادگی ہوں گی۔ دنیا میں کروڑوں غریب، بے روزگار اور محروم لوگ ہیں جو دہشت گرد نہیں بنتے۔ اسی طرح دہشت گرد تنظیموں میں نظریاتی طور پر پرعزم، مالی مفاد رکھنے والے، جرائم پیشہ اور مختلف ذاتی محرکات رکھنے والے لوگ ایک ساتھ موجود ہوسکتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان نے ابھی تک اس پورے عمل کو اس باریکی سے نہیں سمجھا کہ کس علاقے میں، کس عمر کے نوجوان، کس سماجی پس منظر سے، کن حالات میں اور کس مرحلے پر تشدد پسند تنظیم کی طرف جاتے ہیں۔
ہمیں اب دہشت گردی کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی زندگیوں کا بھی مطالعہ کرنا ہوگا۔ گرفتار ہونے والے دہشت گرد کون تھے؟ ان کی عمریں کیا تھیں؟ تعلیم کتنی تھی؟ روزگار تھا یا نہیں؟ خاندان کا معاشی پس منظر کیا تھا؟ وہ پہلی مرتبہ کس شخص کے ذریعے تنظیم تک پہنچے؟ ان کے علاقے میں اس سے پہلے کیا حالات تھے؟ کیا وہ پہلے کسی جرم میں ملوث تھے؟ کیا کسی ذاتی دشمنی، انتقام یا ریاستی ادارے کے ساتھ تصادم نے ان کے ذہن کو متاثر کیا؟ کیا انہیں مذہبی تعلیم نے متاثر کیا، سوشل میڈیا نے، کسی مقامی مبلغ نے، کسی دوست نے یا کسی مسلح گروہ کے سابق رکن نے؟ کتنے لوگ ایک خاندان یا ایک گاؤں سے بھرتی ہوئے؟ کتنے لوگ پہلے سے موجود کسی چھوٹے گروہ کے ذریعے بڑے نیٹ ورک تک پہنچے؟
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن سے ہمیں شاید دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سب سے قیمتی معلومات مل سکتی ہیں۔
دنیا میں دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی پر ہونے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بھرتی اکثر کسی ایک بڑے مرکزی حکم کے ذریعے نہیں بلکہ مقامی سماجی روابط اور چھوٹے نیٹ ورکس کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ یعنی ایک شخص دوسرے شخص کو جانتا ہے، اسے اپنے حلقے میں لاتا ہے، پھر ایک چھوٹا گروہ دوسرے لوگوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف تنظیم کے اوپر بیٹھے کمانڈروں کو نشانہ بنانا کافی نہیں؛ ان سماجی راستوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے جن سے تنظیم کو نئے افراد ملتے ہیں۔
یہاں پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم تحقیقی منصوبہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ بیس برس میں گرفتار یا مارے جانے والے دہشت گردوں کا ایک جامع، غیر سیاسی اور سائنسی ڈیٹا بیس بنایا جائے۔ ان کے نام اور شناختیں عام کرنے کے لیے نہیں بلکہ پالیسی بنانے کے لیے۔ ہر فرد کی عمر، تعلیم، خاندان، معاشی حالات، علاقہ، پیشہ، جرائم اور جنگجو تنظیم سے رابطے کا ذریعہ، نظریاتی اثرات، بھرتی کا وقت اور دہشت گرد بننے سے پہلے کے اہم واقعات کا مطالعہ کیا جائے۔ پھر اس ڈیٹا کا ضلع، تحصیل، عمر اور سماجی پس منظر کے اعتبار سے تجزیہ کیا جائے۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ دس سال میں دہشت گرد تنظیموں کو سب سے زیادہ نئے افراد کن علاقوں سے ملے۔ کیا چند مخصوص اضلاع مسلسل نئی بھرتیوں کا مرکز ہیں؟ کیا وہاں غربت زیادہ ہے؟ کیا وہاں سکول کم ہیں؟ کیا نوجوانوں میں بے روزگاری زیادہ ہے؟ کیا وہاں جرائم پیشہ نیٹ ورک پہلے سے موجود ہیں؟ کیا وہاں ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہے؟ کیا وہاں کسی مخصوص نظریاتی یا مذہبی نیٹ ورک کا اثر زیادہ ہے؟ اگر ایسے نمونے سامنے آتے ہیں تو ریاست پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف صرف بندوق نہیں بلکہ پیشگی پالیسی استعمال کرسکے گی۔
ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کا ایک جنگجو مرنے کے بعد اس کی جگہ کتنے لوگ لیتے ہیں۔ اگر ایک سال میں ایک ہزار دہشت گرد مارے جائیں اور اسی دوران تنظیم ایک ہزار نئے نوجوان بھرتی کرلے تو اعداد و شمار میں بڑی کامیابی نظر آنے کے باوجود اصل مسئلہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔ اس کے برعکس اگر دہشت گردوں کی ہلاکتیں کم ہوں لیکن نئی بھرتی تقریباً ختم ہوجائے تو یہ کہیں زیادہ بڑی کامیابی ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا پیمانہ بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ صرف یہ شمار کرنا کافی نہیں کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے اور کتنے گرفتار ہوئے۔ یہ بھی شمار ہونا چاہیے کہ کتنے نئے دہشت گرد بھرتی ہوئے، کتنے نوجوان بھرتی ہونے سے پہلے روک لیے گئے، کتنے سابق جنگجو کامیابی سے معاشرے میں واپس آئے، کتنے علاقوں میں دہشت گردی کے لیے انسانی وسائل کم ہوئے اور کتنے مقامی لوگ ریاست کو دہشت گردوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے لگے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت کا سامنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے ماضی میں اپنے قومی اور علاقائی مفادات کے لیے مذہبی جذبات اور نظریاتی قوتوں کو استعمال کیا۔ افغانستان کی جنگ ہو یا سرد جنگ کا زمانہ، معاشرے میں مخصوص تصورات کو مضبوط کرنے کے لیے ریاستی سرپرستی، نصاب، ابلاغ اور مذہبی بیانیے استعمال ہوئے۔ اس تاریخ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اسے مختلف زاویوں سے بیان کیا جاسکتا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جو نظریاتی مواد کبھی کسی مقصد کے لیے مفید سمجھا گیا تھا، اس کے کچھ حصے وقت گزرنے کے ساتھ ریاستی کنٹرول سے باہر بھی گئے اور مختلف مسلح تنظیموں کے لیے خام مال بن گئے۔
اب اگر معاشرے کی سماجی رگوں میں انتہا پسندی کا زہر کئی دہائیوں میں پہنچا ہے تو اس کا تریاق بھی ایک پریس کانفرنس، ایک اشتہار یا ایک سیمینار سے پیدا نہیں ہوگا۔ اسے اس سے کہیں زیادہ طاقت، مستقل مزاجی اور وسعت کے ساتھ معاشرے میں داخل کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک اس کام کو اس سنجیدگی سے نہیں کر رہے جس کی ضرورت ہے۔
ریاست نے اس سمت میں قدم ضرور اٹھایا ہے۔ دسمبر 2024 میں وفاقی حکومت نے قومی سطح پر پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی پالیسی منظور کی، اور اس پالیسی کا مقصد ہی یہ بتایا گیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بنیادی محرکات پر پیشگی اور پورے معاشرے کی سطح پر کام کیا جائے۔ لیکن پالیسی بنانا اور معاشرے کو بدل دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پالیسی کے تحت ملک کے سکولوں، جامعات، مدارس، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، مقامی حکومتوں، پولیس، مذہبی اداروں اور نوجوانوں کے ساتھ عملی سطح پر کیا تبدیل ہوا؟ اگر اس کا جواب واضح نہیں تو پالیسی ابھی کاغذ سے حقیقت تک نہیں پہنچی۔
ہمیں روشن فکری کو محض ایک خوبصورت لفظ کے طور پر استعمال کرنا بند کرنا ہوگا۔ روشن فکری کا مطلب کسی مذہب کے خلاف ہونا نہیں، بلکہ اختلاف برداشت کرنا، سوال پوچھنے کی اجازت دینا، دلیل کو تشدد پر ترجیح دینا، مختلف مسالک اور خیالات کے لوگوں کے ساتھ رہنا، قانون کو شخصی طاقت سے بالاتر سمجھنا اور نوجوان کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس کا مستقبل بندوق کے بجائے تعلیم، ہنر، کاروبار، سیاست، ادب، فن اور باعزت روزگار میں بھی ہوسکتا ہے۔
اگر ایک نوجوان کے سامنے دو راستے ہوں، ایک طرف بے روزگاری، محرومی، بے بسی اور انتقام کا ماحول ہو اور دوسری طرف دہشت گرد تنظیم اسے شناخت، مقصد، طاقت، پیسہ اور ایک ’’عظیم مقصد‘‘ کا جھوٹا احساس دے رہی ہو، تو ریاست کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ بندوق مت اٹھاؤ۔ ریاست کو اسے بندوق سے بہتر متبادل بھی دینا ہوگا۔
اسی لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی جنگ نہیں ہوسکتی۔ فوجی کارروائی وہاں ضروری ہے جہاں مسلح دہشت گرد ریاست اور شہریوں کی جان کے لیے خطرہ بن چکے ہوں۔ پولیس، سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس ادارے اور عدالتیں بھی اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار، صحت، مقامی حکومت، نوجوانوں کی سرگرمیاں، ثقافت، کھیل، میڈیا اور شہری آزادیوں کو بھی انسدادِ دہشت گردی کی وسیع حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ دینا ہوگی جہاں دہشت گردی بار بار واپس آتی ہے۔ اگر کسی ضلع میں آپریشن کے بعد امن قائم ہوتا ہے اور چند سال بعد وہی علاقے دوبارہ تشدد کی طرف چلے جاتے ہیں تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ آپریشن کے بعد وہاں ریاست نے کیا چھوڑا؟ صرف چوکی؟ یا سکول بھی؟ صرف سڑک پر بندوق؟ یا عدالت بھی؟ صرف سکیورٹی اہلکار؟ یا روزگار بھی؟ صرف نگرانی؟ یا مقامی لوگوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بھی؟
دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دفاع وہ ریاست ہوتی ہے جس پر اس کا شہری اعتماد کرتا ہو۔ جب شہری کو یقین ہو کہ پولیس اس کی حفاظت کرے گی، عدالت اسے انصاف دے گی، حکومت اس کی بنیادی ضرورت پوری کرے گی اور اس کی شکایت سننے والا کوئی ادارہ موجود ہے تو دہشت گرد تنظیم کے لیے اسے اپنے ساتھ کھڑا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں ریاست غیر حاضر ہو وہاں دہشت گرد تنظیم خلا کو اپنے بیانیے، خوف اور طاقت سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کو غربت کا لازمی نتیجہ سمجھنا غلط ہوگا۔ بہت سے غریب لوگ پوری زندگی امن سے گزارتے ہیں، اور بہت سے تعلیم یافتہ اور خوش حال لوگ بھی انتہا پسند نظریات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اصل وجہ شاید غربت اکیلی نہیں بلکہ محرومی، ناانصافی، شناخت کا بحران، انتقام، نظریاتی اثر، سماجی تعلقات، سیاسی حالات اور ریاست سے تعلق کا ایک پیچیدہ مجموعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں نعروں کے بجائے اعداد و شمار اور حقیقی زندگی کے شواہد سے جواب تلاش کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ خودکش حملہ آوروں کے ذہن میں آخری مرحلے میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ جو نوجوان کل تک معمول کی زندگی گزار رہا تھا وہ کس مقام پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اپنی جان بھی ختم کرنی ہے اور دوسروں کی جان بھی لینی ہے؟ اس تبدیلی سے پہلے کون سی علامات پیدا ہوتی ہیں؟ خاندان نے کیا محسوس کیا؟ دوستوں نے کیا دیکھا؟ مسجد، مدرسہ، سکول یا سوشل میڈیا میں کیا اثرات پیدا ہوئے؟ کیا کسی نے اسے بھرتی کیا یا وہ خود کسی مواد کے ذریعے اس راستے پر گیا؟ اگر ان سوالات کے جواب سائنسی طریقے سے تلاش کیے جائیں تو ممکن ہے کہ ریاست کئی حملوں کو ہونے سے پہلے روک سکے۔
یہ کام صرف انٹیلی جنس ادارے اکیلے نہیں کرسکتے۔ جامعات، ماہرین نفسیات، سماجیات کے ماہرین، ماہرینِ ابلاغ، ڈیٹا سائنس دان، مذہبی سکالرز، صحافی اور مقامی محققین کو بھی اس قومی کوشش میں شامل کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کا ایک ایسا تحقیقی مرکز ہونا چاہیے جو ہر بڑے واقعے کے بعد صرف خبر نہ بنائے بلکہ اس واقعے سے سیکھے۔ ہر حملہ اگلے حملے کو روکنے کے لیے ایک سبق بنے۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کو اپنی ناکامیوں کا بھی مطالعہ کرنا ہوگا۔ دہشت گرد کیسے ہمارے اندر آتا ہے؟ اسے کون چھپاتا ہے؟ اسے مقامی معلومات کہاں سے ملتی ہیں؟ وہ کس راستے سے نقل و حرکت کرتا ہے؟ اسے ہدف کے بارے میں معلومات کس نے دیں؟ اس کی مالی مدد کہاں سے ہوئی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے پہلی مرتبہ ریاستی نظام سے دور ہونے اور دہشت گرد تنظیم کے قریب آنے کی وجہ کیا ملی؟
ہمیں دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہیں کرنی چاہیے۔ جو شخص شہریوں کو قتل کرتا ہے، خودکش حملہ کرتا ہے، پولیس یا فوجی کو نشانہ بناتا ہے، اغوا اور بھتہ خوری کرتا ہے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرتا ہے، اسے قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کا سامنا ہونا چاہیے۔ لیکن دہشت گرد سے سختی اور دہشت گرد پیدا ہونے کی وجوہات کا مطالعہ دو متضاد چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ ایک کے بغیر دوسری نامکمل ہے۔
فوج دہشت گرد کو مار سکتی ہے، پولیس اسے گرفتار کرسکتی ہے، عدالت اسے سزا دے سکتی ہے اور انٹیلی جنس ادارے اس کا نیٹ ورک توڑ سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کی جگہ لینے کے لیے دس نئے نوجوان تیار ہورہے ہوں تو جنگ ختم نہیں ہوگی۔
اس لیے پاکستان کو اب ایک بنیادی سوال کے ساتھ اپنی انسدادِ دہشت گردی پالیسی دوبارہ دیکھنی ہوگی: ہم دہشت گردوں کو ختم کررہے ہیں، لیکن کیا ہم دہشت گردی کے لیے نئے لوگ پیدا ہونے کا عمل بھی روک رہے ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمیں اس کا ثبوت اعداد و شمار میں دکھائی دینا چاہیے۔ اگر جواب نہیں ہے تو پھر ہمیں اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔
ہمیں سرحد بھی دیکھنی ہوگی اور اپنا گھر بھی۔ ہمیں بیرونی سرپرستی بھی روکنی ہوگی اور اندرونی بھرتی بھی۔ ہمیں اسلحہ بھی پکڑنا ہوگا اور وہ ذہن بھی سمجھنا ہوگا جس میں اسلحہ اٹھانے کا فیصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں فوجی کارروائی بھی کرنی ہوگی اور معاشرتی تریاق بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں ماضی کی غلطیوں کو قومی شرمندگی کے طور پر نہیں بلکہ قومی سبق کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ شاید اس دن شروع ہوگی جب ہم صرف یہ پوچھنا چھوڑ دیں گے کہ ’’دہشت گرد کہاں ہے؟‘‘ اور اس کے ساتھ یہ سوال بھی پوری دیانت داری سے پوچھیں گے کہ ’’وہ پیدا کہاں ہوا، اسے کس نے تیار کیا، اسے کس چیز نے ہمارے معاشرے سے توڑا اور اسے اپنی جان قربان کرنے پر کس نے آمادہ کیا؟‘‘
ان سوالات کے سچے جواب شاید دہشت گردی کے خلاف ہماری اگلی بڑی کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
واپس کریں