خالد خان۔ کالم نگار
آزادی مبارک! مگر خدا کے لیے ذرا یہ بھی بتا دیجیے کہ آزادی کے جشن میں پورے شہر کے کان پھاڑنا، سڑکوں پر قبضہ کرنا، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر آسمان سر پر اٹھا دینا، گاڑیوں کے ہارن بجانا اور رات گئے تک لوگوں کے سکون کا جنازہ نکالنا آخر کس تہذیب کا حصہ ہے؟ گزشتہ تین دن سے جشنِ آزادی کے نام پر جو باجے بج رہے ہیں اور گزشتہ دو دن سے جس طرح سڑکوں پر ہجوم امڈ آیا ہے، اس نے خوشی کو اذیت، جشن کو زحمت اور آزادی کو شور میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ کیسا جشن ہے جس میں خوش ہونے والا ایک ہے اور پریشان ہونے والے ہزاروں؟
دنیا کی مہذب اقوام سے ذرا سیکھ لیجیے کہ قومی آزادی کا جشن کیسے منایا جاتا ہے۔ وہ اپنی آزادی کو محض شور، ہنگامے اور سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے میں تبدیل نہیں کرتیں۔ ان کے ہاں قومی دن تاریخ کو یاد کرنے، اپنے قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، قومی پرچم لہرانے، تقریبات منعقد کرنے، موسیقی اور فن کے ذریعے خوشی منانے، بچوں کو قومی تاریخ سے آگاہ کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ملک بنانے کے عزم کی تجدید کا موقع ہوتا ہے۔ جشن ضرور ہوتا ہے، مگر جشن کے ساتھ تہذیب بھی ہوتی ہے، خوشی بھی ہوتی ہے مگر دوسروں کے حق کا احترام بھی ہوتا ہے۔
ہم نے آزادی کو شاید صرف اپنے لیے آزادی سمجھ لیا ہے۔ مجھے خوشی منانے کی آزادی ہے تو میں دوسروں کو تنگ کرنے کے لیے بھی آزاد ہوں، مجھے سڑک پر نکلنے کی آزادی ہے تو میں راستہ بند کرنے کے لیے بھی آزاد ہوں، مجھے موٹر سائیکل چلانے کی آزادی ہے تو میں اس کا شور پورے محلے کو سنانے کے لیے بھی آزاد ہوں۔ یہ آزادی نہیں، آزادی کی بدترین تعبیر ہے۔
ذرا اس مریض کا بھی سوچیں جو گھر میں درد سے کراہ رہا ہے اور باہر باجے بج رہے ہیں۔ اس بچے کا بھی خیال کریں جو کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد صبح سکول جانے والا ہے۔ اس طالب علم کا بھی سوچیں جو امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔ اس بزرگ کا بھی خیال کریں جس کے لیے مسلسل شور اذیت بن جاتا ہے۔ اس شہری کا بھی حق تسلیم کریں جو سڑک پر آپ کے جشن کا حصہ بننا نہیں چاہتا۔ آخر اس کی آزادی کہاں گئی؟
مہذب قومیں اپنے قومی دن پر یہ نہیں دیکھتیں کہ کس نے سب سے زیادہ شور مچایا، کس نے سب سے خطرناک موٹر سائیکل چلائی، کس نے کتنی دیر سڑک بند رکھی یا کس نے کتنے لوگوں کو پریشان کیا۔ وہ یہ دیکھتی ہیں کہ ان کے ملک نے گزشتہ برس میں کیا حاصل کیا، کہاں ناکام ہوئے، آئندہ کیا کرنا ہے اور نئی نسل کو کس قسم کا ملک دینا ہے۔ وہاں جشنِ آزادی قومی شعور کا مظہر ہوتا ہے، اجتماعی بدتمیزی کا نہیں۔
ہمیں بھی جشن منانا چاہیے، ضرور منانا چاہیے، مگر ایسا جشن جس سے پاکستان خوبصورت نظر آئے، بدصورت نہیں؛ جس سے پاکستانی قوم مہذب دکھائی دے، ہجوم نہیں؛ جس سے دوسرے شہری خوش ہوں، پریشان نہیں۔ گھروں پر چراغ جلائیں، قومی پرچم لہرائیں، ملی نغمے سنیں، تقریبات میں جائیں، اپنے بچوں کو آزادی کی تاریخ بتائیں، شہداء کو یاد کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اپنے شہر کو صاف رکھیں۔ یہی آزادی کا خوبصورت جشن ہے۔
اور اگر جشنِ آزادی کے نام پر یہی باجے، یہی شور، یہی ہلڑ بازی، یہی خطرناک ڈرائیونگ اور یہی سڑکوں پر اودھم جاری رہا تو پھر سوال ضرور اٹھے گا کہ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، مگر تہذیب کب حاصل کریں گے؟
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ جو چاہیں کریں؛ آزادی کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کو بھی تسلیم کریں۔ جس دن ہم یہ معمولی سی بات سمجھ گئے، شاید اس دن جشنِ آزادی واقعی جشن بن جائے گا۔
فی الحال تو آزادی کا بجے گا باجہ، اور کان پھٹتے رہیں گے۔
واپس کریں