دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
14 اگست: جشن بھی، احتساب بھی
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
14 اگست پاکستان کے شہریوں کے لیے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ ایک ایسے خواب کی تعبیر کی علامت ہے جس کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کی، بے شمار قربانیاں دیں اور اپنے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ اس لیے یہ سوال کہ پاکستانیوں کو 14 اگست منانا چاہیے یا نہیں، میرے نزدیک بنیادی طور پر سوال ہی نہیں۔ یقیناً منانا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم 14 اگست کس طرح مناتے ہیں اور آزادی کو کس معنی میں سمجھتے ہیں۔
پاکستان کا قیام کوئی معمولی تاریخی واقعہ نہیں تھا۔ یہ برصغیر کی تاریخ کی ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی۔ لاکھوں انسان ہجرت پر مجبور ہوئے، ہزاروں خاندان اجڑ گئے، بے شمار جانیں گئیں اور ایک نئی مملکت نے انتہائی مشکل حالات میں اپنا سفر شروع کیا۔ ہمارے بزرگوں نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، اس میں آزادی محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں تھی۔ آزادی کا مطلب عزتِ نفس، سیاسی اختیار، مذہبی آزادی، معاشی مواقع، قانون کی بالادستی اور ایک ایسے معاشرے کا قیام تھا جہاں انسان کو اس کی شناخت، زبان، صوبے، مسلک یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھا جائے۔
اسی لیے 14 اگست پر سبز ہلالی پرچم لہرانا خوبصورت عمل ہے، قومی ترانے سننا بھی خوبصورت ہے، شہروں کو سجانا بھی خوشی کا اظہار ہے اور نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ بتانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ مگر اگر جشن صرف چند گھنٹوں کا شور بن جائے اور اگلے دن ہم پھر وہی مسائل، وہی ناانصافیاں، وہی بدعنوانی، وہی عدم برداشت اور وہی قومی بے حسی لے کر زندگی شروع کر دیں تو ہمیں اپنے جشن کے مفہوم پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
حب الوطنی کا سب سے آسان اظہار نعرہ ہے، مشکل اظہار کردار ہے۔ ملک سے محبت کرنا آسان ہے جب وطن کی تعریف صرف ایک پرچم، ایک ترانے اور چند جذباتی نعروں تک محدود ہو۔ اصل محبت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی شخص اپنے ملک کے کمزور شہری کے حق میں کھڑا ہوتا ہے، رشوت لینے سے انکار کرتا ہے، سرکاری وسائل کو ذاتی ملکیت نہیں سمجھتا، اپنے پیشے سے دیانت کرتا ہے، اختلاف رکھنے والے کو غدار قرار دینے کے بجائے اس کی بات سنتا ہے اور قانون کو اپنے مخالف کے لیے بھی وہی سمجھتا ہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔
ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ ریاست، حکومت اور وطن ایک چیز نہیں ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، سیاسی جماعتیں بنتی اور ختم ہوتی ہیں، حکمران تبدیل ہوتے ہیں، اداروں کے سربراہ بدلتے ہیں، مگر وطن باقی رہتا ہے۔ حکومت پر تنقید پاکستان سے دشمنی نہیں اور حکمران سے اختلاف ریاست سے بغاوت نہیں۔ ایک زندہ معاشرے میں سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور بہتر حکمرانی کی خواہش رکھنا دراصل وطن سے وفاداری کی علامت ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت آج شاید یہی ہے کہ ہم حب الوطنی کو جذبات سے نکال کر ذمہ داری میں تبدیل کریں۔
ہم اپنے بچوں کو یہ ضرور بتائیں کہ پاکستان کیسے بنا، مگر انہیں یہ بھی بتائیں کہ پاکستان کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ انہیں قائداعظم کی تقاریر سنائیں، مگر ساتھ یہ بھی سمجھائیں کہ قانون کی حکمرانی کیوں ضروری ہے۔ انہیں قومی ترانہ یاد کرائیں، مگر یہ بھی سکھائیں کہ دوسرے شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کرنا بھی پاکستانیت ہے۔ انہیں سبز ہلالی پرچم دیں، مگر یہ بھی بتائیں کہ اس پرچم کے سفید حصے میں موجود اقلیتیں بھی اسی وطن کی برابر کی شہری ہیں۔
14 اگست ہمیں ماضی پر فخر کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن مستقبل سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ آزادی کے اتنے برس بعد عام پاکستانی کو کتنی معاشی آزادی حاصل ہے؟ کتنے نوجوان اپنی صلاحیت کے مطابق روزگار حاصل کر پاتے ہیں؟ کتنے بچے معیاری تعلیم تک پہنچ سکتے ہیں؟ کتنے شہری قانون کے سامنے خود کو برابر محسوس کرتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنے سیاسی، صحافتی اور فکری اختلاف کا اظہار بلاخوف کر سکتے ہیں؟ کتنے پاکستانیوں کو صحت، انصاف اور بنیادی سہولتیں ریاست کی ذمہ داری کے طور پر میسر ہیں؟
یہ سوال پاکستان کے خلاف نہیں ہیں، یہ پاکستان کے حق میں سوال ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں سوال پوچھنے کی اجازت نہ ہو، ترقی نہیں کر سکتا۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کرے، اپنی تاریخ سے بھی سبق نہیں سیکھ سکتا۔ اور ایک ایسی قوم جو ہر ناکامی کا ذمہ دار بیرونی دنیا کو قرار دے، اپنی اصلاح کا راستہ کبھی نہیں ڈھونڈ سکتی۔
پاکستان کے مسائل یقیناً بہت ہیں، مگر پاکستان کے امکانات بھی کم نہیں۔ دنیا کے اہم ترین جغرافیائی خطوں میں واقع یہ ملک ایک بڑی نوجوان آبادی رکھتا ہے، قدرتی وسائل رکھتا ہے، زرعی صلاحیت رکھتا ہے، سمندر تک رسائی رکھتا ہے، باصلاحیت افرادی قوت رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی قوم رکھتا ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ قومی توانائی کو باہمی نفرت، سیاسی دشمنی اور الزام تراشی میں ضائع کرنے کے بجائے تعمیر کی طرف منتقل کیا جائے۔
14 اگست پر ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا گھر، مال، جان اور مستقبل قربان کیا۔ وہ لوگ جنہوں نے ایک نئے وطن کا خواب صرف اس لیے نہیں دیکھا تھا کہ ایک نیا پرچم وجود میں آئے، بلکہ اس لیے دیکھا تھا کہ ان کی آنے والی نسلیں ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ اگر ہم ان کی قربانیوں کو واقعی خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے حصے کا پاکستان بہتر بنانا ہوگا۔
ایک استاد اگر اپنی کلاس میں ایمانداری سے پڑھاتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر اگر مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ ایک پولیس اہلکار اگر طاقت کے بجائے قانون کے مطابق عمل کرتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ ایک صحافی اگر خوف اور لالچ سے آزاد ہو کر سچ لکھتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ ایک جج اگر طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون دیکھتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ ایک سیاست دان اگر اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت سمجھتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔ اور ایک عام شہری اگر اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا بھی احترام کرتا ہے تو وہ پاکستان بنا رہا ہے۔
اس لیے مجھے 14 اگست منانے پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ میں اسے ضروری سمجھتا ہوں۔ مگر میں ایسا جشن چاہتا ہوں جس میں جذبات کے ساتھ شعور بھی ہو، فخر کے ساتھ خود احتسابی بھی ہو، ماضی کی یاد کے ساتھ مستقبل کا عزم بھی ہو۔ آج جب ہم اپنے گھروں، گاڑیوں، بازاروں اور سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے رک کر یہ بھی سوچیں کہ اس پرچم کی حرمت صرف اسے لہرانے سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کی اصل حرمت اس وقت قائم ہوتی ہے جب اس کے سائے میں رہنے والے ہر شہری کو عزت، انصاف اور تحفظ ملے۔
پاکستان کو صرف دشمنوں سے نہیں، ہماری اپنی کمزوریوں سے بھی خطرہ ہے۔ جہالت، بدعنوانی، ناانصافی، انتہا پسندی، سیاسی عدم برداشت، ادارہ جاتی کمزوری، قانون سے بالاتر ہونے کا تصور اور قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کسی بھی ملک کو اندر سے کھوکھلا کر سکتے ہیں۔ اس لیے 14 اگست ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ پاکستان حاصل کیا گیا تھا، بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کو سنبھالنا اور بہتر بنانا ہماری مسلسل ذمہ داری ہے۔
آج جشن منائیے، دل کھول کر منائیے۔ پرچم لہرائیے، ملی نغمے سنیے، بچوں کو پاکستان کی تاریخ بتائیے اور ان لوگوں کو سلام کیجیے جنہوں نے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں۔ مگر رات ختم ہونے سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کیجیے کہ ہم نے پاکستان سے کیا لیا اور پاکستان کو کیا دیا؟
اگر اس سوال کا جواب ہمارا ضمیر مطمئن کر دے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے 14 اگست واقعی منایا ہے۔ ورنہ صرف پرچم لہرانا جشنِ آزادی نہیں، آزادی کے معنی سمجھنا جشنِ آزادی ہے۔
پاکستان زندہ باد
واپس کریں