دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا خوب سودہ نقد ہے
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا سہیل آفریدی کا یہ بیان پڑھ کر پہلے تو آدمی آئین اٹھاتا ہے، پھر حساب کتاب دیکھتا ہے اور آخر میں بے اختیار ہنسنے لگتا ہے کہ اس ملک میں آخر ہو کیا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ فرما رہے ہیں کہ وفاق صوبے کو واجب الادا 6.4 ارب روپے کی رقم میں یکطرفہ کٹوتی نہیں کرسکتا، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو ایسا اختیار نہیں دیتا۔ بہت خوب! یعنی معاملہ آئین تک پہنچ گیا۔ لیکن اسی کے ساتھ اگر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صوبے کو یہ رقم حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینا ہوگی تو پھر سوال یہ ہے کہ آئین کے کس آرٹیکل میں واجب الادا رقم کی ادائیگی کے ساتھ سیاسی ملاقات کی شرط لکھی ہوئی ہے؟
کمال دیکھیے، ایک طرف صوبائی حکومت کہتی ہے کہ وفاق آئینی اختیار کے بغیر صوبے کے پیسے نہیں کاٹ سکتا، دوسری طرف معاملہ یوں پیش کیا جارہا ہے جیسے صوبے کے اربوں روپے کسی سرکاری کھاتے میں نہیں بلکہ سیاسی ملاقات کے دروازے کے پیچھے رکھے ہوں۔ یعنی پیسہ صوبے کا، حساب آئین کا، مگر چابی عمران خان کی ملاقات کی!
یہ پاکستان ہے یا کوئی ایسی دکان جہاں پہلے ملاقات کرو، پھر واجب الادا رقم لے جاؤ؟ اگر وفاق پر واقعی خیبرپختونخوا کے 6.4 ارب روپے واجب الادا ہیں تو ادائیگی قانون اور مالیاتی نظام کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر رقم واجب الادا نہیں تو وفاق حساب پیش کرے۔ اگر کٹوتی قانونی ہے تو قانونی بنیاد بتائی جائے۔ لیکن اگر رقم بھی صوبے کی ہے اور اس کی ادائیگی بھی کسی سیاسی ملاقات سے مشروط کی جارہی ہے تو پھر عوام کو یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ ریاستی خزانہ چل رہا ہے یا سیاسی بارگین کا بازار؟
اور یہاں اصل مزاح تو عمران خان سے ملاقات پر پابندی کا ہے۔ آخر ملاقات سے اتنا خوف کیوں؟ اگر سابق وزیراعظم سے ملاقات محض ایک ملاقات ہے تو اسے روکنے کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر ملاقات اتنی خطرناک چیز ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک صوبے کے 6.4 ارب روپے کا معاملہ حل یا خراب ہوسکتا ہے تو پھر حکومت کو قوم کو بتانا چاہیے کہ ملاقات میں آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ خزانے، آئین اور وفاقی صوبائی تعلقات سب اس کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے، ایک صوبائی حکومت وفاق سے اپنے واجبات مانگ رہی ہے اور سیاسی ماحول یہ بنا ہوا ہے کہ پہلے قیدی سے ملاقات کرو، پھر پیسے کی بات کرو۔ دنیا کی سنجیدہ ریاستیں اپنے مالی معاملات فائلوں، بجٹ، حسابات، قوانین اور آئینی اداروں کے ذریعے چلاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اگر یہ نیا اصول واقعی نافذ ہوگیا ہے تو کل کوئی صوبہ سڑکوں کے پیسے مانگے گا تو شاید جواب آئے گا: پہلے فلاں رہنما سے ملاقات کا بندوبست کرو۔ پنشن مانگو تو ملاقات۔ ترقیاتی فنڈ مانگو تو ملاقات۔ بجلی کا حساب مانگو تو ملاقات۔ گویا پاکستان میں آئینی و مالیاتی نظام کی جگہ اب ملاقاتاتی نظام نافذ ہونے والا ہے۔
وزیراعلیٰ کا آرٹیکل 164 کا حوالہ اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ آئین کی بات ہونی چاہیے، قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور وفاق و صوبے کے مالی معاملات شفاف طریقے سے طے ہونے چاہئیں۔ لیکن پھر یہی اصول ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے۔ اگر آئین صوبے کے مالی حقوق کی حفاظت کرتا ہے تو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی صوبے کے مالی حقوق کو مشروط نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر وفاق کے پاس کسی رقم کی کٹوتی یا روکنے کی قانونی وجہ ہے تو وہ عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ آئین کو صرف اپنے حق میں بطور دلیل استعمال کرنا اور باقی معاملات کو سیاسی مصلحت کے حوالے کردینا عجیب قسم کی آئینی دیانت داری ہے۔
اصل سوال 6.4 ارب روپے سے بھی بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات اب سیاسی ملاقاتوں کے تابع ہوں گے؟ کیا کسی سیاسی رہنما سے ملاقات کی اجازت دینا یا نہ دینا سرکاری واجبات کے تصفیے کا معیار بنے گا؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر آئین کی کتابیں بند کردیجیے، وزارت خزانہ کو چھٹی دے دیجیے اور ایک نیا محکمہ قائم کردیجیے: وزارتِ ملاقات و ادائیگی۔
اور اگر جواب نہیں ہے تو پھر سیدھی سی بات ہے: خیبرپختونخوا کے واجب الادا 6.4 ارب روپے کا حساب کیا جائے، قانونی بنیاد سامنے لائی جائے اور رقم واجب الادا ہے تو ادا کی جائے۔ عمران خان سے کون ملتا ہے، کب ملتا ہے اور کیوں ملتا ہے، اسے سیاسی اور قانونی معاملات کے مطابق طے ہونے دیں۔
ہم نے ریاست کو اتنا پیچیدہ بنا دیا ہے کہ اب ایک صوبہ اپنے پیسے مانگ رہا ہے، وفاق سے آئین کی دہائی دے رہا ہے، اور درمیان میں ایک سیاسی ملاقات کھڑی ہے۔ آدمی ہنسے بھی نہ تو کیا کرے؟
واقعی یہ ملک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں آئین رقم کا راستہ تلاش کررہا ہے، حکومت ملاقات کا راستہ روک رہی ہے، صوبہ اپنے پیسے مانگ رہا ہے اور سیاست دان ایک دوسرے سے ملنے کے لیے اجازت نامے تلاش کررہے ہیں۔
پھر بھی ہم کہتے ہیں پاکستان ترقی کیوں نہیں کرتا؟
جناب، پہلے یہ طے تو کرلیجیے کہ ملک آئین سے چلنا ہے، حساب کتاب سے چلنا ہے یا ملاقات سے۔
واپس کریں