خالد خان۔ کالم نگار
سینئر صحافی مظہر عباس نے روزنامہ جنگ میں کراچی پریس کلب کی بدلتی فضا، آزادیٔ صحافت پر بڑھتی پابندیوں اور اس احساسِ گھٹن پر لکھا ہے جو کبھی صحافیوں کے لیے مزاحمت اور آزادی کی علامت سمجھے جانے والے اس مرکز میں بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ جب خبر کو روکا جاتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتی، بلکہ کسی دوسرے راستے سے زیادہ غیر مصدقہ اور بعض اوقات زیادہ خطرناک شکل میں سامنے آتی ہے۔ یہ بات درست ہے، مگر آج پاکستان میں صحافت کا بحران صرف پابندیوں کا بحران نہیں رہا۔ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ سنگین اور پیچیدہ ہوچکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب صحافی کو خبر روکنے کے لیے سرکاری حکم، سنسر، فون کال، نوٹس یا اشتہاری دباؤ کافی سمجھا جاتا تھا۔ آج صورت حال بدل چکی ہے۔ اب صحافی صرف ریاستی دباؤ کا سامنا نہیں کرتا بلکہ اسے سیاسی جماعتوں، مسلح گروہوں، مذہبی گروہوں، مقامی بااثر افراد، کاروباری مفادات، جرائم پیشہ عناصر اور سوشل میڈیا کے منظم ہجوم سمیت متعدد طاقتوں سے بیک وقت نمٹنا پڑتا ہے۔ پابندی اب صرف یہ نہیں کہ ’’یہ خبر نہ چلاؤ‘‘؛ خطرہ یہ بھی ہے کہ خبر چلانے پر قتل کردیا جائے، اغوا کرلیا جائے، تشدد کیا جائے، گھر پر حملہ ہو، خاندان کو دھمکایا جائے، نوکری چھیننے کی کوشش کی جائے یا سوشل میڈیا پر کردار کشی کا ایک منظم طوفان کھڑا کردیا جائے۔
یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس پر ہماری صحافتی بحث ابھی پوری طرح متوجہ نہیں ہوئی۔
آج کا صحافی ایک ایسے ماحول میں کام کررہا ہے جہاں طاقت مرکز میں محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے میں پھیل چکی ہے۔ پہلے طاقت کا ایک بڑا مرکز ریاست تھی؛ اب طاقت کے کئی مراکز ہیں اور ہر مرکز اپنی مرضی کا بیانیہ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر کچھ خبریں محدود رہیں، سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ اس کے خلاف خبر کو سازش قرار دیا جائے، مسلح گروہ چاہتا ہے کہ اس کی کارروائی کو اپنے بیانیے کے مطابق رپورٹ کیا جائے، بااثر مقامی شخص اپنے خلاف خبر برداشت نہیں کرتا، کاروباری گروہ اپنے مفادات کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ نہیں چاہتا اور سوشل میڈیا کا سیاسی ہجوم کسی صحافی کو چند منٹوں میں غدار، لفافہ، ایجنٹ یا دشمن قرار دے سکتا ہے۔
یوں صحافت کے سامنے مسئلہ ایک پابندی کا نہیں بلکہ طاقت کے متعدد مراکز کا ہے۔
اور اس تبدیلی کے پیچھے سب سے اہم سبب ریاستی رٹ کا کمزور ہونا اور معاشرے میں طاقت کے غیر رسمی مراکز کا پھیلاؤ ہے۔ جہاں قانون کا نفاذ یکساں نہ ہو، وہاں طاقتور شخص قانون سے پہلے اپنا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ جہاں انصاف سست ہو، وہاں دھمکی مؤثر ہوجاتی ہے۔ جہاں صحافی کے تحفظ کی ضمانت عملی طور پر موجود نہ ہو، وہاں ہر طاقتور گروہ جانتا ہے کہ صحافی کو دبانے کی قیمت شاید اسے ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
یہی وجہ ہے کہ آج آزادیٔ صحافت کا سوال صرف آئینی حق کا سوال نہیں رہا؛ یہ قانون کی حکمرانی کا سوال بن چکا ہے۔
اگر ایک صحافی کو خبر شائع کرنے کے بعد عدالت سے زیادہ کسی مسلح گروہ، سیاسی کارکن، بااثر شخصیت یا نامعلوم نمبر سے آنے والی دھمکی کا خوف ہو تو مسئلہ صرف میڈیا کا نہیں، ریاستی نظام کا ہے۔
دوسرا بڑا سبب صحافت کی معاشی کمزوری ہے۔ ایک ایسا میڈیا جو اشتہارات، حکومتی واجبات، کاروباری مفادات اور چند بڑے مالکان کے مالی فیصلوں پر غیر معمولی انحصار کرے گا، وہ مکمل ادارتی آزادی برقرار رکھنے میں مسلسل مشکل محسوس کرے گا۔ جب صحافی کی تنخواہ غیر یقینی ہو، ادارہ مالی بحران کا شکار ہو اور مالک کے اپنے کاروباری مفادات ریاست اور طاقتور طبقات سے وابستہ ہوں تو آزادیٔ صحافت کا نعرہ عملی زندگی میں بہت کمزور پڑ جاتا ہے۔
تیسرا سبب میڈیا کی اپنی داخلی تقسیم ہے۔ صحافی برادری اب ایک متحد پیشہ ورانہ قوت نہیں رہی۔ سیاسی وابستگیوں، ادارتی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور معاشی مجبوریوں نے اجتماعی مزاحمت کو کمزور کردیا ہے۔ ایک صحافی پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرا کبھی اس لیے خاموش رہتا ہے کہ وہ حملہ آور کے سیاسی یا نظریاتی کیمپ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا۔ جب صحافت اپنے ہی لوگوں کے لیے غیر مشروط طور پر کھڑی نہ ہو تو طاقتور طبقے کو اسے تقسیم کرکے قابو کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
چوتھا اور شاید سب سے خطرناک سبب یہ ہے کہ معاشرے میں اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتیں مخالف صحافی کو دشمن سمجھنے لگی ہیں، ریاست مخالف آواز کو خطرہ سمجھ سکتی ہے، مذہبی اور نظریاتی گروہ تنقید کو توہین سمجھ سکتے ہیں اور سوشل میڈیا کے کارکن اختلاف کو ذاتی جنگ بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ صحافی کو ہر طرف سے ایک ہی پیغام ملتا ہے: ہماری لکیر کے اندر رہو۔
یہی اصل گھٹن ہے۔
اس ماحول میں صحافی کے سامنے دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو وہ ہر طاقتور گروہ کے ساتھ کسی نہ کسی درجے میں سمجھوتا کرے، یا پھر خطرات مول لے کر اپنا کام کرے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہر صحافی کے پاس خطرات برداشت کرنے کے یکساں وسائل نہیں ہوتے۔ ایک نوجوان رپورٹر، ایک فری لانس صحافی اور ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے معروف اینکر کے خطرات اور تحفظ کی سطح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے آزادیٔ صحافت کی بحث کو صرف بڑے شہروں کے بڑے میڈیا اداروں تک محدود کرنا بھی ایک غلطی ہے۔
اصل آزمائش تو اس ضلعی، علاقائی اور مقامی صحافی کی ہے جو دہشت گردی، جرائم، سیاست اور بااثر مقامی افراد کے درمیان رہ کر خبر بناتا ہے اور جس کے پاس نہ بڑی قانونی ٹیم ہوتی ہے، نہ سکیورٹی اور نہ ہی کسی بڑے ادارے کی مکمل پشت پناہی۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی: خبر کے ذرائع بدلنے سے صحافت نہیں بچتی، صحافتی ادارے مضبوط ہونے سے بچتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اطلاعات کی اجارہ داری ختم کردی ہے، مگر اس نے سچ کی ضمانت پیدا نہیں کی۔ اب ہر شخص خبر کا ناشر ہے، مگر ہر شخص صحافی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ معتبر صحافت کمزور ہوتی ہے تو افواہ، پروپیگنڈا اور مصنوعی بیانیہ اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔
اسی لیے ریاست اگر واقعی ڈس انفارمیشن سے لڑنا چاہتی ہے تو اسے صحافت کو محدود کرنے کے بجائے معتبر صحافت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ معلومات چھپانے سے افواہ نہیں مرتی؛ شفاف معلومات افواہ کو شکست دیتی ہیں۔
اسی طرح صحافت کو بھی اپنے اندر اصلاح کرنا ہوگی۔ آزادی کا مطلب غیر ذمہ داری نہیں۔ خبر کی تصدیق، ذرائع کی حفاظت، الزام اور ثابت شدہ حقیقت میں فرق، ذاتی مفاد سے فاصلہ اور پیشہ ورانہ اخلاقیات وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر آزادیٔ صحافت کا مقدمہ کمزور ہوجاتا ہے۔
لیکن اس اصلاح کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی کو طاقتور کے سامنے خاموش کردیا جائے۔
اصل اصول بہت سادہ ہے: صحافی کو حکومت سے بھی سوال کرنا چاہیے، اپوزیشن سے بھی، ریاستی اداروں سے بھی، مسلح گروہوں سے بھی، مذہبی گروہوں سے بھی، کاروباری طاقتوں سے بھی اور اپنے میڈیا مالک سے بھی۔ جس صحافی کے سوال کا رخ صرف ایک طاقتور فریق کی طرف ہو، وہ مکمل صحافی نہیں بلکہ کسی نہ کسی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔
آج کراچی پریس کلب کے گرد کھڑے کنٹینر ایک علامت ضرور ہیں، مگر اصل رکاوٹیں کنٹینروں سے کہیں بڑی ہیں۔ اصل رکاوٹ خوف ہے۔ وہ خوف جو خبر لکھنے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس خبر سے کون ناراض ہوگا، کون دھمکی دے سکتا ہے، کون نوکری چھین سکتا ہے، کون سوشل میڈیا پر حملہ کرسکتا ہے اور کون اس خبر کو اپنی دشمنی کا جواز بنا سکتا ہے۔
یہ خوف صرف حکومت نے پیدا نہیں کیا۔ یہ خوف اس پورے طاقت کے ڈھانچے نے پیدا کیا ہے جس میں ریاست، سیاست، غیر ریاستی گروہ، سرمایہ، میڈیا مالکان اور معاشرتی عدم برداشت مختلف شکلوں میں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں۔
اسی لیے آزادیٔ صحافت کی بحالی صرف حکومت سے مطالبہ کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔ ضرورت ایک ایسے سماجی اور قانونی معاہدے کی ہے جس میں صحافی کو خبر دینے پر قتل، اغوا، تشدد اور دھمکی سے حقیقی تحفظ ملے؛ میڈیا اداروں کو مالی اور ادارتی خودمختاری حاصل ہو؛ صحافتی تنظیمیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی ہوں؛ ریاست معلومات تک رسائی دے؛ اور ہر طاقتور گروہ کو یہ واضح پیغام ملے کہ صحافی پر حملہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ قانون اور عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہے۔
مظہر عباس نے گھٹن کی نشاندہی کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس گھٹن کو صرف پریس کلب کے دروازے پر کھڑے کنٹینروں میں تلاش کریں گے یا اس پورے نظام میں بھی دیکھیں گے جہاں صحافی کو اب صرف خبر روکنے کا حکم نہیں ملتا، بلکہ خبر دینے کی قیمت کبھی نوکری، کبھی مقدمہ، کبھی تشدد، کبھی اغوا اور کبھی زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
اگر ہم نے اس فرق کو نہیں سمجھا تو ہم آزادیٔ صحافت کی پرانی تعریف سے آج کے نئے خطرے کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
اور آج کا خطرہ صرف سنسر شپ نہیں۔
آج کا اصل خطرہ یہ ہے کہ طاقت کے اتنے مراکز پیدا ہوگئے ہیں کہ صحافی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سچ لکھنے کے بعد گولی کس طرف سے آئے گی۔
واپس کریں