خالد خان۔ کالم نگار
کسی انسان کی مجبوری کو مذاق بنانا آسان ہے، مگر اس مجبوری کی جڑ تک پہنچنا مشکل۔ سوشل میڈیا پر اس کم عمر لڑکے کی یہ تصویر گردش کر رہی ہے جو براہِ راست گدھی کا دودھ پی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس پر لطیفے بنائے، طنز کیا، اسے تماشا بنایا، مگر شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہو کہ وہ دودھ نہیں پی رہا، وہ اپنی بھوک مٹا رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ عمل معیوب سمجھا جا سکتا ہے، لیکن بھوک کسی تہذیب، روایت، رسم، مذہب یا سماجی معیار کی پابند نہیں ہوتی۔ جب کئی دن کا خالی پیٹ انسان کے سامنے کھڑا ہو تو وہ عزتِ نفس، پسند و ناپسند اور معاشرتی رویوں سے پہلے زندہ رہنے کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بھوک بذاتِ خود ایک مذہب ہے، اور اس مذہب کا پہلا اور آخری عقیدہ صرف زندہ رہنا ہے۔
اگر یہ بچہ واقعی افلاس اور محرومی کا شکار ہے تو اس پر ہنسنے کے بجائے ہمیں اس نظام پر رونا چاہیے جس نے اسے اس مقام تک پہنچایا۔ یہ کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی اجتماعی ناکامی ہے جہاں دولت کے انبار بھی موجود ہیں اور بھوک سے بلکتے بچے بھی۔
سرمایہ داری کی بے لگام دوڑ نے دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیا ہے، جبکہ کروڑوں انسان بنیادی خوراک، علاج اور تعلیم سے محروم ہیں۔ طبقاتی نظام نے ایک طرف محلات کھڑے کر دیے ہیں اور دوسری طرف جھونپڑیوں میں بھوک کو مستقل مہمان بنا دیا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے؛ ایک وہ جو ضرورت سے زیادہ رکھتا ہے، اور دوسرا وہ جس کے پاس جینے کے لیے بھی کافی نہیں۔
جمہوریت کا حسن عوام کی خوشحالی میں ہوتا ہے، لیکن جب انتخابات تو باقاعدگی سے ہوں مگر عوام کے دسترخوان خالی رہیں، جب ایوان روشن ہوں مگر گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوں، تو ایسے نظام پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ نام کچھ بھی ہو، اگر ریاست اپنے کمزور شہری کو دو وقت کی روٹی، علاج اور باعزت زندگی نہ دے سکے تو اس کی کامیابی کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے شہروں میں مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، مگر بہت سے گھروں کے برتن خالی رہتے ہیں۔ عبادت یقیناً ایمان کا حصہ ہے، مگر بھوکے کو کھانا کھلانا، نادار کا سہارا بننا اور کمزور کا ہاتھ تھامنا بھی اسی ایمان کا تقاضا ہے۔ مذہب انسان کو صرف سجدہ کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ بھوکے کے منہ میں نوالہ ڈالنا بھی سکھاتا ہے۔
اس لیے اس بچے پر قہقہے مت لگائیے۔ اس کی تصویر کو تفریح نہ بنائیے۔ اگر کسی پر تنقید کرنی ہے تو اس معاشی، سماجی اور سیاسی نظام پر کیجیے جس نے ایک کم سن انسان کو اس حال تک پہنچا دیا۔ کیونکہ انسان کی غربت پر نہیں، غربت پیدا کرنے والے حالات پر بات ہونی چاہیے۔ بھوک کبھی تماشا نہیں ہوتی، یہ ایک المیہ ہے، اور ہر المیہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوال ہوتا ہے۔
واپس کریں