دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پولیس تحویل، مبہم کہانی اور دو لاشیں؛ جواب کون دے گا؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
ایک ریاست کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کے سامنے وہ شخص کھڑا ہو جس کے پاس طاقت نہیں ہوتی۔ طاقتور کے لیے قانون کے دروازے کھلے ہوتے ہیں، مگر کمزور کے لیے قانون ہی آخری امید ہوتا ہے۔لاہور ٹاؤن شپ میں دو خواتین کی موت کا واقعہ اسی امید، اسی نظام اور اسی ذمہ داری پر سوال اٹھا رہا ہے۔
کہانی ایک فون کال سے شروع ہوتی ہے۔
کسی نے 15 پر اطلاع دی۔ پولیس پہنچی۔ دو خواتین کو ساتھ لے گئی۔ کہا گیا کہ وہ چوری اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں مطلوب تھیں۔ انہیں تھانے منتقل کیا گیا۔ پھر اچانک خبر آتی ہے کہ دونوں کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ ریسکیو 1122 بلائی گئی۔ ہسپتال پہنچایا گیا اور دونوں خواتین دنیا سے چلی گئیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ ان چند گھنٹوں میں کیا ہوا؟
پولیس نے کہا کہ دونوں خواتین منشیات کی زیادتی کے باعث ہلاک ہوئیں۔ لیکن نظام انصاف صرف بیانات پر نہیں چلتا، حقائق مانگتا ہے۔ اور یہاں حقائق سے زیادہ خاموشی نظر آ رہی ہے۔
اگر وہ واقعی چوری اور دھوکہ دہی میں ملوث تھیں تو مقدمہ کہاں ہے؟ ایف آئی آر نمبر کیا ہے؟ دفعات کون سی ہیں؟ مدعی کون ہے؟ پولیس نے گرفتاری کس قانونی بنیاد پر کی؟ عوام کو یہ بنیادی معلومات کیوں نہیں دی گئیں؟
اگر وہ منشیات کی عادی تھیں تو گرفتاری کے وقت ان کی حالت کیا تھی؟ کیا وہ نشے میں تھیں؟ کیا پولیس نے انہیں طبی امداد دی؟ کیا کوئی میڈیکل چیک اپ کرایا گیا؟ کیا حراست میں لینے کے وقت ان کی حالت کا کوئی ریکارڈ بنایا گیا؟
اور اگر وہ گرفتاری کے وقت معمول کی حالت میں تھیں تو پھر چند گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ دونوں خواتین موت کے دروازے تک پہنچ گئیں؟
ریاستی تحویل کوئی معمولی معاملہ نہیں ہوتی۔ جب ایک شہری پولیس کے پاس چلا جاتا ہے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ریاست کی ہوتی ہے۔ وہ شخص ملزم ہو سکتا ہے، مگر اس کی جان قانون کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پولیس نے انہیں تھانے کیوں منتقل کیا؟ اگر حالت خراب تھی تو ہسپتال کیوں نہیں لے جایا گیا؟ اور اگر حالت ٹھیک تھی تو پھر تھانے کے اندر یا حراست کے دوران ایسا کیا ہوا کہ دو زندگیاں ختم ہوگئیں؟
یہاں مسئلہ صرف دو خواتین کا نہیں۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے جس میں غریب، بے سہارا اور کمزور انسان اکثر صرف ایک نمبر، ایک الزام یا ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔
قانون کا مطلب صرف گرفتاری نہیں، قانون کا مطلب تحفظ بھی ہے۔ انصاف کا مطلب صرف مجرم پکڑنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کسی انسان کے ساتھ ریاستی اختیار کے استعمال میں ناانصافی نہ ہو۔
ٹاؤن شپ کا واقعہ ایک بار پھر وہی پرانا سوال سامنے لے آیا ہے:
جو لوگ قانون کی تحویل میں جاتے ہیں، کیا ان کی زندگی کی ذمہ داری بھی قانون اٹھاتا ہے؟
دو خواتین کی موت کا جواب صرف پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں دے گی، بلکہ اس نظام نے بھی دینا ہوگا جو انہیں زندہ حالت میں اپنے پاس لے کر گیا اور مردہ حالت میں واپس کیا۔
کیونکہ اصل کہانی موت نہیں، وہ چند گھنٹے ہیں جو موت سے پہلے گزرے۔
واپس کریں