دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مزدور فرشتے ۔ خالد خان
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جنہوں نے ابھی زندگی کی الف، بے بھی مکمل نہیں سیکھی مگر وقت نے انہیں روزگار کے سبق رٹا دیے ہیں۔ ان کے ننھے ہاتھوں میں کتابوں، کھلونوں اور رنگین خوابوں کے بجائے اوزار، اینٹیں، برتن، کپڑے، چائے کی ٹرے اور مشقت کا بوجھ ہے۔ یہ بچے اپنی مرضی سے مزدور نہیں بنے، انہیں غربت، بے روزگاری اور طبقاتی نظام نے مزدور بنایا ہے۔ ان کی کہانی صرف چائلڈ لیبر کی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی کہانی ہے جو اپنے کمزور ترین شہریوں کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام رہا۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق پاکستان میں پنجاب کے تقریباً 60 لاکھ، سندھ کے 16 لاکھ، خیبر پختونخوا کے ساڑھے 7 لاکھ، بلوچستان کے 2 لاکھ اور اسلام آباد کے 14 ہزار بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ کا حصہ نہیں بلکہ لاکھوں ٹوٹے ہوئے خوابوں، ادھوری خواہشوں اور خاموش قربانیوں کی داستان ہیں۔
ہمیں ایک لمحے کے لیے خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا دنیا کا کوئی باپ یا ماں اپنے بچے کو خوشی سے مزدوری پر بھیجتے ہیں؟ جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ تعلیم حاصل کرے، محفوظ زندگی گزارے، عزت کے ساتھ آگے بڑھے اور ان سے بہتر مستقبل بنائے۔ لیکن جب گھر میں فاقے ہوں، روزگار نہ ہو، بیمار والدین علاج کے محتاج ہوں، چھوٹے بہن بھائی بھوک سے بلک رہے ہوں اور آمدنی کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہو تو یہی معصوم بچے اپنے خاندان کا سہارا بن جاتے ہیں۔
یہ بچے حقیقت میں مزدور نہیں بلکہ اپنے گھروں کے فرشتے ہیں۔ یہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔ ان کی کمائی سے گھر کا چولہا جلتا ہے، دوائی خریدی جاتی ہے، کرایہ ادا ہوتا ہے اور خاندان زندہ رہتا ہے۔ ان کے ننھے کندھوں پر صرف بوری، اوزار یا سامان نہیں بلکہ پورے خاندان کی امیدیں ہوتی ہیں۔
چائلڈ لیبر کے خلاف قانون بنانا اور اس پر عمل کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن صرف پابندی لگا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کسی بچے کو کام سے ہٹا دیا جائے اور اس کے خاندان کی آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ نہ ہو تو اس گھر کے افراد کس سہارے زندہ رہیں گے؟ بھوک کسی قانون کو نہیں مانتی۔ اس لیے قانون کے ساتھ ساتھ ریاست پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ ہر خاندان کو باعزت روزگار، مناسب اجرت، مفت اور معیاری تعلیم، بنیادی صحت کی سہولتیں اور سماجی تحفظ فراہم کرے۔
اصل مسئلہ چائلڈ لیبر سے کہیں بڑا ہے۔ مسئلہ وہ طبقاتی نظام ہے جس میں ایک طبقے کے بچے جدید ترین تعلیمی اداروں میں بہترین سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ دوسرے طبقے کے بچے ورکشاپوں، کارخانوں، ہوٹلوں، کھیتوں اور بازاروں میں اپنی بچپن کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ جب تک معاشی انصاف قائم نہیں ہوگا، وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی اور قانون سب پر یکساں نافذ نہیں ہوگا، اس وقت تک چائلڈ لیبر کے خلاف ہر مہم ادھوری رہے گی۔
پاکستان کو صرف قوانین نہیں بلکہ ایک حقیقی فلاحی ریاست کی ضرورت ہے، ایسی ریاست جہاں کسی بچے کو اپنے والدین کا سہارا بننے کے لیے تعلیم چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے، جہاں ہر باپ اپنے بچوں کی کفالت اپنی محنت سے کرسکے اور ہر ماں یہ اطمینان رکھے کہ اس کا بچہ سکول میں ہے، کسی ورکشاپ یا بھٹے پر نہیں۔
یہ معصوم بچے مجرم نہیں، حالات کے قیدی ہیں۔ ان سے ان کی معمولی سی آمدنی بھی چھین لینا انصاف نہیں ہوگا، انصاف یہ ہوگا کہ ان کے والدین کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ بچے دوبارہ کتاب، قلم، کھیل اور خوابوں کی دنیا میں واپس لوٹ سکیں۔ جس دن پاکستان میں قانون کی حقیقی عملداری، معاشی انصاف اور فلاحی ریاست کا تصور عملی شکل اختیار کر لے گا، اسی دن یہ مزدور فرشتے اپنے کندھوں سے غربت کا بوجھ اتار کر اپنے بچپن کو واپس حاصل کر سکیں گے۔
واپس کریں