خالد خان۔ کالم نگار
نمروز کے صحرا میں سورج ہمیشہ سے بے رحم رہا ہے۔ یہاں زمین دور دور تک پھیلی ہوئی ریت، خشک پہاڑی سلسلوں اور تپتی ہواؤں سے پہچانی جاتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، بارش انتہائی کم ہوتی ہے، پانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے بڑی مشکل بھی۔ مگر چند دن پہلے اسی صحرا نے ایک ایسا انسانی المیہ دیکھا جس نے اکیسویں صدی کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی تہذیب کے دعووں پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا۔
14 افغان نوجوان، جو اپنے وطن سے ایران کی طرف بہتر زندگی کی تلاش میں روانہ ہوئے تھے، نمروز کے راستے میں موت کا شکار ہو گئے۔ وہ موت کی تلاش میں نہیں نکلے تھے، وہ روزگار، امن، معاشی تحفظ اور اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کی امید لے کر نکلے تھے، لیکن زندگی کی تلاش کا یہ سفر صحرا کی ریت میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ نوجوان انسانی سمگلروں کے ذریعے ایک ٹرک میں چھپا کر ایران لے جائے جا رہے تھے۔ صحرائی راستے میں ٹرک خراب ہو گیا۔ ڈرائیور کسی طرح قریبی آبادی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور واقعے کی اطلاع دی، لیکن جب امدادی ٹیمیں ان نوجوانوں کی تلاش میں پہنچیں تو 14 کے 14 افراد مردہ حالت میں ملے۔ شدید گرمی، بھوک اور پیاس نے ان کی جان لے لی تھی۔ بعض لاشیں ریت میں دب چکی تھیں۔ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسانی بحران کی علامت ہے جہاں انسان اپنے ہی ملک میں زندگی کے بنیادی مواقع سے محروم ہو کر موت کے خطرناک راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ افغانستان کے صوبہ نمروز میں پیش آیا، وہ صوبہ جو جغرافیہ، تاریخ اور سرحدی اہمیت کے اعتبار سے افغانستان کے منفرد علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ نمروز افغانستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے اور ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے۔ اس کا دارالحکومت زرنج ہے جو ایران کے سیستان اور بلوچستان صوبے کے سامنے واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم سرحدی شہر سمجھا جاتا ہے۔ یہی سرحد نمروز کے لیے ایک طرف مشکلات کا سبب ہے اور دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بھی۔
نمروز کا بیشتر حصہ صحرائی اور خشک علاقے پر مشتمل ہے۔ یہاں زرعی زمین محدود ہے، پانی کے ذخائر کم ہیں اور قدرتی حالات انسانی زندگی کو مسلسل آزمائش میں رکھتے ہیں۔ دشتِ لوط اور اس سے متاثرہ صحرائی ماحول میں موسم گرما انتہائی سخت ہوتا ہے۔ گرم ہوائیں، ریت کے طوفان اور پانی کی قلت یہاں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ایسے حالات میں بڑے پیمانے پر زراعت یا صنعت کا فروغ آسان نہیں۔
لیکن نمروز کی کہانی صرف محرومی کی کہانی نہیں۔ یہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ جغرافیہ کس طرح کسی علاقے کی معیشت بدل سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحد نے زرنج کو ایک اہم تجارتی راستہ بنا دیا۔ قانونی تجارت، سرحدی آمدورفت اور مختلف غیر رسمی معاشی سرگرمیوں نے ہزاروں خاندانوں کے روزگار میں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا صوبہ جہاں قدرتی وسائل اور زرعی مواقع محدود ہیں، سرحدی معیشت کی وجہ سے افغانستان کے نسبتاً فعال علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
دنیا کی معاشی تاریخ میں ایسے کئی علاقے موجود ہیں جہاں قدرتی مشکلات کے باوجود جغرافیائی اہمیت نے انہیں معاشی مراکز بنا دیا۔ نمروز بھی اسی تضاد کی مثال ہے۔ یہاں زمین کم دیتی ہے مگر سرحد روزگار کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاہم سرحدی معیشت کسی علاقے کو مکمل ترقی نہیں دے سکتی۔ پانی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور پائیدار روزگار کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔
نمروز کو سمجھنے کے لیے افغانستان کی مجموعی تصویر کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ملک بظاہر غربت، جنگ اور بحرانوں سے پہچانا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے افغانستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہندوکش کے پہاڑ، زرخیز وادیاں، معدنی ذخائر، جنگلات، باغات اور زرعی پیداوار اس ملک کو خطے کے اہم ترین ممالک میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
افغانستان کے پھل دنیا بھر میں اپنی اعلی معیار کی وجہ سے مشہور ہیں۔ قندھار کے انار اپنی مٹھاس اور لذت کے لیے عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ قندھار کے انگور، کشمش اور خربوزے افغان زراعت کی پہچان ہیں۔ ہرات کی زرخیز زمین مختلف اقسام کے پھلوں، سبزیوں اور اجناس کے لیے مشہور ہے۔ شمالی افغانستان خصوصاً بلخ، جوزجان اور دیگر علاقوں کے انگور، بادام، اخروٹ اور خشک میوہ جات خطے کی اہم پیداوار ہیں۔ ننگرہار کے سنگترے اور ترش پھل، لغمان کی زرعی پیداوار، بدخشاں کے قیمتی پتھر، بامیان کے قدرتی مناظر اور ہلمند کی وسیع زرعی زمین افغانستان کی قدرتی صلاحیتوں کا اظہار ہیں۔
افغانستان صرف پھلوں اور زراعت کا ملک نہیں بلکہ معدنی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ مختلف عالمی مطالعات میں افغانستان میں تانبے، لوہے، لیتھیم، سونے اور دیگر معدنی وسائل کے بڑے ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ملک میں ایسے معدنی ذخائر موجود ہیں جو مستقبل میں اس کی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن قدرتی دولت اس وقت تک عوام کی خوشحالی نہیں بن سکتی جب تک امن، مضبوط ادارے، شفاف نظام اور مسلسل ترقی کی پالیسیاں موجود نہ ہوں۔
افغانستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود مسلسل بحرانوں نے عام شہری کی زندگی مشکل بنا دی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں اس ملک نے جنگوں، سیاسی عدم استحکام، بیرونی مداخلت، دہشت گردی اور داخلی تنازعات کا طویل دور دیکھا۔ ان حالات نے معیشت کو کمزور کیا، روزگار کے مواقع محدود کیے اور لاکھوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔
آج افغانستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور محفوظ مستقبل کے مواقع محدود ہیں۔ یہی محرومیاں انہیں خطرناک راستوں پر جانے پر مجبور کرتی ہیں۔ جب ایک نوجوان کے سامنے اپنے گھر میں رہ کر ترقی کے امکانات ختم ہونے لگیں تو وہ سرحدوں کے پار امید تلاش کرنے لگتا ہے۔
افغان مہاجرت گزشتہ چار دہائیوں کی ایک بڑی انسانی داستان ہے۔ لاکھوں افغان شہری مختلف ادوار میں پاکستان اور ایران گئے۔ ان ممالک نے طویل عرصے تک افغان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن حالیہ برسوں میں واپسی کے عمل نے بھی کئی خاندانوں کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ جو لوگ پہلے ہی غربت اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے دوبارہ آبادکاری ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
ایران افغانستان کے لیے ایک اہم منزل رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور جغرافیائی قربت نے نقل و حرکت کو آسان بنایا۔ ایران خود بھی معاشی پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے افغان نوجوان اسے روزگار اور بہتر زندگی کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ حقیقت اپنے اندر ایک بڑا سوال رکھتی ہے کہ اگر بحران زدہ حالات کے باوجود لوگ ایک دوسرے بحران زدہ ملک کا رخ کرنے پر مجبور ہیں تو اپنے وطن میں ان کے حالات کس قدر مشکل ہوں گے۔
اسی مجبوری سے انسانی سمگلنگ کے راستے پیدا ہوتے ہیں۔ جب قانونی راستے محدود ہو جائیں تو غیر قانونی راستے فعال ہو جاتے ہیں۔ مجبور انسان اپنی جمع پونجی خرچ کر کے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جو ان کے خوابوں کو کاروبار بنا لیتے ہیں۔ کئی خاندان اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ روانہ کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن جاتا ہے۔
نمروز کے صحرا میں مرنے والے 14 نوجوان اسی تلخ حقیقت کی تصویر ہیں۔ وہ کسی جنگ کے میدان میں نہیں مارے گئے، وہ کسی محاذ پر نہیں تھے، وہ صرف زندگی کی تلاش میں نکلے تھے۔ ان کی موت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ دنیا نے ترقی تو بہت کر لی، لیکن کیا ہر انسان کو محفوظ زندگی، عزت اور بنیادی حقوق دینے میں کامیاب ہو سکی؟
اکیسویں صدی میں جب انسان مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکا ہے، اسی دور میں انسان بھوک، پیاس اور غربت کے ہاتھوں جان دے رہا ہے۔ یہ تضاد صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک آئینہ ہے۔
تہذیب صرف بلند عمارتوں، جدید ہتھیاروں اور سائنسی کامیابیوں کا نام نہیں۔ اصل تہذیب یہ ہے کہ کمزور ترین انسان کتنی محفوظ زندگی گزار سکتا ہے۔ دنیا کی طاقتور ریاستوں کے سیاسی فیصلے، جنگیں، پابندیاں اور مفادات اکثر عام انسان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
نمروز کا صحرا آج بھی خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک سوال چھپا ہوا ہے۔ ریت میں دفن وہ 14 نوجوان دنیا کے لیے شاید ایک خبر تھے، لیکن ان کے خاندانوں کے لیے وہ پوری دنیا تھے۔ وہ بیٹے تھے، بھائی تھے، امید تھے۔ وہ زندگی کی تلاش میں نکلے تھے، مگر راستے میں زندگی ہی کھو بیٹھے۔
کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کے معدنی ذخائر، زمین یا قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کے انسان ہوتے ہیں۔ جب انسان ہی محفوظ نہ رہے تو قدرت کی تمام نعمتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ نمروز کی سلگتی ہوئی ریت آج بھی یہی سوال کر رہی ہے کہ دنیا نے ترقی تو بہت کر لی، لیکن کیا انسان کو واقعی انسان کی طرح جینے کا حق دے سکی؟
واپس کریں