دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بڈھنی پل، چارسدہ روڈ اور اربن فلڈنگ: جب شہر فطرت سے جنگ ہارنے لگے
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
مون سون کی ایک شدید بارش نے ایک بار پھر چارسدہ روڈ پر واقع بڈھنی پل اور اس سے ملحقہ آبادیوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں، گھروں میں پانی داخل ہو گیا، ٹریفک گھنٹوں معطل رہی اور ریسکیو اداروں کو شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا پڑا۔ بظاہر یہ ایک قدرتی آفت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ صرف بارش کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیات، شہری منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والا ایک سائنسی بحران ہے۔
سائنسی اصطلاح میں اسے اربن فلڈنگ یا شہری سیلاب کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شہر کی زمین بارش کا پانی جذب کرنے کی اپنی قدرتی صلاحیت کھو بیٹھتی ہے۔ مٹی، سبزہ، درخت اور کھلے میدان بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرتے ہیں، لیکن جب ان کی جگہ کنکریٹ، اسفالٹ، پلازے اور سڑکیں لے لیں تو پانی کے لیے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ ہے سڑکوں، گلیوں اور گھروں کی طرف بہاؤ۔
بڈھنی نالہ کبھی ایک قدرتی آبی گزرگاہ تھا جو بارش کے اضافی پانی کو محفوظ طریقے سے دریائے کابل تک پہنچاتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کے کناروں پر آبادی پھیلتی گئی، تجاوزات قائم ہوئیں، نالے کی چوڑائی کم ہوتی گئی اور اس میں مٹی، کچرا اور تعمیراتی ملبہ جمع ہوتا رہا۔ نتیجتاً جب چند گھنٹوں میں شدید بارش ہوتی ہے تو نالہ اپنی گنجائش کھو دیتا ہے اور پانی پل کے اطراف اور رہائشی علاقوں میں پھیل جاتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ پہلے مون سون کی بارش کئی دنوں میں تقسیم ہوتی تھی، لیکن اب مختصر وقت میں انتہائی شدید بارش ہوتی ہے۔ فضا میں درجہ حرارت بڑھنے سے ہوا زیادہ نمی جذب کرتی ہے، اور جب بارش برستی ہے تو اس کی شدت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش بھی شہری سیلاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
پشاور جیسے شہر میں سب سے بڑا ماحولیاتی نقصان درختوں اور کھلے سبز علاقوں کی تیزی سے کمی ہے۔ ایک صحت مند سبز علاقہ ہزاروں لیٹر پانی زمین میں جذب کر سکتا ہے، جبکہ کنکریٹ کی سطح تقریباً پورا پانی بہا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی ہاؤسنگ سکیم، ہر نئی سڑک اور ہر نئی عمارت کے ساتھ اگر مناسب نکاسی آب اور سبز انفراسٹرکچر نہ بنایا جائے تو اربن فلڈنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ بارش کے پانی اور سیوریج کے نظام کا آپس میں مل جانا ہے۔ جب دونوں نظام الگ نہ ہوں تو شدید بارش کے دوران گندا پانی بھی سڑکوں اور گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ڈینگی اور جلدی امراض سمیت متعدد بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں اربن فلڈنگ صرف انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک عوامی صحت کا بحران بھی بن جاتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ شہروں نے اس مسئلے کا حل صرف بڑے نالے بنا کر نہیں بلکہ قدرتی انجینئرنگ کے ذریعے تلاش کیا ہے۔ بارش کے پانی کو جذب کرنے والے پارک، مصنوعی جھیلیں، برساتی پانی ذخیرہ کرنے کے حوض، پانی گزار فرش، گرین بیلٹس، بارشی باغات اور شہری جنگلات ایسے حل ہیں جو پانی کو زمین میں واپس پہنچاتے ہیں۔ اس تصور کو اسپنج سٹی کہا جاتا ہے، یعنی ایسا شہر جو بارش کو اپنے اندر جذب کر لے، نہ کہ اسے تباہی میں بدل دے۔
بڈھنی پل کا مسئلہ بھی صرف نالہ صاف کرنے سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے پورے واٹرشیڈ کا سائنسی مطالعہ، نالے کی اصل چوڑائی کی بحالی، تجاوزات کا خاتمہ، برساتی پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے، جدید ڈرینیج نظام، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق شہری منصوبہ بندی، بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ہر نئی تعمیر کے لیے ماحولیاتی اثرات کا لازمی جائزہ ناگزیر ہے۔
چارسدہ روڈ پر ہر بار آنے والا پانی دراصل ایک انتباہ ہے کہ فطرت اپنے قوانین نہیں بدلتی۔ اگر شہر قدرتی آبی راستوں کو بند کرے گا، زمین کو مکمل طور پر کنکریٹ میں تبدیل کرے گا اور ماحولیات کو نظر انداز کرے گا تو بارش نعمت کے بجائے آفت بن جائے گی۔ بڈھنی پل کا بحران ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مستقبل کے محفوظ شہر صرف بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ مضبوط ماحول، سائنسی منصوبہ بندی اور قدرتی نظام کے احترام سے تعمیر ہوتے ہیں۔
واپس کریں