دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آج پورا نظام نقویوں کے ہاتھوں یرغمال ہے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں، نقوی اور ان کے سرپرستوں کو ایرانی ماڈل پسند آیا ہے، کیونکہ یہ ماڈل مارشل لا سے بھی زیادہ پائیدار اور دیرپا ہے۔
نئے صوبوں کا یہ شوشہ اسی ماڈل کی جانب ایک قدم ہے۔ جب بڑے صوبے توڑ کر چھوٹے چھوٹے صوبے بنیں گے، تب ہی بڑی جماعتوں کی اجارہ داری ختم ہوگی۔ جب بڑی سیاسی جماعتیں ہی نہیں رہیں گی، تو پھر ایران کی طرح چند سرپھروں کے احتجاج سے کچھ نہیں ہوگا۔
اب آتے ہیں بلدیاتی نظام کی طرف:
اسٹیبلشمنٹ نے 2018 کے انتخابات میں آرٹی ایس بٹھا کر عمران نیازی جیسے نالائق کو ملک پر مسلط کیا، اس نے اقتدار میں آتے ہی مئی 2019ء میں مسلم لیگ (ن) کے دور کے منتخب بلدیاتی اداروں کو ان کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا تھا۔ ان منتخب اداروں کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیے گئے، جس سے نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کا نظام معطل ہو گیا۔ اس سارے منظر نامے میں بابا ڈیم پوری سہولت کاری کر رہے تھے۔ دو سال بعد مارچ 2021ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو قبل از وقت ختم کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب کچھ جن کرم فرماؤں کی خواہش پر ہو رہا تھا، آج انہیں بلدیاتی نظام اور عوام کے بنیادی حقوق کی فکر لاحق ہے۔
ان کا یہ لچن پرانا ہے۔ جنرل ایوب نے آئین توڑ کر جمہوریت کا بوریا بستر گول کیا اور پھر اسے بنیادی جمہوریت یاد آگئی۔
ضیا نے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دے کر بلدیاتی انتخابات کروائے، اور مشرف جمہوریت پر شب خون مار کر ناظمین کا نظام لایا۔ موجودہ مہربانوں کو چھوٹے صوبے اور انتظامی یونٹ درکار ہیں۔
اس ملک میں انگریز نے تحصیل سطح سے لے کر مرکز تک ایک پورا نظام بنا کر دیا ہے۔ اگر عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود مقصود ہو، تو مریم نواز کی طرح موجودہ فرسودہ نظام میں پنجاب جیسے سب سے بڑے آبادی والے صوبے کی حالت بدلی جا سکتی ہے۔
آبادی کے لحاظ سے صرف گجرانوالہ ڈویژن آزاد کشمیر سے بڑا ہے۔ نالائقی ہو تو اسلام آباد جیسا چھوٹا اور منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا نیا شہر بھی کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اور جس نقوی نے دنیا کے اس خوبصورت دارالخلافہ کا یہ حشر کیا، وہ ہمیں بتا رہا ہے کہ موجودہ نظام فیل ہو چکا ہے، نئے صوبے درکار ہیں۔
یہاں مغرب اور برطانیہ کے لوکل گورنمنٹ کی مثالیں دی جاتی ہیں، مگر جو طاقتور اسٹیبلشمنٹ اٹھارویں ترمیم کے تحت چار صوبوں کو ان کا حق دینے کے لیے تیار نہیں، وہ سینکڑوں بلدیاتی یونٹس کو کیسے برداشت کر لے گی؟
برطانیہ میں تو یہ قانون ہے کہ اگر آپ کو پبلک آبادی میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کوئی فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کرتے نظر آئیں، تو آپ ہیلپ لائن پر کال کر سکتے ہیں اور ایک عام شہری کی شکایت پر تحقیقات ہوتی ہیں۔ کورونا کے دوران کونسل کی مدد کے لیے آئے ہوئے فوجیوں کو عوام نے کیسے بھگا دیا تھا، یہ سب یاد ہے۔ یہاں ایک کرنل وردی میں جا کر پرائیویٹ یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے تک آزاد ہے۔
اگر چھوٹے صوبے ترقی کی علامت ہوتے، تو افغانستان دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہوتا، جس کے 34 صوبے ہیں۔ اور اگر بڑی انتظامی یونٹس کی وجہ سے پسماندگی ہوتی،تو امریکی ریاست الاسکا دنیا کا پسماندہ ترین خطہ ہوتا، جو رقبے کے لحاظ سے پورے پاکستان سے بڑا ہے۔ امریکہ کی پچاس میں سے پندرہ ریاستیں ہمارے صوبہ پنجاب سے بڑی ہیں۔ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا شوشہ عوام کے لیے نہیں، بلکہ اپنی سپریمیسی کے لیے چھوڑا جا رہا ہے۔
ان کو نہ عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار ہے اور نہ ملکی سلامتی اور دفاع سے کوئی واسطہ۔ جہاں فوجی چھاؤنیوں کو جلانے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور بلال غوری جیسے محب وطن صحافی کو ہتھکڑیاں پہنائی جا رہی ہیں، جس صاحب کی توہین پر بلاول غوری کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اسے نیازی اور اس کے پیروکاروں نے ڈرٹی ہیری اور کیا کچھ کہا۔ کتنے گفتاریاں ہوئیں ۔
آج بھی پاکستان کے اندر اور باہر فتنہ نیازی کے یوٹیوبر اس کے لیے کون سی زبان استعمال کر رہے ہیں، سب کو پتہ ہے۔
اور ملکی سلامتی اور دفاع کے خلاف دشمن کا بیانیہ پھیلانے والے بیرونی ممالک کے یوٹیوبرز کس کی سہولت کاری سے ملک سے بھگا دیے گئے، اس کی حقیقت ان کے نمائندے فیصل واوڈا سے پوچھیں۔
آج پورا نظام نقویوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بن جائیں گے، لیکن خاکم بدھن یہ ملک نہیں بچے گا،
کیونکہ یہ ملک ایران کی طرح کسی ایک مخصوص ملائی سوچ میں یرغمال نہیں، نہ یہاں کوئی خمینی یا خامنہ ای ہے جس پر سب بیعت کر لیں۔
یہاں بھانت بھانت کی بولیاں اور قِسم قِسم کے فرقے ہیں۔ یہاں کوئی ایک محلہ کسی ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں، تو پورا ملک کسی ایک حافظ کے ہاتھ پر کیسے بیعت کر لے گا؟
واپس کریں