طاہر سواتی
یہ بات وہ شخص کر رہا ہے جو اس نظام کا سب سے ناکام اور نااہل وزیر ہے۔
نظام اس لیے ناکام ہے کہ جس کا جو کام ہے، وہ کرتا نہیں اور جو اس کا کام نہیں، اس کے لیے مچلا رہتا ہے۔
نظام اس لیے ناکام ہے کہ یہاں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس انصاف دینے کی بجائے ڈیم تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔
خود محسن نقوی کا وزارتِ داخلہ کی کرسی پر قبضہ ہے، مگر کرکٹ بورڈ کی چیرمینی پر بھی ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ ۲۵ کروڑ میں کسی ماں نے ایسا لال نہیں جنا جو کرکٹ کا نظام چلا سکے، لیکن ان دو بڑے عہدوں پر براجمان ہونے کے باوجود موصوف وزیرِ خارجہ کی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔
گزشتہ سات مہینوں میں زیادہ تر بیرونی دوروں پر رہے۔
صرف جولائی کے مہینے میں ۱۰۰ سے زائد پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کل ہی ہنگو میں دس اہلکار دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔
لیکن وزیرِ داخلہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ایران اور امریکا کی یاترا میں مصروف ہیں اور واپسی پر ہمیں پژمردہ سناتے ہیں کہ ”نظام ناکام ہوگیا ہے۔“
کسی مہذب ملک میں ہوتا تو وزیرِ داخلہ ابھی تک مستعفی ہو چکا ہوتا۔
برطانیہ میں گزشتہ دس برسوں میں چھ کے قریب وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، مگر کسی نے شور نہیں مچایا کہ نظام ناکام ہوچکا ہے۔ وہ اسی نظام کے اندر حالات بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں اصل جمہوریت تو کبھی آئی ہی نہیں؛ جو لولی لنگڑی لے آتے ہیں، اسے پانچ برس بھی نہیں چلنے دیتے اور پھر شور مچاتے ہیں کہ
”نظام ناکام ہوگیا ہے۔“
آزادی کے نو برس تک آئین نہ بن سکا۔ پہلے آئین کے بعد ابھی انتخابات ہونے تھے کہ ڈکٹیٹر نے اعلان کیا کہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور سب کچھ لپیٹ لیا۔
پھر وہ بنیادی جمہوریت اور صدارتی نظام لے آیا — اس کے جانے کے ساتھ آدھا ملک بھی چلا گیا۔
۱۹۷۳ میں پہلا متفقہ آئین بنا، مگر نظام کو چار سال بھی چلنے نہیں دیا گیا اور پھر ایک نیا ڈکٹیٹر ”نظامِ مصطفیٰ“ کے ساتھ نازل ہوگیا۔ کبھی مجلسِ شوریٰ، کبھی غیر جماعتی انتخابات اور کبھی اسلامی نظام کا چورن بیچتے ہوئے گیارہ برس گزار دیے۔ آخر کار کلاشنکوف و ہیروئن کلچر اور ۵۸–بی کا ہتھوڑا جمہوریت کے سر پر رکھ کر مرا۔
اگلے دس برسوں میں چار حکومتیں اسی ہتھوڑے کی ضرب سے ختم کی گئیں اور ہر بار نعرہ یہی رہا کہ ”نظام ناکام ہوگیا ہے۔“
اللہ اللہ کرکے جب سیاسی جماعتوں نے وہ ہتھوڑا توڑا تو سال بھی نہ گزرا تھا کہ ایک اور ڈکٹیٹر ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے ترانے کے ساتھ میدان میں اترا۔ اوپر پگڑی، نیچے وردی؛ ناظموں کا نظام اور باوردی صدر نو سال تک وہ اس نظام کی ماں بہن ایک کرتا رہا۔ جاتے ہوئے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کا آسیب چھوڑ گیا، جسے آج بھی قوم بھگت رہی ہے۔
میثاقِ جمہوریت ہوا، اٹھارویں ترمیم آئی، ایک نئی امید پیدا ہوئی، مگر ان کے کیڑے کو آرام کہاں۔
پاشا اور راحیل شریف سے لے کر باجوہ اور فیض تک سب محبِ وطنوں نے تبدیلی کے نام پر اس نظام کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور نعرہ لگایا کہ ”نظام ناکام ہوگیا ہے۔“
آج سے دس برس قبل بھی یہی پاکستان تھا، جس میں پٹرول ۶۴ روپے لیٹر تھا ، ڈالر سو میں مل رہا تھا اور جی ڈی پی ۵.۸ فیصد تھی۔ لیکن پھر نظامِ تبدیلی کے نام پر نواز شریف کو غیر آئینی طریقے سے ہٹا کر ایک اناڑی کو لایا گیا، جس کی سزا آج بھی قوم کاٹ رہی ہے ،
بڑی مشکل سے ملک ڈیفالٹ ہونے سے بچا تو ان کا کیڑا پھر جاگا۔
اب پتہ نہیں اس ملک کے ساتھ اور کیا کریں گے۔
تمام مسائل کا حل اسی نظام کے اندر ہے۔
محسن نقوی اپنے بل بوتے پر کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے، مگر نئے نظام کی بات کر رہے ہیں۔
نقوی ہو یا اس کا سرپرست حافظ جی ؟ جسے بھی نظامِ کی تبدیلی کا شوق ہے، وہ استعفیٰ دے کر اپنی سیاسی جماعت بنائے، انتخابات کے ذریعے اکثریت حاصل کرے اور پھر نیا نظام لائے۔
اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اس ملک کو ایسی تباہی کی طرف لے جائے گا جس کا روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
وزیرِ اعظم سے گزارش ہے کہ فوری طور پر محسن نقوی کا استعفیٰ لیں۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے — اور یقیناً نہیں کرسکتے — تو ایک دوسرا کام تو کرسکتے ہیں:
عوام کا مزید کچومر نکالنا بند کر دیں۔ پٹرول کی قیمت ایک ماہ کے لیے دو سو روپے فی لیٹر مقرر کریں، اپنی ڈائری اٹھائیں اور ماڈل ٹاؤن تشریف لے جائیں۔
نظام جانے اور نظام کو بدلنے والے ۔
شاید نواز شریف کی کمائی ہوئی عزت کچھ تو بچ جائے۔
واپس کریں