دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اس کے بعد سب تاریخ ہے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
نوے ہزار پاکستانیوں کو مروانے اور معیشت کو سو ارب ڈالرز کا ٹیکا لگوانے کے بعد ہمارے مہربانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تھے، لیکن کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی۔ان سے دنیا کو کوئی بھی کام کرواؤ، یہ خوش رہتے ہیں، بس جس کام کی تنخواہ لیتے ہیں، وہ سر انجام دیتے ہوئے موت پڑتی ہے۔
گزشتہ بیس سال میں نئے پاکستان بناتے بناتے پاشا، ظہیرالاسلام، شکریہ شریف، باجوہ اور فیض وطن عزیز وہ ناسور لگا گئے کہ اب انہیں خود سمجھ نہیں آتی کہ اس کا کیا کریں۔
اب پورا ملک جل رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف بلوچستان میں ۴۲ پاکستانی جامِ شہادت نوش کر گئے، جن میں ۳۰ پولیس اہلکار ہیں۔ پولیس والوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا، لیکن ان تک بروقت کمک نہ پہنچ سکی۔ کمک کیسے پہنچتی ، حافظ اور اس کا لنگوٹیا ایران کی فکر میں مصروف رہے۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارتِ صحت کے انفارمیشن سینٹر کے سربراہ حسین کرمان پور کے مطابق چھ شہروں پر ہونے والے حالیہ ۹۰ امریکی حملوں میں صرف ۱۷ افراد ہلاک ہوئے۔
بلوچستان سمیت ملک کے کسی بھی کونے میں ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری سب سے پہلے وزارتِ دفاع پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرحد پار سے آتے ہیں اور سرحدوں کی نگہبان پاک فوج ہے۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ اس کی ذمہ دار ہے۔
یہاں آپ فوج کے سربراہ اور اس کے لنگوٹیے وزیرِ داخلہ کا چھ ماہ کا ریکارڈ چیک کریں، یہ پاکستان سے زیادہ ایران میں مصروف نظر آتے ہیں۔
حالانکہ یہ کام وزیرِ خارجہ کا ہے، لیکن اسے تو گزشتہ دو ماہ سے مکمل طور پر بے دست و پا کر دیا گیا ہے، کیونکہ سعودی قربت کی وجہ سے وہ پاسداران کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔
بہرحال، اگر حافظ اور اس کا لنگوٹیا اتنے ہی اہم ہیں تو انہیں تین سالہ ڈیپوٹیشن پر تہران میں تعینات کر دیا جائے، کیونکہ ملک کو اس وقت ایک فل ٹائم آرمی چیف اور وزیرِ داخلہ کی ضرورت ہے۔
اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم لنگوٹیے کو وزیرِ خارجہ لگا دیں۔
آخر کرکٹ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کا ستیاناس کرنے کے بعد وزارتِ خارجہ کو تباہ کرنے میں کیا حرج ہے؟
ویسے بھی آج کل ہماری ریاست مکمل طور پر ولایتِ فقیہ کے زیرِ اثر آ چکی ہے۔ بڑے بڑے میڈیا چینلز پر آپ کو بلوچستان میں مرنے والے ۴۲ پاکستانیوں کی خبر کم اور ایران کی خبر زیادہ نظر آئے گی۔
یہ ولایت فقیہہ کے اثرات ہیں کہ آپ کو اپنے ۴۲ کی بجائے پڑوس کے ۱۷افراد کی مرنے کا دکھ ہے،
آخر میڈیا پر یہ ایرانی ناچ کون چلاتا اور چلواتا ہے؟
سعودی عرب اور قطر کے جہازوں پر حالیہ حملے اسلام آباد میمورنڈم کی کھلی خلاف ورزی تھی، لیکن پاکستان نے اس کی مذمت کرنے کی بجائے ایک مبہم سا بیان جاری کیا کہ فریقین معاہدے کی پاسداری کریں۔
اس صورتِ حال کو سعودی حلقے بہت باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔ سعودی عرب کا سوشل میڈیا، جو صدقے واری جاتا تھا، اب پوچھ رہا ہے کہ ایران نے ہمارے تجارتی جہاز پر حملہ کیا، اس کی پاکستانی مذمت کہاں ہے؟ لیکن ہماری ریاست نقویوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ امارات اور کویت تو پہلے سے ہم سے ناراض ہیں، اب سعودی عرب بھی بدظن ہو رہا ہے۔
یہاں کسی کو کوئی ہوش نہیں۔
ملک کے وزیرِ اعظم کا بس اتنا ہی کام رہ گیا ہے کہ جب ہرمز میں دو گولیاں چلیں تو دل پر پتھر رکھ کر پٹرول کی قیمت بڑھانے کا اعلان کر دے۔
آخر یہ اعلان بھی حافظ اور اس کے لنگوٹیے کے حوالے کر دیں، یہ ذلت اٹھانے کی آخر کیا ضرورت ہے؟
دوسری جانب آئی ایس پی آر صاحب کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ ایک پریس کانفرنس کر کے بتا دیں کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے۔
اپنی گھر، محلے یا کاروباری مرکز کے لیے آپ نے سیکیورٹی گارڈ رکھے ہوں، دن دہاڑے ڈکیتی پڑے، ڈاکو لوٹ مار اور قتل غارت کر کے چلے جائیں اور اگلے دن گارڈ صاحب آپ کو بتا دیں کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ کہاں سے آئے تھے۔
ایمانداری سے بتائیں، آپ اس گارڈ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟
سب کو معلوم ہے کہ اس بار داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان کو لہو لہان کیا ہےاور ان کو افغانستان سے کنٹرول کیا جارہا تھا ،
اب صرف یہ بتانے کہ لئے ہم نے تین ستارہ جنرل رکھا ہوا ہے؟
ڈی جی صاحب، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ کہاں سے آئے تھے، سوال یہ ہے کہ کیسے آئے تھے؟ کیوں آئے تھے ؟
آج جو طالبان کابل میں بیٹھ کر وطنِ عزیز کو لہولہان کر رہے ہیں، یہ بھی آپ ہی کا تحفہ ہیں۔
اس وقت بھی نصیر اللہ بابر نامی وزیرِ داخلہ اپنا کام کرنے کی بجائے امدادی قافلہ لے کر کابل روانہ ہوا۔ پہلے قافلہ لوٹا گیا، پھر ملا عمر نامی ایک گمنام شخص نمودار ہوا اور لوٹے گئے قافلے کو بازیاب کروا گیا۔
اور دنیا نے پہلی بار طالب نامی قوت کے نام سے آشنا ہو گئی۔ اس طرح مجاہد سے طالب برآمد ہو گیا۔
اس کے بعد سب تاریخ ہے۔
واپس کریں