دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دوستی اور احسان ہمیشہ نسل دیکھ کر کیا کریں
طاہر سواتی
طاہر سواتی
سعودی عرب، امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تحت تیل سے مالا مال خلیجی ممالک ہیں۔ عشروں تک یہ ممالک سعودی عرب کی قیادت میں ایک متفقہ خارجہ پالیسی پر کاربند رہے۔ مسئلۂ فلسطین کی وجہ سے ان ممالک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور تعلقات کشیدہ رہے۔ اسی طرح خمینی انقلاب کے بعد ایران کے ساتھ بھی ان کے تعلقات کچھ خاص اچھے نہیں رہے۔
پچھلے دس برسوں میں ان چھ ممالک میں سے دو نے اپنی علیحدہ خارجہ پالیسی اختیار کی۔ پہلا ملک امارات تھا، جس نے معاہدۂ ابراہیمی کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ حالانکہ کسی زمانے میں امارات حماس کی قیادت کا سب سے بڑا مہربان میزبان تھا، مگر اس تبدیلی کے پیچھے کی کہانی قابلِ غور ہے۔
دوسرا ملک قطر تھا، جس نے متفقہ پالیسی سے ہٹ کر ایران کے ساتھ تعلقات بحال کیے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور قطر کے تعلقات چار سال تک کشیدہ رہے۔ پابندیوں کے باوجود قطر نے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھی اور اس کی معیشت کو سہارا دیا۔
اب ذرا ان دو ممالک کے نئے تعلقات کے انجام کو بھی دیکھتے ہیں۔
قطر اس وقت فلسطینیوں کا سب سے بڑا حامی اور مددگار ہے اور اس نے حماس کی سیاسی قیادت کو پناہ بھی دی ہوئی ہے۔ ایران نے ۲۰۲۳ میں فلسطینی کارڈ کھیل کر امت مسلمہ کا لیڈر بننے کی ایک چال چلی۔
گزشتہ دو سال کی جنگوں میں ایران نے امریکہ یا اسرائیل کے بجائے قطر جیسے ملک کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا، حالانکہ قطر اس خطے میں ایرانیوں اور فلسطینیوں کا سب سے بڑا ہمدرد تھا۔ بہانہ یہ رکھا گیا کہ وہاں امریکی فوجی اڈے ہیں، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس جنگ میں یہ اڈے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوئے۔ دوسری جانب عراق میں موجود امریکی فعال اڈوں کے باوجود ایران نے ان پر حملے کبھی نہیں کیے، کیونکہ وہاں اس کی ہم مسلک آبادی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام اور امت مسلمہ کے نعرے لگانے والے یہ خمینی کے ولایتِ فقیہ والے اندر سے کتنے تنگ نظر اور بدبودار متعصب ہیں۔
اس کے باوجود قطر نے ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں، لیکن احسان فراموش پاسداران نے دو دن قبل قطر کی ایل این جی ٹینکر کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنائے تو حالیہ جنگ میں اسرائیل نے امارات کی حفاظت کے لیے اپنا آئرن ڈوم سسٹم نصب کر دیا۔ شدید جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے امارات کا خفیہ دورہ کیا، اگرچہ امارات نے اس کی تردید کی، لیکن اسرائیل نے خطے کے تمام ممالک پر اپنی دوستی کا انداز واضح کر دیا۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ دوستی اور احسان ہمیشہ نسل دیکھ کر کیا کریں۔
جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے جاری رکھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بڑی فوجی کارروائی شروع کی۔ چند ہفتے قبل ایران نے حزب اللہ کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کیا، تو اسرائیلی فضائیہ نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ ایران نے خود مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسی طرح سیز فائر کے باوجود جب ایران نے ہرمز میں جہازوں کے ساتھ چھیڑخانی شروع کی تو امارات نے ایران کو واضح کر دیا کہ اگر ہمارے مفادات کو نقصان پہنچا تو ہم خارگ جزیرے کو تباہ کر دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ ایرانی تیل کی معیشت کی شہ رگ ہے اور ایران اپنی توانائی کی ۹۰ فیصد ضروریات وہیں سے پوری کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور اسرائیلی امداد کی بنیاد پر امارات اس جزیرے کو تباہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ایران بحرین، قطر اور کویت جیسے چھوٹے ممالک پر تو روزانہ حملے کر رہا ہے، لیکن امارات کو نہیں چھیڑ رہا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
ٹرمپ نے امن معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خارگ جزیرے پر قبضے کی بھی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ رات امریکہ نے اصفہان، سیرک، بندر عباس اور شمالی ایران سمیت ۹۰ سائٹس پر اعلانیہ حملے کیے۔ ان حملوں میں دو ریلوے لائنیں تباہ کر دی گئی ہیں، جن میں سے ایک شمالی صوبے گولستان میں ایران کو ترکمانستان سے ملاتی ہوئی اہم ریلوے لائن ہے۔ امریکہ نے ابو موسیٰ جزیرے پر بھی شدید بمباری کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جہاں سے ایران بحری جہازوں پر حملے کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ایران کے جنوب مشرقی شہر ایرانشہر میں واقع ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جسے جزوی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور ایرو اسپیس فورس (IRGC-AF) استعمال کرتی ہے۔
ایران نے جوابی کارروائی میں امریکی بیڑوں کو نشانہ بنانے کی بجائے حسبِ روایت کویت اور بحرین کو نشانہ بنایا، لیکن ان حملوں میں پہلے والی شدت نہیں تھی۔ دوسری جانب ان ممالک کا ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور ۹۵ فیصد حملوں کو روک رہا۔
واپس کریں