دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کم ظرف کی دوستی سے اعلیٰ ظرف کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
ٹرمپ نے 4 مئی کو "پراجیکٹ فریڈم" کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلیج میں غیر جانبدار ممالک کے پھنسے ہوئے جہازوں کو امریکی بحریہ کی حفاظت میں باہر نکالا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق، یہ ممالک مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے میں شامل نہیں اور بےقصور تماشائی ہیں۔ اس پروجیکٹ کا مقصد صرف اُن افراد، کمپنیوں اور ممالک کو ریلیف دینا ہے جن کا کوئی قصور نہیں، بلکہ وہ حالات کا شکار ہیں۔ ان کے عملے کو خوراک اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی کمی کا سامنا ہے۔ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے عملے کو بحفاظت وہاں سے نکالیں گے، تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔ لیکن یہ جہاز اس وقت تک دوبارہ واپس نہیں آئیں گے جب تک یہ علاقہ بحری آمد و رفت اور دیگر امور کے لیے محفوظ نہیں ہو جاتا۔
اگر ایران نے ان جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تو انہیں طاقت سے نمٹنا جائز ہوگا۔
لائیڈز لسٹ کے مطابق اس وقت خلیجِ فارس میں 150 سے زائد ایسے جہاز پھنسے ہوئے ہیں جو کسی پابندی کے تحت نہیں آتے، جن میں 62 انتہائی بڑے خام تیل بردار ٹینکرز بھی شامل ہیں۔
"پراجیکٹ فریڈم" کے تحت اگر یہ جہاز بحفاظت نکال دیے گئے تو ایک تو اس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں کچھ ہفتوں تک قابو میں آ جائیں گی، دوسرا کسی نئے دنگل کے لیے خلیج کا میدان صاف ہو جائے گا۔
آگے دو باتوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے:
پہلی صورت: فیصلہ کن جنگ شروع ہو جائے گی، کیونکہ ابھی تک مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ نہ امریکہ اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہو رہا ہے، اور ایران اصل نکات کی طرف آنے کی بجائے نت نئے مطالبات شامل کر رہا ہے۔
دوسری صورت: یہ ہے کہ اس آپریشن کے دوران امریکہ ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے محدود ٹریفک کو بحال کر دے اور ایران کی ناکہ بندی جاری رکھی جائے۔ کیونکہ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق ناکہ بندی اتنا مؤثر ہتھیار ہے کہ اس کے ذریعے بغیر کسی نقصان کے امریکہ نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگلے ہفتے سے ایران میں تیل کے کنوئیں بتدریج بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔
امریکہ نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ دنیا کے اکثریتی ممالک اسے گالیاں دے رہے ہیں، اور انہی ممالک کا گزر بسر امریکہ کے بغیر ناممکن ہے۔ اس جنگ کے شروع سے جرمن چانسلر امریکہ پر تنقید کرتے آ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسی جرمنی کے مختلف بیسوں میں 36 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ٹرمپ نے جرمن چانسلر کے رویے کی وجہ سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے کا اعلان کر دیا تو اگلے دن جرمن وزیر خارجہ نے عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا:
"ہم ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایران ایٹمی پروگرام واضح انداز میں ختم کرے، آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولے۔"
جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے برلن میں جرمن پریس ایجنسی کو بتایا:
"یورپ میں، اور خاص طور پر جرمنی میں، امریکی فوجیوں کی موجودگی ہمارے اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔"
ٹرمپ نے اٹلی اور اسپین سے بھی امریکی فوجیں نکالنے کا عندیہ دیا ہے، جہاں بالترتیب تیرہ ہزار اور چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
پچھلے دنوں ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ نے جنوبی کوریا اور جاپان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ ممالک بھی ہماری مدد کو نہیں آئے، جبکہ ہم نے جنوبی کوریا میں 28 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں تاکہ اسے شمالی کوریا کی جارحیت سے بچایا جائے، اور جاپان کو چینی جارحیت سے بچانے کے لیے 53 ہزار فوجی رکھے ہیں۔ آخر یہ کس لیے؟
پاکستان نے اعتماد سازی کی بحالی کے لیے امریکہ سے ایرانی جہاز کی واپسی کی درخواست کی تھی۔ آج صبح امریکہ نے "توسکا" نامی ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا، عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔ امریکہ نے متعدد بار پاکستان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے اس کی لاج رکھی ہے۔ دوسری جانب احسان فراموش پاسداران کا رویہ سب کے سامنے ہے۔
اس لئے کہتے ہیں ، کم ظرف کی دوستی سے اعلیٰ ظرف کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔
واپس کریں