طاہر سواتی
بے شک! ہمیں اچھا لگے یا برا، لیکن ٹرمپ کے بارے میں دو باتیں ماننی پڑیں گی۔پہلی یہ کہ وہ بہادر ہے۔ کل وائٹ ہاؤس کے عشائیہ میں فائرنگ کے بعد جب ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی، وہ اپنی جگہ پر پرسکون بیٹھے رہے یہاں تک کہ اسپیشل سروس کے اہلکار اُنہیں ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے گئے۔ اسی طرح انتخابی مہم کے دوران جب گولی کان کے پاس سے گزر گئی، تب بھی وہ حوصلے میں تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ ہر بات بغیر کسی لگی لپٹی کہہ دیتے ہیں۔
اب دیکھیں، ٹرمپ بہت بڑا حرامی ہے، مگر حقیقی فائرنگ کے باوجود جھوٹ موٹ کی گولی لگنے کا ڈرامہ کر کے ٹانگ پر پلستر چڑھانے کا آئیڈیا اُس کے شیطانی دماغ میں بھی نہیں آیا۔
وہ اتنا صاف گو ہے کہ جب رپورٹر نے پوچھا:
"چین ایران کو اسلحہ دے رہا ہے۔ کیا آپ چین سے اس بات پر ناراض ہیں؟"
تو ٹرمپ نے کہا: "نہیں، ہم بھی تو یہی کرتے ہیں نا، دوسرے ممالک کے ساتھ؟ دنیا کا یہی دستور ہے۔"
اس قسم کا سچ بولنے کے لیے بھی جگرا چاہیے۔
دوسری طرف ایرانی ہیں جو گرگٹ کی طرح ہزاروں رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا پاکستان میں سفیر "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگاتا ہے تو بھارت والے صبح شام "جئے ہند" کا ورد کرتے رہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انڈیا پر تنقید کی تو مودی اور ان کے وزیر خارجہ خاموش رہے، مگر ممبئی میں ایران کے قونصل خانے نے اسے بکواس قرار دیا اور کہا:
"کبھی انڈیا آ کے دیکھو تو بولنا۔"
ایک جانب ایران کے وزیر خارجہ عراقی پاکستان آتے ہیں، یہاں سے پاکستان ایئر فورس کے طیارے میں بیٹھ کر عمان جاتے ہیں، وہاں سے واپس اسلام آباد آتے ہیں، اور پاکستان کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اسی روز ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان ابراہیم رضائی ٹویٹ کرتے ہیں کہ:
"پاکستان قابلِ بھروسہ سہولت کار نہیں ہے اور پاکستان امریکی مفادات کا نگہبان ہے اور امریکی مفادات کے خلاف ایک لفظ تک زبان سے نہیں نکال سکتا۔"
پاسدارانِ انقلاب سعودی عرب، عمان، قطر اور امارات پر اسرائیل سے زیادہ میزائل پھینکتے ہیں، لیکن دوسری جانب ان کے وزیر خارجہ عراقچی اسی سعودی وزیر خارجہ کو فون کرکے علاقائی امن کی بات کرتے ہیں۔ یہ تو عبداللہ بن ابی کے بھی استاد نکلے۔
سعودیوں کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ ایرانی جہاز آج بھی عازمینِ حج کو لے کر جدہ اتر رہے ہیں۔
نہ یہ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں، نہ یہ وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں جو امریکہ مطالبہ کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وقت حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کا ناٹک رچایا ہوا ہے۔ لیکن یہ چالاکی اور بازاری طرزِ عمل تب چلتا ہے جب آپ خود وقت کے قید سے آزاد ہوں۔
جب تک انہوں نے ہرمز کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی، وقت ان کے حق میں تھا، لیکن جب سے ٹرمپ نے ان کی چال انہی کے خلاف استعمال کرتے ہوئے سمندری محاصرہ کیا، تو اب وقت ان کے ہاتھ میں نہیں رہا۔
حالات بدل گئے ہیں۔ نہ صرف ایران بلکہ چین بھی براہِ راست دباؤ میں ہے۔ وقت محدود ہے، اور تاخیر کی قیمت اب فیصلہ کرنے کی قیمت سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ ایرانیوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو طول دینا ایک ہارتا ہوا جوا ہے۔
ناکہ بندی سے لے کر اب تک امریکی بحریہ 37 جہازوں کو واپس ایران بھجوا چکی ہے، جن میں تقریباً 1.05 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل تھا جو دوبارہ ایران پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح امریکی کوسٹ گارڈ نے بحرِ ہند میں تقریباً 380 ملین ڈالر مالیت کا ایرانی خام تیل ضبط کر لیا ہے، اور اب یہ کھیپ امریکہ کی طرف لے جائی جا رہی ہے۔
اس وقت ایرانی ٹرمینلز پر تقریباً 4.6 ملین بیرل تیل لوڈ ہے، تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہا تو تیل کے کنوؤں اور پائپ مستقل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے برابر تیل پیدا کرنے والے ایران کے اندر توانائی کا بحران ہے، اور صدر عوام سے دس کی بجائے دو بلب جلانے کی اپیل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے پٹرول پمپس پر رش لگا ہوا ہے، اور امریکی تیل کا پہلا جہاز جاپان پہنچ گیا ہے۔
یہ امریکہ کے لیے ایک مثالی صورتِ حال ہے۔ ٹرمپ کو شاید اسی میں مزہ آ رہا ہے۔ ان کا بحری بیڑا بحرالکاہل کی بجائے بحرِ ہند میں کھڑا ہے تو اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
واپس کریں