دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حالات کسی بھی وقت کروٹ لے سکتے ہیں
طاہر سواتی
طاہر سواتی
ایک اصولی منافقت والا موقف یہ ہے کہ ہم جیسوں کو ایران اسرائیل تنازعہ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے وطن عزیز کے حقیقی مسائل جیسے مہنگائی اور دہشت گردی پر لکھنا چاہیے۔
ویسے منبر و محراب ہوں، عیدین کی نمازیں ہوں یا مذہبی جماعتوں کے جلسے، ہم نے تو ہمیشہ فلسطین، افغانستان اور کشمیر کا ہی ذکر سنا ہے۔ کبھی کسی نے آپ کو قوم کے حقیقی مسائل بتائے ہیں؟
کبھی دہشت گردی اور مہنگائی جیسے مسائل بھی غیر متعلقہ تھے، اور آج غریب کے سب سے بڑے مسئلے مہنگائی کا سرا بھی آبنائے ہرمز سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
2022 تک اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ، صحافت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی اکثریت طالبان کے عشق میں گرفتار تھی، اور جس نے بھی ان کے خلاف بولنے کی کوشش کی، اسے یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ کہا گیا۔
آج ن لیگ کی حکومت میں لوگوں کو القاعدہ کے نام پر گرفتار کیا جا رہا ہے، لیکن خود ن لیگ کے ارکان شیخ لادن کو پارلیمان میں خراج تحسین پیش کرتے رہے،
صالحین کے منور حسن نے بیت اللہ محسود جیسے دہشت گرد کو شہید ڈیکلیئر کیا، افغان طالبان کے نام خواجہ آصف کا سپاس نامہ تو کل کی بات ہے۔
مہنگائی کا جن تو اس وقت باہر نکلنا شروع ہوا تھا جب آپ نے نواز شریف کے خلاف پانامہ کا بہانہ بنا کر پھر اقامے پر نااہل قرار دے دیا تھا۔
جو قوم 64 روپے فی لیٹر پر انقلاب لانے نکل پڑی، اسے پھر 400 روپے والا پیٹرول ہی نصیب ہوتا ہے۔ یہ کوئی آلہ دین کا چراغ نہیں کہ رگڑا اور جن نے حاضر ہو کر سب کچھ ٹھیک کر دیا۔
آج مہنگائی پر سب سے زیادہ شور وہ لوگ مچا رہے ہیں جن کا اس تباہی میں براہِ راست ہاتھ تھا۔
بقول احمد مشتاق:
"ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا
اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں
اس تماشے میں نہیں دیکھنے والا کوئی
اس تماشے کو جو برپا ہے تماشائی میں"
کل صالحین کے حافظ نعیم پیٹرول اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، لیکن یہی جماعت آج سے دس سال قبل عمران نیازی جیسے فتنے کے شانہ بشانہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے میں پیش پیش تھی۔
میں اگر امیر جماعت ہوتا تو اسی اسٹیج پر سراج الحق کو مرغا بنا کر اس کے کندھوں پر شاہ راز خان کو بٹھا کر پھر پوچھتا کہ آپ نے کس حوالدار کے اشارے پر سپریم کورٹ میں تماشا لگایا تھا۔
کچھ احباب بار بار پوچھتے ہیں کہ آپ کو ستر ہزار فلسطینیوں کی لاشیں کیوں نظر آ رہی ہیں؟
ان سے گزارش ہے کہ مجھے تو یہ لاشیں 7 اکتوبر 2023 کی صبح ہی نظر آ گئی تھیں، لیکن اس وقت آپ حماس کے سنگ فتح کا جشن منانے میں مشغول تھے؟
اگر امریکہ ایرانی رجیم کے فتنے کو ختم کیے بغیر چلا گیا تو میرے خیال میں یہ غیر متعلقہ مسئلہ اس خطے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ میں ایک بڑی خونریز جنگ دیکھ رہا ہوں۔
کل ہی ایرانی مجلس قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علی خضر فرما رہے تھے کہ:
"متحدہ عرب امارات جانتا ہے کہ جنگ کے بعد امریکہ خطے سے نکل جائے گا، اور پھر ایران ان کی زندگی جہنم بنا دے گا۔"
لیکن ٹرمپ کا دورہ چین ایران کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، اور ٹرمپ نے فی الحال تائیوان کو اعلانِ آزادی سے منع کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے تائیوان کو 12 ارب ڈالر کی اسلحے کی ڈیل پر بھی مبہم سا جواب دیا ہے کہ وہ کر بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔
اس سے لگتا ہے کہ تائیوان کی قیمت پر ایران کی سودا بازی ہو چکی ہے، اور چین جیسا کاروباری بنیا کبھی بھی ایران کی خاطر کھربوں ڈالرز کی تجارت اور تائیوان جیسی قیمتی سلامتی کو قربان نہیں کرے گا۔
بھارت کا مودی متحدہ عرب امارات میں جبکہ ایران کا عراقچی نئی دہلی میں دھاگے سیدھے کر رہے ہیں۔
کویت نے پاسدارانِ انقلاب کے چار افسران کو سمندر کے راستے کویت میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے نام ہیں: کرنل امیر حسین، کرنل عبدالصمد، کیپٹن احمد، فرسٹ لیفٹیننٹ بری محمد حسین۔
یہ چاروں دہشت گردی کی غرض سے کویت میں داخل ہو رہے تھے اور انہیں کویت کے اندر حساس مقامات پر دھماکے اور دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
عراقچی نے ان کی گرفتاری کو بڑا ظلم قرار دیا، لیکن یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اگر یہ کویت کے سمندری حدود میں گرفتار ہوئے تو یہ وہاں کیا نیاز بانٹنے گئے تھے؟ اور اگر کویتی انہیں ایرانی حدود سے اٹھا کر لے گئے ہیں تو پھر آپ کی بھڑکیں کہاں گئیں؟
پاکستان اور سعودی عرب کی درخواست پر امریکہ نے حج کے ایام میں جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی،
لیکن اب حالات کسی بھی وقت کروٹ لے سکتے ہیں۔
جن دوستوں نے خیریت دریافت کی، ان کا شکریہ۔ ایسے ہی احباب کا جذبہ لکھنے پر مجبور کرتا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لکھنے کو بالکل دل نہیں کرتا۔ دو گھنٹے سر کھپا کر دس لائنیں لکھنی پڑتی ہیں، جسے سو بندے بھی نہیں پڑھتے، اُلٹا ماں بہن کی گالیاں الگ سے بونس میں ملتی ہیں۔
ایک محترمہ کا وی لاگ سامنے سے گزرا جس میں اس نے کدو پکانے کا طریقہ سکھایا تھا۔ دس گھنٹوں میں دس ہزار فرزندانِ توحید نے اسے لائک کیا تھا۔
اس کدو قوم کو اسی طرح پھدو بنانے والے ہی اس ملک میں کامیاب ہیں۔
واپس کریں