دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خوشنودی کی بجائے، وہی لکھیں گے جو درست لگے۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
مولانا رومیؒ سے متعلق ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ رات گئے ان کے مرشد شمس تبریزیؒ نے انہیں شراب پیش کرنے کی فرمائش کی۔
مولانا رومیؒ پہلے یہ سن کر حیران رہ گئے:
“مرشد، کیا آپ بھی یہ شغل فرماتے ہیں؟”
شمسؒ نے کہا: “ہاں، بالکل۔”
رومیؒ نے عرض کیا:
“مجھے معاف کیجیے، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔”
شمسؒ نے فرمایا: “اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو۔”
رومیؒ نے معذرت پیش کی:
“اس وقت رات گئے کہاں سے لاؤں؟ خادم بھی چھٹی کر چکے ہیں اور شراب خانے بھی سارے بند ہیں۔”
شمسؒ نے کہا: “عیسائیوں کے محلے میں ایک شراب خانہ ابھی کھلا ہے، وہاں سے خود جا کر لے آؤ۔”
مرشد کی عقیدت میں رومیؒ نے چادر اوڑھی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔
جیسے ہی وہ عیسائی محلے میں داخل ہوئے، لوگ حیران ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔
سب نے دیکھا کہ رومیؒ شراب خانے میں گئے اور بوتل خرید کر چادر کے نیچے چھپا لی۔ پھر جب وہ نکلے تو لوگ اور بھی بڑھ گئے اور ان کے پیچھے پیچھے مسجد تک پہنچ گئے۔
مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے شور مچا دیا:
“اے لوگو! تمہارا امام، شیخ جلال الدین رومیؒ، ابھی عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے!”
رومیؒ خاموش رہے، نہ جھوٹ بول کر انکار کر سکتے تھے اور نہ اقرار کی ہمت تھی۔
لوگوں نے چادر کے اندر سے بوتل نکالنے کا مطالبہ کیا۔
رومیؒ دم بخود کھڑے رہے۔
ہجوم کا شک یقین میں بدل گیا اور لوگوں نے غصے میں آ کر رومیؒ کے منہ پر تھوکا، انہیں بری طرح مارا پیٹا، یہاں تک کہ ان کی پگڑی بھی گر گئی اور بعض نے تو قتل کرنے کا بھی ارادہ کر لیا۔
اسی دوران شمس تبریزیؒ آئے اور لوگوں کو ملامت کی:
“ناحق ایک عالم اور فقیہ پر شراب نوشی کا الزام لگا رہے ہو، اس بوتل میں شراب نہیں بلکہ سرکہ ہے!”
یہ کہہ کر انہوں نے رومیؒ کی چادر ہٹائی اور بوتل سب کے سامنے آ گئی۔ جب لوگوں نے سونگھا تو سب حیران رہ گئے کہ واقعی یہ تو سرکہ ہے!
دراصل شمسؒ نے پہلے ہی شراب خانے والے سے کہہ دیا تھا کہ اگر رومیؒ بوتل لینے آئیں تو انہیں شراب کے بجائے سرکہ دے دیا جائے۔
مشتعل ہجوم بکھر گیا۔
رومیؒ نے پھر شمسؒ سے عرض کیا:
“مرشد، یہ سب کیا تھا؟”
شمسؒ نے فرمایا:
“یہ سمجھانے کے لیے کہ لوگوں کی عقیدت، محبت، عزت اور شہرت محض ایک فریب ہے۔ یہ لوگ ایک غلطی پر تمہاری ساری زندگی کے اعمال کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ جس عزت پر تم نازاں تھے، وہ ایک پل میں ختم ہو گئی! لوگوں کی رائے پر کبھی بھروسہ نہ کرنا۔ یہ پلک جھپکتے بدل سکتی ہے۔اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہیں بدلتی اور نہ مٹتی ہے۔ وہ ذات تمہارے ہزار لغزشوں کو ایک نیکی پر معاف کر دیتی ہے۔ لہٰذا لوگوں کی بجائے صرف اللہ کی خوشنودی کو مدِنظر رکھو۔”
یہی صورت حال آج کل سوشل میڈیا کی مقبولیت کی ہے۔ ہمارے چند سطروں کو جب چار لوگ سراہتے ہیں تو ہم آسمانوں پر اڑنے لگتے ہیں، اور پھر اسی شہرت کے زعم میں ہم حقیقت بیان کرنے کی بجائے مقبول بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ فالورز ناراض نہ ہو جائیں۔
میں گزشتہ پندرہ برسوں سے سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوں۔ جب تک مذہبی شدت پسندی، طالبانائزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لکھتا رہا، بہت اچھا لکھاری، حق پرست، کامریڈ، پتہ نہیں کیا کچھ تھا۔ خاص طور پر ولایتِ فقیہ کے دوست بڑے مرید تھے۔ لیکن جوں ہی ان کے طالبان پاسدارانِ انقلاب کے خلاف لکھا، تو نہ صرف وہ خلاف ہو گئے بلکہ بڑے بڑے مسلکی دیوبندی گالیاں دینے لگے۔ میں بکاؤ مال، یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ بن گیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے والوں کی مخالفت اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔
یہاں تک کہ پچھلے دنوں ان عقیدت کے اندھوں نے میرے پیج کو بڑی تعداد میں رپورٹ کرکے بند کرنے کی بھی کوشش کی ،
بہر حال، اگر کسی لمحے لگا کہ ہمارا موقف غلط ہے تو خود اپنی رائے سے رجوع کر لیں گے، معافی بھی مانگیں گے، لیکن مقبول بیانیے کے چکر میں لوگوں کی خوشنودی کی بجائے، ان شاء اللہ وہی لکھیں گے جو درست لگے۔
واپس کریں