دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مجھے خمینیوں اور پاسداران کی معتصبانہ سوچ پر کوئی تعجب نہیں
طاہر سواتی
طاہر سواتی
فروری کے مہینے سے سعودی عرب پر حملے جاری ہیں۔ ایران ابتدا سے ہی ان حملوں کی تردید کرتا رہا، مگر بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ حملے عراق میں موجود ملیشیا کر رہی ہیں، جو دراصل ایرانی پراکسیز ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف ایران کو پاکستان اور عالمی برادری کے سامنے بےگناہ ثابت کیا جا سکے اور دوسری طرف اپنا کام بھی پورا ہو۔ یہ ایرانی ملاوں کی منافقت کا ایک اور پہلو ہے۔
ان ملیشیاؤں میں سب سے بڑے اتحاد کا نام "اسلامی مزاحمت عراق" یا (آئی آر آئی) ہے۔ اس گروپ کی سرگرمیوں کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ فروری سے اپریل تک ان گروہوں نے صرف امریکی تنصیبات پر 600 سے زائد حملے کیے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے امریکہ نے ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی کے ذریعے ایران پر حملے روک دیے ہیں، لیکن صرف گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ان عراقی پراکسیز نے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے ذریعے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب یمن کے حوثی بھی بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے میں مصروف رہے۔
حوثیوں کا “ شافی علاج" کرنےکے بعد کل صبح سعودی عرب نے وسطی عراق کے صوبہ دیالہ میں ان کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جس میں ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں پانچ پاسدارانِ انقلاب کے ارکان بھی شامل تھے، جن کے تابوتوں کو ایرانی جھنڈوں میں لپیٹا گیا تھا۔
اس پر ایرانی وزارت خارجہ کا بیاں تھا کہ
"عراق پر سعودی حملہ کھلی جارحیت ہے، اس کارروائی کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلانا ہے۔"
مطلب ایران اور اس کے پراکسیز جو کچھ کر رہے ہیں، وہ انسانیت کی خدمت ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و امان لانا ہے۔ جوابی کاروائی ہو تو جارحیت اور جنگ کو پھیلانا ہے ۔ ذرا ان کی آصول پسندی چیک کریں ۔
اب ذرا تصور کریں کہ اگر بھارت پر نیپال یا سری لنکا سے حملے ہو رہے ہوں اور انڈیا کے جوابی کارروائی میں مقامی افراد کے ساتھ پاک فوج کے پانچ کمانڈو بھی مارے جائیں تو اگلے دن پاک بھارت بارڈر پر کیا صورت حال ہوگی اور پاکستان کے سوشلسٹ لبرلز کا کیا ردِ عمل ہوگا؟ مگر ایران کے حاضر سروس افسران عراق، شام اور لبنان میں ڈھٹائی سے گھوم رہے ہیں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اس کے باوجود ہم ایسے دہ شت گرد ملک کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں۔
امریکہ نے مسلسل بارہ روز اسرائیلی ایئر بیسز کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا، لیکن ان انقلابیوں نے اسرائیل کو زخمی کرنے کی بجائے عرب ممالک کو ہی نشانہ بنایا۔ دوسری جانب عراق میں امریکی اڈے موجود ہیں اور عراق کے وزیر اعظم حال ہی میں امریکہ کے دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے دو سو ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ مگر ایران نے آج تک عراق پر ایک بھی میزائل نہیں داغا۔ اس سے آپ خمینی انقلاب کی تنگ نظر فرقہ ورانہ سوچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ہرمز پر ان کی کھلی بدمعاشی ملاحظہ فرمائیں:
عمانی حکام نے تجویز دی تھی کہ عمان اور ایران 50-50 کی بنیاد پر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالیں ۔
لیکن ایران نے عمانی تجویز مسترد کر دی. یعنی جس اصول کے تحت وہ ہرمز پر اپنا حق جتا رہا ہے اسی کے تحت عمان کے حقوق تسلیم کرنے سے انکاری ہے
جنگ بندی کے باوجود پرسوں رات پاسداران نے اردن میں امریکی بیس پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا اور کل رات مصر کی بندرگاہ پر دو امریکی ایل این جی جہازوںُ کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز اور مندب کے بعد اب مصر بھی ایرانی دھ شت گردی کی ضد میں ہے اور نشانہ توانائی کے مراکز ہیں ۔
امریکہ نے ایران پر طاقتور حملے شروع کر دیئے. ایرانی شہر زوردار دھماکوں سے گونج اٹھے. آبادان، نورعباس، بندرعباس، بوشہر، اہواز، سیریک، خرمشہر، کیش جزیرہ سمیت متعدد جگہوں پر تباہ کن بمباری ہو رہی ہے.
‏امریکی بمبار طیارے برطانوی ائربیس اور اسرائیلی ایئر بیس سے اڑ کر آ رہے ہیں لیکن ایران کا زور اب بھی صرف خلیجی ممالک کویت، بحرین، اردن اور سعودی عرب پر ہی چلے گا. سعودی دارلحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں.
مجھے خمینیوں اور پاسداران کی معتصبانہ سوچ پر کوئی تعجب نہیں؛ اصل مسئلہ اس ملک میں جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعتیں ہیں، جو پاسداران سے بھی بڑھ کر ایرانی ہیں۔ سراج الحق آج کل ایران عراق کے زیارات مقدسہ کے دورے پر ہیں۔ یہ مقامات صدیوں سے یہاں قائم ہیں سراج الحق بھی لمبی زندگی گزار چکے ہیں لیکن اس موقع پر اس فتنے کو خوش کرنےکے علاہ اور کیا ہوسکتا ہے؟
واپس کریں