طاہر سواتی
ایک سال قبل ایک امریکی ڈالر 8 لاکھ ایرانی ریال کے برابر تھا۔ جنوری میں جب مہنگائی اور خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور انہیں بسج فورس کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت ڈالر 14 لاکھ ریال کے برابر تھا۔ اور آج ڈالر کی قیمت 18 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ معاشی حالت کتنی خراب ہے۔
تمام پابندیوں کے باوجود ایران کا تیل بکتا رہا۔ یہاں تک کہ جنگوں کے دوران بھی تیل سے معیشت کا پہیہ چلتا رہا۔
لیکن ٹرمپ کے حالیہ محاصرے نے جنگ سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا، اور یہ راستہ امریکہ کو کسی اور نے نہیں بلکہ ایرانی دانشوروں نے دکھایا۔
امریکہ اب تک ایران کے 44 آئل ٹینکروں کو واپس بھجوا چکا ہے، جن میں تقریباً 70 ملین بیرل تیل ہے اور جس کی کم از کم مالیت 6 ارب ڈالر بنتی ہے۔ مطلب ہمارے تین سالہ آئی ایم ایف پیکیج کے برابر نقصان ایران کا صرف تین ہفتوں میں ہوچکا ہے۔ ایران کے پاس تین ہفتوں تک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔
عراقچی نے عمان کے حالیہ دورے میں تجویز دی تھی کہ ایران اور عمان مل کر ہرمز کے بھتے ٹیکس کا نظام سنبھالیں، لیکن عمان نے یہ تجویز مسترد کردی۔
ادھر ایرانیوں کا ایک گروہ دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ دوسرا مفاہمت کی ڈھولکی بجا رہا ہے۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے تازہ پیغام میں دھمکی دی ہے کہ امریکہ کو ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے، ہم ٹرمپ کی ناکہ بندی کے کچھ ماہ کے دعوے مسترد کرتے ہیں، اور کسی صورت ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہزاروں میل دور سے اے امریکیوں، تمہاری اصل جگہ صرف سمندر کی تہہ ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین نے دھمکی دی ہے کہ "یمنی آبنائے باب المندب کو بند کرنے کے لیے ہمارے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔"
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان حسبِ دستور ماتمی اور مفاہمتی راگ الاپ رہے ہیں:
"دنیا ایران کے صبر و تحمل اور مفاہمت کی گواہ ہے۔ بحری ناکہ بندی کے نام پر ایران اپنی خودمختاری اور مزاحمت کی قیمت چکا رہا ہے۔ یہ جابرانہ طرز عمل کا جاری رہنا ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر امریکہ اپنا انتہاپسندانہ موقف ترک کردے تو ایران سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔"
ایک یہ خبر بھی ہے کہ وزیر خارجہ عراقچی کو قربانی کا بکرا بنا کر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے، یہ کہہ کر کہ سب کچھ اسی نے خراب کیا۔
ادھر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے:
"بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں، تو پھر جو کچھ میں نے کیا وہ بالکل درست تھا، کیونکہ ہماری فوج نے انہیں بری طرح شکست دی ہے۔"
اس نے جرمن چانسلر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مسائل اور یوکرین جنگ پر توجہ دینے کی بجائے مجھ پر تنقید کر رہے ہیں۔
حالانکہ جب میں نے اس سے پوچھا: "کیا آپ چاہیں گے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں؟" تو اس نے کہا نہیں۔ میں نے کہا: "تو پھر میرا خیال ہے کہ میں ٹھیک کر رہا ہوں۔"
امریکی سینٹرل کمانڈ کے چیف نے ٹرمپ کو سیچویشن روم میں بریفنگ دی ہے، جس میں ممکنہ طور پر ایک مختصر لیکن بھرپور حملے کا منصوبہ شامل تھا۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ 'خلیج میں پہلی بار ڈارک ایگل' نامی ہائپرسونک میزائل استعمال ہونے جا رہے ہیں تاکہ ایران کے اندر دور دراز علاقوں میں موجود بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
کل رات امریکہ نے اسرائیل کو 6,500 ٹن فوجی سازوسامان منتقل کر دیا ہے۔
امریکہ تین ممکنہ حکمتِ عملی اپنا سکتا ہے:
1. دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ہرمز کھولا جائے اور ایران کی ناکہ بندی جاری رکھی جائے۔
2. اسپیشل آپریشن کے ذریعے افزودہ یورینیم نکال لی جائے۔
3. یا بھرپور حملہ کر کے توانائی اور دیگر انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ خواب و خیالوں یا سوشل میڈیا پر بھڑکیں مار کر امریکہ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن زمینی حقائق بہت تلخ ہیں۔ امریکہ کے مقابلے کے لیے اس کے برابر ہونا پڑے گا۔
امریکہ کی کمپنی موبائل برینڈ ایپل کے پہلے سہ ماہی کی آمدن 111 ارب ڈالر ہے، جو پاکستان کے مجموعی بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔
جب امریکہ ابھی تک جنگ پر صرف 25 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے جو ایپل کی ایک ماہ کے آمدن سے بھی کم ہے ،
مولا خوش رکھے ،
اب آپ بتائیں، مقابلہ کیسے ہو؟
واپس کریں