دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آبنائے ٹرمپ
طاہر سواتی
طاہر سواتی
ہم تو سمجھے کہ ایران جیت چکا ہے اور جنگ ختم ہو گئی ہے، لیکن پتہ چلا کہ ابھی تک پٹاخے چل رہے ہیں۔
کئی ہفتوں کی دن رات محنت کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی کے لیے نئے ٹاورز نصب کیے اور کچھ لانچر بنائے، تاکہ ایک بار پھر ہرمز کو بارودی سرنگوں سے بھر دیا جائے۔ مگر خدا ٹرمپ کو غارت کرے، اس نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔
بلومبرگ نے لکھا ہے کہ پاکستان اب بھی 'اسلام آباد میمورنڈم' کو کامیاب بنانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے، حالانکہ امریکی حکام ثالثوں کو بارہا واضح کر چکے ہیں کہ واشنگٹن اس متروک اور بے نتیجہ معاہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ایران کو عالمی برادری میں واپس لانے کے لیے جو تاریخی کوشش کی تھی، اسے کسی اور نے نہیں بلکہ خود پاسدارانِ انقلاب نے ناکام بنایا۔ تین سو ارب سے زائد کے معاشی پیکج کو ٹھکرا کر ایرانی قیادت نے آبنائے ہرمز میں پوری دنیا سے مستقل بھتہ ٹول وصول کرنے کا ارادہ کیا، لیکن عالمی تیل پر کنٹرول کی لالچ میں ایران اپنا ہی تیل اس آبنائے کے اندر پھنسا بیٹھا۔
جنگ سے قبل ایران تقریباً 15 سے 22 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کر رہا تھا۔ جنگ کے بعد جبکہ عراق اور کویت کی برآمدات میں 36 فیصد، سعودی عرب اور قطر میں 48 فیصد، اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات میں صرف 0.02 فیصد کمی ہوئی، وہاں ہرمز میں تیل پر کنٹرول کرنے والے ایران کی برآمدات میں 100 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلے سات ہفتوں سے ایران ایک جہاز بھی باہر نہیں نکال سکا۔
ایران اب بھی تیل جہازوں میں بھر رہا ہے، لیکن ایک قطرہ بھی کہیں نہیں جا پا رہا۔ ٹینکر ٹریکرز کے مطابق 29 ٹینکروں میں 3 کروڑ 61 لاکھ 10 ہزار بیرل ایرانی تیل آبنائے کے اندر موجود ہے، جبکہ خود ایران میں پٹرول اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
پاسداران کے ان اقدامات کا سب سے بڑا نقصان ایران اور اس کے بعد چین کو ہو رہا ہے۔ چین نہ صرف ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا، بلکہ اس کی ادائیگی اپنی کرنسی یوآن میں کرتا تھا۔ چین ایران سے یومیہ 14 لاکھ بیرل تیل خریدتا تھا۔ اس کے بدلے ملنے والی چینی کرنسی سے ایران یا تو چین سے ملٹری ٹیکنالوجی خریدتا تھا یا متحدہ عرب امارات میں اسے امریکی ڈالرز میں تبدیل کروا لیتا تھا۔ اس طرح کئی عشروں تک معاشی پابندیاں نافذ ہونے کے باوجود ایرانی نظام چلتا رہا اور وہ ڈرون اور میزائل بناتا رہا۔
لیکن حالیہ امریکی بحری ناکہ بندی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو برسوں کی پابندیاں نہ کر سکیں: اس نے تہران کی زرمبادلہ آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کو بند کر دیا ہے۔ 14 جولائی کو امریکی ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد سے ایرانی خام تیل کا کوئی بھی نیا کارگو آبنائے ہرمز عبور کرکے چین تک کامیابی سے نہیں پہنچ سکا۔
اس ناکہ بندی کی تپش اب چین میں بھی محسوس ہو رہی ہے اور وہ متبادل سپلائی چین کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ چینی صدر کا حالیہ دورہ مصر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حالیہ ناکہ بندی ایران کو اس کے سب سے بڑے تیل کے خریدار چین سے عملی طور پر الگ کر رہی ہے۔ اگر یہ صورت حال طویل عرصے تک برقرار رہی تو نہ صرف ایران کی معاشی حالت ابتر ہو جائے گی، بلکہ تیل باہر نہ نکلنے کی وجہ سے تیل کے کنوئیں بھی خشک ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہُ کے زیر نگرانی صرف منگل کے روز چالیس کے قریب تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ اسی لیے ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز چونکہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے، اس لیے اس کا نام 'آبنائے ٹرمپ' رکھا جائے۔
کبھی وہ وقت تھا کہ پاکستان اور بھارت ایران سے گیس پائپ لائن لے رہے تھے، اب ایران خود روس سے گیس پائپ لائن کے معاہدے کر رہا ہے تاکہ اپنی گیس کی ضروریات پوری کر سکے۔ اس وقت ایک ڈالر 22 لاکھ ایرانی کرنسی کے برابر ہے، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں، اور کچھ یونیورسٹیاں ستمبر کے آخر تک بند کی جارہی ہیں۔ اوپر سے ٹرمپ نے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔
ادھر مودی سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے بھارتی حمایت پر اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کوئی ولایت فقیہی بتانا پسند کریگا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران بھارت نے کب ایران کی حمایت یا مدد کی ہے؟
جنگ سے ایک دن قبل مودی یروشلم میں بیٹھ کر اسرائیل کو 'فادر لینڈ ، ڈیکلیر کر رہے تھے اور ایرانی پشت پر حماس کی دہشت گردی کی مذمت کر رہے تھے۔
بھارتی نیوی کے ساتھ مشقوں میں ایران جہاز کو نشانہ بنایا گیا، بھارت نے ڈوبتے ہوئے ملاحوں کو بچانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی،
بھارت نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
جب امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو بھارت نہ صرف چابہار بندرگاہ سے دستبردار ہوا بلکہ افغانستان سے تجارتی معاہدہ بھی معطل کر دیا، کیونکہ وہ تجارتی مال ایران کے راستے آتا تھا۔
اس کے باوجود پاکستان میں موجود ایرانی اور افغان ملاؤں کے پیروکار بھارت کے گن گاتے اور پاکستان کو صلاتیںٗ سناتے رہتے ہیں۔
واپس کریں