طاہر سواتی
جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کی خصوصی درخواست پر امریکہ حج کے ایام میں جنگ سے گریز کرے گا۔ اس دوران ٹرمپ نے روزانہ کوئی نہ کوئی ڈگڈگی بجا کر اپنی اسٹاک مارکیٹ اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
لیکن ان دو ماہ کے دوران ایران اور ان کے پاسداران کے بیانات دیکھیں، ان کی بھڑکیں سنیں تو لگتا تھا کہ صرف یہی کرۂ ارض کی ناقابلِ شکست قوت ہے۔ دوسری جانب پاسداران کی پراکسی حزب اللہ نے اسرائیل پر اپنے حملے جاری رکھے۔
الجزیرہ نے 25 مئی کو ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ نے اسرائیل پر 1000 ڈرون اور 700 راکٹ داغے ہیں، لیکن ہمارے ایران نواز میڈیا پر آپ نے ایک بھی ایسی خبر نہیں سنی ہوگی۔
سب سے پہلے 18 اپریل 2026 کو جنوبی لبنان کے علاقے غنڈوریہ (ضلع بنت جبیل) میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن جب اسرائیل نے جوابی کارروائی شروع کی تو ہر طرف آہ و بکا مچ گئی۔
حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر بڑے میزائل حملے لبنان کے گنجان آباد علاقوں سے ہو رہے تھے۔ اسرائیل کی جوابی فضائی حملوں سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خطرہ تھا، اس لیے اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے بیروت پر قبضے کا اعلان کیا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا نے اس کا برا منایا، یہاں تک کہ ٹرمپ اور نتنیاہو کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، بعض میڈیا چینلز نے گالی بھی کوٹ دی۔
اس دوران پاسداران کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ ٹرمپ ڈر کے مارے جنگ سے بھاگ رہا ہے اور اسرائیل اکیلا رہ گیا ہے، لہٰذا یہی وقت ہے پرانا حساب چکانے کا۔ ایران کی جانب سے اسرائیلی شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائلوں کی برسات کی گئی۔ ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل نے بھی تہران اور دیگر ایرانی مقامات پر جوابی حملے کیے۔ پھر ایران نے خود ہی مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کیا، اسرائیل بھی خاموش ہو گیا۔
دو دن قبل ایران نے خلیج عمان میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ ایران نے پہلے تو جواز پیش کیا کہ یہ نادانستہ طور پر نشانہ بنا، پھر یکسر انکاری ہو گیا۔ لیکن ٹرمپ پر دباؤ تھا کہ اسرائیل نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، لیکن امریکہ جیسا طاقتور ملک اتنے بڑے نقصان پر خاموش ہے۔
اب دوسری رات ہے کہ امریکہ ایران پر بمباری کر رہا ہے۔ ایران نے مذاکرات کا مرکز اسلام آباد سے دوحہ منتقل کر دیا ہے۔ اس دوران ایران کے سرکاری میڈیا سے دھیرے دھیرے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بھی جاری ہے۔ بلکہ علی لاریجانی کے بھائی محمد جواد لاریجانی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایران کو کسی ثالث کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب جس روز کشمیر جل رہا تھا اور کے پی کے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے ہو رہے تھے، اس دوران بھی وزیر داخلہ تہران میں ثالثی کر رہے تھے۔
ابھی تک اس جنگ میں ایران نے 87 فیصد حملے خلیجی ممالک پر جبکہ صرف 13 فیصد اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔ اور آج ہی ان کے وزیر خارجہ عراقچی فرما رہے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو روکنا خلیجی ممالک کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں ایسا کون سا قانون ہے جس کے مطابق دو ممالک کے درمیان لڑائی کو روکنا کسی تیسرے ملک کی ذمہ داری ہو؟ جبکہ خود پوری مسلم دنیا میں اپنی حزب اللہ اور حوثی جیسے پراکسیوں کے ذریعے انتشار پھیلانا ایران کی دینی ذمہ داری ہے۔
کل سپریم لیڈر یہ فتویٰ بھی جاری کر سکتے ہیں کہ پاکستان امریکی ایجنٹ ہے اور اس کے خلاف جنگ کرنا ولایتِ فقیہ کے پیروکاروں کی مسلکی ذمہ داری ہے۔
واپس کریں