دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے ساتھ جشنِ آزادی مبارک۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
آج پوری قوم جشنِ آزادی منا رہی ہے، لیکن غفورے کے کتورے ماتم کناں ہیں کہ جب اس ملک کا سب سے بڑا بلڈاگ بند ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک آزاد ہے؟
کموڈ صحافت کا علمبردار ڈالر کمانے کی چکر میں شوشہ چھوڑتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اب ہمیں نہیں رہے۔
پھر سعودی عرب میں مقیم ایک "عمرانڈو شبیر بلوچ" فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کو ویڈیو میں قتل کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اس کی بس میں نہیں تھا ورنہ یہ کر گزرتا۔ راولپنڈی میں "ارشد" نامی یوتھیئا زومبیز جی ایچ کیو پر حملے کی کوشش میں مارا جاتا ہے۔
پاکستان میں موجود آدھے سے زیادہ زومبیز شبیر اور ارشد ہی کی سوچ رکھتے ہیں، بس ذرا ہمت کی کمی ہے۔
آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟
اس لیے کہ جب تمام تر ثبوتوں کے باوجود 9 مئی کے مجرم نہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ ان میں سے کسی کو وزیر، کسی کو مشیر اور کسی کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔
امریکہ اور برطانیہ جیسے بڑے جمہوری ممالک میں اگر کوئی سیاسی لیڈر ریاست کو للکارتا ہے تو نہ صرف اس کی سیاست ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتا ہے۔
2014 کے دھرنوں کی وہ جشنِ آزادی آج بھی ہمیں یاد ہے جب لاڈلے نیازی اور قادری کو لندن پلان کے تحت اسلام آباد پر چڑھا دیا گیا۔ قبریں کھودی گئیں، سروں پر کفن باندھے گئے۔
جس نے پوری 126 دن اسلام آباد کو یرغمال بنایا اور سرعام آئی جی کو اپنے ہاتھوں پھانسی دینے کا اعلان کیا، اسے آر ٹی ایس بٹھا کر وزیراعظم بنا دیا گیا۔ جس نے ریاستی ادارے پی ٹی وی پر حملہ کیا، اسے ریاست کا سربراہ یعنی صدر پاکستان بنا دیا گیا۔
اس وقت پرتشدد ہجوم جب پولیس والے کو ڈنڈوں سے مارتا ہے تو ساتھ کھڑا فوجی سپاہی مسکرا رہا ہوتا ہے۔
پوری اسلام آباد پولیس جس پی ٹی وی بلڈنگ کی حفاظت نہ کرٗ سکی اسے ایک کیپٹن نے آکر پلک جھپکتے زومبیز سے خالی کروایا۔
خادم گالوی پورے فیض آباد کو بند کرتا ہے اور پھر فیض کے ایک دستخط پر کھول دیتا ہے۔ جو جنونی کئی پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہوتے ہیں، ایک جنرل نہ صرف ان میں ہزار ہزار کے نوٹ بانٹ کر خوشی خوشی گھر روانہ کر دیتا ہے بلکہ سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں یقین دلاتا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
جب آپ ریاست کو آگ لگانے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور آپ کا یہ بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ دراصل ہم ہی ریاست ہیں، تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہو رہا ہے۔
آج کل جو یوٹیوبرز باہر بیٹھ کر یہ آگ بھڑکا رہے ہیں،
"ففتھ جنریشن وار" کے یہ کی بورڈ واریر کس کی پیداوار ہیں؟
اس ملک سے نکلوانے میں کس نے سہولت کاری کی؟ آج بھی کون کون محب وطن ان کے ساتھ رابطے میں ہے؟
ٹی ٹی پی یا افغان تالبان جیسے دیوبندی دہ شت گرد ہوں،
ٹی ایل پی جیسے بریلوی شدت پسند ہوں،
یا پی ٹی آئی جیسی فاشسٹ جماعت ہو۔
اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے ہر قوت کے پیچھے آپ کو وہ محب وطن ہاتھ ملیں گے ۔ جن کا آج دعویٰ ہے کہ یہ نظام فیل ہو چکا ہے، ہم نیا نظام لائیں گے۔
قوم کو ان کے نئے پاکستان کی پکی اب تک ہضم نہیں ہوئی کہ انہیں نئے نظام کی چڑھی ہے۔
بہر حال جن کے نزدیک خان ہے تو پاکستان ہے ،
جن کا نظریہ ہے کہ توشہ خانہ سے قیمتی اشیأ کی چوری اور قومی خزانے میں 190 میلین پاؤنڈ کی خرد برد ہی حقیقی آزادی ہے ،
اور جن کے ہاں حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں آرمی چیف قوم کا باپ ہو اور پارلیمان ، عدلیہ اور میڈیا کو کوئی کرنل کنٹرول کررہا ہو،
ان کو یہ غلامی اور آمریت مبارک ہو،باقی سب دوستوں کو اس ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے ساتھ جشنِ آزادی مبارک۔
واپس کریں