طاہر سواتی
عرض مکرر ہے کہ امریکہ اور یورپی اقوام کو افغانستان اور ایران جیسے انقلابات سے کوئی خطرہ نہیں، جب تک کہ ان کے مفادات پر ضرب نہ لگے۔
ویسے بھی جو انقلاب پندرہ سال تک فرانس جیسے ملک میں پکتا رہا، وہ کتنا مغرب مخالف ہوگا؟
جب تک خمینی انقلاب پڑوسی مسلمان ممالک میں خون کی ندیاں بہاتا رہا، انہیں کوئی فکر نہیں تھی۔
لیکن جوں ہی اکتوبر ۲۰۲۳ میں اسرائیل براہِ راست نشانہ بنا، تو پھر اس کا بندوبست کرنا پڑا۔
خمینیوں کو بھی اندازہ ہوا کہ غلط جگہ پنگا لیا ہے۔
اسی لیے حالیہ بارہ روزہ شدید بمباری میں انہوں نے اسرائیل پر ایک میزائل بھی نہیں داغا، حالانکہ یہ سارا آپریشن بن گوریان ایئر بیس سے ہو رہا تھا۔
پاکستانی خمینی اس کا یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ اگر اسرائیل حملہ نہیں کرتا تو ایران کیوں کرے؟ تو کیا سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین ایران پر حملہ آور ہوئے تھے؟
ان ممالک میں امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوئے، اس کے باوجود یہ ہر امریکی حملے کے جواب میں ان ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب جس ملک سے پورا آپریشن ہو رہا ہے، اس سے کچھ نہیں کہا جا رہا۔
ان انقلابیوں نے لبنان کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا تھا، وہاں خطرناک قسم کا آپریشن جاری ہے، لیکن انقلابیوں کی غیرت صرف عرب ممالک پر جاگ رہی ہے۔ اور جس فلسطین کارڈ کے نام پر خمینیوں نے یہ دھندا شروع کیا، اس کا تو نام و نشان ہی مٹتا جا رہا ہے۔
گزشتہ دو ماہ سے انقلابی اسرائیل سے چشم پوشی کرکے دراصل امریکہ کو یقین دلا رہے ہیں کہ ہم سے ایک بار غلطی ہوئی تھی، آیندہ کے لیے بے فکر رہیں۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود عرب ممالک پر تواتر کے ساتھ حملے جاری ہیں۔ چند دن قبل کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، اسی روز انقلابیوں نے کویت کو نشانہ بنا کر پاکستان کو بھی پیغام دے دیا۔
کوئی تین دن قبل العربیہ نے سعودی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق پاسداران انقلاب ایران، حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر سعودی عرب پر ایک بھرپور حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حالانکہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ بڑا حملہ محمد بن سلمان کی درخواست پر روک دیا تھا۔
صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران اور حوثیوں نے ۹ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔
کل حوثیوں نے یمن کی سعودی حمایت یافتہ فوج پر حملہ کرکے پچاس کے قریب جوانوں کو مار ڈالا۔
اس سنگین صورتِ حال میں کل بروز جمعہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے۔جس کے مطابق ایک ملک پر حملہ، سب پر حملہ تصور ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے قصر الصفا میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی و ترک اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
نیٹو طرز پر اس ٹرائیکا اتحاد میں ترکی نیٹو کی دوسری مضبوط فوجی قوت ہے، سعودی عرب ایک معاشی طاقت ہے، اور پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے۔
اس معاہدے پر جنوری کے مہینے سے کام جاری تھا، یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سیکیورٹی معاہدے سے الگ ہوگا۔
اگرچہ ترکی کے صدر طیب اردوان نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اس کے باوجود خمینی انقلابیوں کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ گھاؤ کتنا گہرا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا ہے:
"سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے ان کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، جس طرح برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ ساتھ دینے سے بھی انہیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔ اپنی پالیسیوں کی اصلاح کریں تاکہ دوسروں سے سلامتی کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔"
ان کے ہاں پالیسیوں کی اصلاح کا مطلب خمینی کو امام ماننے کے سوا اور کچھ نہیں۔
جب کہ دوسری جانب سابق ایرانی صدر حسن روحانی کے سابق مشیر حسام الدین آشنا اقرار کر رہے ہیں کہ:
"سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی معاہدہ خطے میں جنگ کے قواعد تبدیل کر دیتا ہے۔ اس معاہدے سے خلیجی ممالک کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کی مؤثریت کم ہوگی اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی کشیدگی میں اضافے کی قیمت بڑھ جائے گی۔ یہ معاہدہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد پر مبنی ایک نئے علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد رکھنے کا کام کرے گا۔"
لبنانی صحافی ناتالی لکھتی ہیں:
تہران میں ایرانی نظام نے ریاض کو ایران، عراق، یمن اور لبنان سے گھیرنے کی کوشش کی۔
ریاض نے جواباً تہران کو سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ سے گھیر لیا۔
خمینی کی ولایتِ فقیہ کی بنیاد ہی کشت و خون ہے۔
یہ انقلابی امن چاہتے ہیں یا پوری دنیا میں جنگ و جدل، اس کا اندازہ آپ سابق صدر حسن روحانی کی دو دن قبل اپنے وزراء اور سابقہ حکومت کے نائبین سے ایک ملاقات کے دوران کی گئی اس گفتگو سے لگائیں:
حسن روحانی کے مطابق ولایتِ فقیہ کے عقیدے کے مطابق افراتفری اور جنگ امام مہدیؑ کے ظہور کی پیشگی شرائط ہیں۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر بعض عناصر ایک وسیع اور زیادہ تباہ کن جنگ کے خواہاں ہیں تاکہ امام مہدیؑ کے ظہور میں تیزی لائی جا سکے، یعنی امام مہدیؑ کے ظہور کو جلد ممکن بنانے کے لیے جنگ کو مزید بڑھانا ضروری ہے۔
روحانی نے ۲۰۰۴ء میں علی خامنہ ای کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس میں ایک شخص نے تجویز پیش کی تھی کہ تہران میں ایک بہت بڑا پلیٹ فارم بنایا جائے، جہاں امام مہدیؑ اپنے ظہور کے بعد خطاب کریں، اور وہاں ایسا طاقتور ساؤنڈ سسٹم نصب ہو جس کی آواز پورے شہر کے لوگ سن سکیں۔
جو مذہبی جنونی امن کی بجائے جنگ کے پیاسے ہوں، ان کے ساتھ کون سا امن معاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
جب تک ایران میں یہ زہریلی سوچ موجود ہے، اس خطے میں امن کا خواب دیکھنا پاگل پن ہے۔
آج نہیں تو کل، اس خطے کے باسیوں کو اس جنونیت کے خلاف یہ جنگ لڑنی پڑے گی۔
واپس کریں