طاہر سواتی
فضل الرحمان نے جو کچھ کہا، وہ آدھا بلکہ یکطرفہ سچ ہے۔ پورا سچ تو یہ ہے کہ جرنیلوں کو آئین اور قانون کا احترام کرنا چاہیے اور جیسا بھی ہو، ملک میں جمہوریت کو چلنے دینا چاہیے۔ ملکی دفاع چونکہ فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے انہیں نہ صرف امن لشکر بلکہ مجاہد اور طالب جیسے گروہ بنانے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
آج تک اسرائیل نے ایک بھی پاکستانی نہیں مارا، لیکن 99 فیصد پاکستانی ان کا نام سنتے ہی آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔
بھارت نے تین بڑی جنگوں میں اتنے پاکستانی نہیں مارے، جتنے ان طالبان نے گزشتہ 25 برسوں میں گولہ بارود میں اڑا دئیے ہیں۔
لیکن انہیں "دہ شت گرد" کہتے ہوئے آج بھی ہماری زبانیں لڑکھڑاتی ہیں۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ان کے پیچھے فضل الرحمان جیسے مولوی کھڑے ہیں۔
افغان جنگ کی پچاس سالہ کہانی میں بیس برس (1974 سے 1994 تک) مجاہدین کے ہیں، جس میں امریکہ، سعودی عرب، بھٹو، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور جماعت اسلامی ایک پیج پر تھے۔ دوسرا دور طالبان کا ہے، جو 1994 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری وزارت عظمیٰ سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں امریکہ، سعودی عرب، دیوبندی، پیپلز پارٹی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پیج قائم ہوا۔ امریکہ ماسٹر مائنڈ تھا، سعودی عرب نے سرمایہ کاری کی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے تکنیکی مہارت دی اور دیوبندی مدارس نے افرادی قوت مہیا کی۔
جب 9/11 کے بعد مشرف نے یوٹرن لیا تو طالبان کے حامی گروپ پاکستان کے خلاف ہو گئے اور یوں ایک نہ رکنے والا قتل عام شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ اب تو افغان حکومت کھل کر ان کا ساتھ دے رہی ہے، اور فضل الرحمان کو ان کے خلاف ایک لفظ سننا گوارا نہیں۔
اسی مشرف کو جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے مل کر بطور صدر منتخب کیا۔ یہ دونوں جماعتیں نوے ہزار پاکستانیوں کے خون میں براہِ راست ملوث ہیں۔ لہٰذا پہلا پتھر وہ پھینکے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ یہ دو جماعتیں خود اس گیم کا حصہ تھیں، وہ کس منہ سے ہمیں جرنیلوں کی لشکرکشی کی کہانیاں سنا رہی ہیں؟
اسٹیبلشمنٹ اگر خوست میں البدر کے کیمپ چلائے، یا راولپنڈی کی الاکرام بلڈنگ میں مجاہد بھرتی کرے، یا راولاکوٹ میں حزب کے جنگجوؤں کو ٹریننگ دے تو اعلیٰ۔ نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں جماعت اسلامی نے آئی جی آئی اور حکومتی اتحاد سے اس لیے علیحدگی اختیار کی کیونکہ اس نے ان کیمپوں پر پابندی کا عندیہ دیا تھا۔ اسی طرح جب فوج کوئٹہ شوریٰ قائم کرے، ملا عمر سے لے کر حقانی تک دیوبندی کمانڈروں کو سپورٹ کرے تو 1973 کے آئین کے تناظر میں یہ نہایت بہترین کام ہوتا ہے۔ لیکن جب سب حلوہ کھا رہے ہوں اور مولانا کے سامنے پلیٹ خالی ہو، تو پھر شہدا کو بھی نہیں بخشا جاتا۔
منور حسنُ اور فضل الرحمان کے نزدیک قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے والے اگر وطن کے دفاع میں مارے جائیں تو ہم پر کوئی احسان نہیں ، یہ کوئی شہادت نہیں ،
اصل محسن اور شہید تو وہ ہے جو امریکہ سے ڈالر لیکر روس کے خلاف لڑے ، پھر روس اور چین سے مال پکڑ کر امریکہ کے خلاف ج ہاد کرے ، یا مودی سرکار کی آشیر باد سے پاکستان میں بم دھماکے کرے ۔
شیخ لادن اور بیت اللہ محسود جیسے دھ شت گردوں کو
شہادت کے تمغے دینے والوں کے نزدیک وطن عزیز پر مر مٹنے والا ایک غریب کا بچہ کیسے شہید ہوسکتا ہے؟
آخر ایک جرنیل اور مولوی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ جرنیل اگر غریب سپاہیوں کی قربانیوں کے بدلے شہرِ اقتدار میں حصہ مانگتے ہیں، تو مولوی بھی تو یہی کر رہا ہے۔ مدارس کے غریب طلبہ کے نام پر چندہ مانگتا ہے، ان بیچارے طلبہ کو پیٹ بھر کر روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی، لیکن مدرسے کا مہتمم علاقے کا ٹائیکون بن جاتا ہے۔
اگر جرنیلوں کے خیال میں ان کے پیچھے دس لاکھ فوج کھڑی ہے، اس لیے وہ سیاسی بونوں کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرتے، تو فضل الرحمان جیسے مولوی ببانگِ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے پیچھے مدارس کے تیس لاکھ طلبہ ہیں، ہم پارلیمان سے منظور شدہ قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
اگر شہدا کی تکریم اس لیے جائز نہیں کیونکہ وہ ہمارے خونِ پسینے کی کمائی سے تنخواہ لیتے ہیں، تو یہ مولوی کس بنیاد پر خدائی فوجدار بن کر احترام مانگتے ہیں؟ یہ بھی تو ہمارے خونِ پسینے کی کمائی سے تنخواہیں اور چندے دونوں لیتے ہیں۔
مولوی پڑھائی کے بعد امامت کی نوکری کرکے اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، تو ہم ان کا احسان کیوں مانیں؟ ایک حافظ امامت، قرأت اور نمازِ تراویح میں قرآن سنا کر پیسے اکٹھے کرتا ہے، پھر قوم پر احسان کیوں جتاتا ہے؟
جرنیلوں کی طرح ہر شیخ القرآن، شیخ الحدیث، مہتمم، مدرس اور حافظ اپنے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے سب کچھ کرتا ہے۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ فوج میں صرف بڑے بڑے جرنیل پروٹوکول مانگتے ہیں، سپاہی تو دور کی بات، کسی صوبدار یا حوالدار تک کوئی پوچھتا نہیں۔ دوسری جانب مدرسے سے فارغ ایک تازہ طالب بھی فل پروٹوکول مانگتا ہے، اس کی ذرا سی گستاخی آپ کی دنیا اور آخرت برباد کر سکتی ہے۔
پھر ایک جرنیل اور مولوی میں کیا فرق ہے؟
بلکہ فضل الرحمان اور گل نصیب خان جیسے مولویوں کا لائف اسٹائل تو کسی کور کمانڈر سے کم نہیں۔ جرنیل تو ان سے ہزار درجے بہتر ہیں جو طاقت کے باوجود کبھی قانون کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔ اتنی طاقت اگر مولوی کے پاس آ جائے تو قوم کا کیا حشر کریں گے، اس کی ایک جھلک ایران اور افغانستان میں دیکھ لیں۔
جے یو آئی کے حمد اللہ آج فضل الرحمان کے دفاع میں بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں۔ جس کا اپنا بیٹا کاکول سے کمیشنڈ افسر بن کر نکلا ہے۔ خدانخواستہ کل اگر وہ کسی لڑائی میں مارا جائے تو کیا وہ شہید کہلائے گا؟ کیا اس کا بھی احترام لازم ہوگا؟
پھر کہتا ہوں: پہلا پتھر وہ پھینکے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ اس قسم کا بیان اگر ایمل ولی خان دے دیں تو ہم مان لیں گے کہ انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت سے بڑھ کر اس دھرتی کے لیے اپنا لہو پیش کیا۔ لیکن جو اسٹیبلشمنٹ اور دہشت گرد دونوں کے سہولت کار رہے ہوں، جو رات کے اندھیرے میں مہربانوں سے ملاقات کرکے 60 سیٹیں مانگیں، وہ کس منہ سے میرے اور آپ جیسے غریب کے بچوں کی شہادت کا مذاق اُڑاتے ہیں؟
واپس کریں