طاہر سواتی
ہمارے ہاں حق کا پہلا معیار مسلک اور دوسرا مذہب بن چکا ہے۔ ہم مذہب کو تو چھوڑ سکتے ہیں، لیکن مسلک کو نہیں۔ جنوری سے جون تک کے واقعات کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس معاشرے میں سچ لکھنا وقت کا ضیاع اور ذہنی اذیت کے سوا کچھ نہیں۔
ہمارے بعض سنی دانشور جو مسلسل پانچ ماہ تک خمینی کے ایران اور اس کے پاسدارانِ انقلاب کو حق و صداقت کا علمبردار بنا کر پیش کرتے رہے، عاشورۂ محرم آتے ہی سانحۂ کربلا کو افسانہ قرار دینے لگے اور اسے مجوسیوں کی گھڑی ہوئی داستان کہنے لگے۔ جب مسلک کا معاملہ درپیش ہو تو ہم یزید جیسے حکمران کے دفاع اور امام حسین علیہ السلام کو غلط ثابت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
دوسری جانب جو اہل تشیع چودہ سو سالوں سے شہدائے کربلا کا ماتم کرتے آ رہے ہیں، ان کو اقتدار ملا تو وہ اپنے وقت کے یزید بن گئے۔ خمینی اور اس کے پاسداران نے اپنے عوام سے وہی کیا جو یزید اور بنو امیہ کے دیگر بادشاہ کرتے رہے۔
سنی اور شیعہ دونوں مکاتب فکر کے مولویوں کی اکثریت کا حق اور سچ سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ اصل مقصد صرف دکانداری چمکانا ہے۔ ایک طبقہ شہدائے کربلا کی مظلومیت کا رونا روک کر اپنا روزگار چلا رہا ہے۔ دوسری جانب اہل سنت کی اکثریت یزید سے لے کر پاسداران انقلاب تک ہر ظالم کا دفاع اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں یہی چورن بک رہا ہے۔
سنیوں کے ایک فرقے کا موقف ہے کہ واقعۂ کربلا حقیقت نہیں بلکہ افسانہ ہے۔ تو پھر امام حسین علیہ السلام کب اور کہاں اپنی طبعی موت فوت ہوئے؟ سنیوں کی کتابوں میں کہیں تو اس کا ذکر ہوگا؟ اس کے بعد طارق جمیل جیسے مولوی مارکیٹ میں نیا چورن لے کر آ گئے کہ ہاں واقعی کربلا میں بڑا ظلم ہوا، لیکن یزید کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا، کیونکہ اس نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔
یعنی دریائے فرات کے کنارے پیاس سے مرے ہوئے کتے کا ذمہ دار تو حکمران وقت ہے، لیکن اسی دریائے فرات کے کنارے رسول اللہ کا خاندان بے دردی سے قتل ہوا، مگر حکمران وقت بے قصور ہے۔ پھر یزید کو اتنا دکھ ہوا کہ اس نے ابن زیاد کو عہدے سے برطرف کرنا تک گوارا نہ کیا۔ مشہور سنی مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں:
"عبیداللہ بن زیاد کو برا بھلا کہا اور اس پر لعنت بھیجی… لیکن نہ تو اسے معزول کیا اور نہ ہی اس کے پاس ناراضگی کا خط لکھا۔"
واقعۂ کربلا ایک تاریخی سانحہ ہے۔ حرمت صحابہ کے نام پر اس کے گنوانے کرداروں کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ ویسے بھی دیوبندیوں نے ساری زندگی دفاعِ سپاہ صحابہ کے نام پر امت کو بیوقوف بنایا، ہزاروں انسانوں کا خون بہایا، لیکن درحقیقت ان کو حرمت صحابہ سے کوئی سروکار نہیں۔ ورنہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اکثر ساتھی اہل بیت کے ساتھ ساتھ صحابی رسول بھی تو تھے۔ لیکن امیر معاویہ رضی اور یزید کے مقابلے میں حضرت علی علیہ السلام اور امام حسن و حسین علیہ السلام کا ذکر جس انداز سے ہوتا ہے، وہ توہین سے بھی بڑھ کر ہے۔
توہین صحابہ پر مخالفین کو کافر ڈیکلیئر کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر بڑی بڑی محترم ہستیاں اس کی ضد میں آئیں گی۔ اور یہ سب کچھ اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے۔
تاریخ طبری کے مطابق 41 ہجری میں معاویہ بن ابی سفیان نے مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ معاویہ نے انہیں بلایا اور حمد و ثنا کے بعد کہا:
"علی کی شتم و مذمت سے باز نہ رہو، عثمان پر رحم و مغفرت کی دعا کرو، علی کے اصحاب کی عیب جوئی کرو، انہیں دور رکھو اور ان کی بات نہ سنو، جبکہ عثمان کے حامیوں کی تعریف کرو، انہیں قریب رکھو اور ان کی بات سنو۔"
(تاریخ الطبری، جلد 4، ص 188 کے قریب؛ انگریزی ترجمہ، جلد 18)
اس کے نتیجے میں مغیرہ نے کوفہ میں خطباء مقرر کیے جو منبروں پر علی بن ابی طالب کی تنقیص، سب و شتم کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد اور طبری کی روایات میں سعید بن زید کا احتجاج بھی ذکر ہے کہ مغیرہ نے ایسے خطباء مقرر کیے جو علی پر لعن کرتے تھے)۔
ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں کہ
"معاویہؓ کے دور میں ان کے گورنروں نے منبروں پر علیؓ پر سب کیا۔ یہ عمل اتنا عام ہوا کہ مسجد نبویؐ کے منبر پر بھی کیا جاتا تھا، جہاں علیؓ کے اہل خانہ موجود تھے۔"
(جلد 8، ص 259؛ جلد 9، ص 80)
اسی طرح ابن اثیر الکامل فی التاریخ کے مطابق
حضرت حسن بن علی رضی اللہ اور معاویہ رضی اللہ کے درمیان 41 ہجری میں صلح کا معاہدہ طے پایا، جس کا بنیادی مقصد امتِ مسلمہ کے درمیان خونریزی کو روکنا تھا۔ اس صلح کے بعد حضرت حسن نے کوفہ میں ایک خطبہ دیا اور لوگوں سے امیر معاویہ کی بیعت کرنے کو کہا، اور یوں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ اس معاہدے کی دو بنیادی شرائط یہ تھیں:
ایک یہ کہ امیر معاویہ کو اپنے بعد کسی کو بھی اپنا جانشین نامزد کرنے کا حق نہیں ہوگا، بلکہ امتِ مسلمہ کو خود خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
دوسرا یہ کہ منبر و محراب سے حضرت علیؓ پر سب و شتم نہیں کیا جائے گا۔
لیکن معاویہؓ نے معاہدے کی دیگر شرائط کے ساتھ اس شرط پر بھی عمل نہیں کیا اور بعد کے دور میں حضرت علیؓ پر اعلانیہ سب و شتم کا رواج برقرار رہا۔
(الکامل فی التاریخ، جلد 3، ص 234)
یہ سلسلہ تقریباً 60 سال تک — معاویہ کے دور سے لے کر سلیمان بن عبدالملک تک — جاری رہا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے ختم کر دیا۔ انہوں نے گورنروں کو حکم نامے بھیجے کہ منبروں پر علی پر سب و لعنت بند کر دی جائے، اور اس کی جگہ قرآن کی آیات (جیسے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ…) پڑھی جائیں۔ اس کے بعد یہ عمل ختم ہو گیا۔
(ابو الفدا، طبری اور دیگر مورخین)
جب بنو امیہ کے اس شرمناک کردار کا دفاع ناممکن ہو جاتا ہے تو پھر پوری تاریخ کو ہی یہ کہہ کر جھٹلا دیا جاتا ہے کہ یہ ساری تاریخ بنو عباس کے دور میں لکھی گئی تھی، ورنہ اس سے پہلے کی کتب میں اس کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ جہاں عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ کو شہید کر کے ان کی لاش خانہ کعبہ میں تین دن تک لٹکائی گئی، ایسے دور میں کون سا مورخ سچ لکھنے کی جرات کرتا؟ ویسے بخاری اور مسلم شریف بھی تو بنو عباس کے دور میں لکھی گئیں، لیکن انہیں تو ہم نے قرآن کے بعد مقدس کتابوں کا درجہ دے رکھا ہے۔ مطلب، جہاں ہمارا مسلک موقف زد میں آئے، پوری تاریخ جھوٹی ہے۔
قصہ مختصر، امام حسین علیہ السلام تا قیامت حق، سچ اور عزمیت جبکہ یزید جبر، ظلم اور بربریت کا استعارہ رہیں گے ، اور اس حقیقت کو جھٹلانے والے تاریخ کے کوڑے دان میں رہیں گے ۔
نوٹ : یہ تحریر اہل بیت اور شہدائے کربلا کا مجھ پر قرض تھا ، جس جس نے گالیاں دینی ہیں بیشک دیتے رہیں ، مجھے خوشی ہوگی ۔
واپس کریں