دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران کو معلوم ہے کہ اسرائیل کیا سلوک کرے گا۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
فروری سے جاری اس جنگ کے حوالے سے اسرائیل میں "40، 40، 40" کا ایک جملہ مشہور ہو گیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ جنگ کے پہلے 40 سیکنڈ میں 40 بموں کے ذریعے ایران کے 40 اعلیٰ عہدیداروں کو ہلاک کر دیا گیا۔
عام طور پر روایتی جنگوں میں عام شہری یا سپاہی مارے جاتے ہیں، مگر اس جنگ میں اعلیٰ قیادت کا صفایا کر دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ملٹری کے نصاب میں اس جنگ کو بھی ایک خاص حوالے سے پڑھایا جائے گا — کہ ایک لاکھ فضائی حملوں میں پانچ ہزار افراد بھی ہلاک نہیں ہوئے۔
گزشتہ ایک ہفتے کی لڑائی میں امریکہ نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت فوجی تنصیبات کے علاوہ سڑکوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔
سب سے پہلے اُس نے شمال میں صوبہ گلستان کے مقام پر واقع آقتقہ خان ریلوے پل کو تباہ کر دیا، جو گرگان–اینچہ برون ریلوے لائن پر واقع ہے۔ اس راستے کے ذریعے ایران کا ریلوے نظام ترکمانستان، قازقستان، روس، چین اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک سے منسلک ہوتا ہے۔
اس نیٹ ورک کی ایک شاخ چین سے شروع ہوتی ہے اور قازقستان و ترکمانستان سے گزرتے ہوئے اینچہ برون سرحد کے راستے ایران میں داخل ہوتی ہے۔ ایرانی ریلوے حکام کے مطابق گزشتہ سال کم از کم 65 مال بردار ٹرینیں چین سے ایران پہنچیں۔
سمندری ناکہ بندی کی صورت میں یہ راستہ ایرانی معیشت اور دفاع کے لیے ایک وینٹی لیٹر کا کام کرتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی ساحلی پٹی کو باقی ایران سے کاٹا جا رہا ہے، جس کے بعد ایران کی سمندری تجارت بند ہو جائے گی اور ہرمز پر کنٹرول بھی ختم ہو جائے گا۔
بندر عباس کو لار سے ملانے والا بندر خمیر پل اور بندر عباس کو شیراز سے ملانے والا کہورستان پل تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح بھارتی سرمایہ کاری سے تعمیر شدہ بندر عباس پورٹ بھی بمباری کے باعث ناقابلِ استعمال ہو چکی ہے۔
بوشہر، قشم اور اہواز کی بھی یہی صورت حال ہے۔
صرف کل رات جنوبی ایران کو جوڑنے والے پانچ پلوں اور ٹنلز کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ وہ بنیادی راستے تھے جو آبنائے ہرمز کے کنارے واقع اہم بندرگاہوں کو ایران کے اندرونی علاقوں سے جوڑتے ہیں، تاکہ رسد کی لائنوں کو مفلوج کیا جا سکے اور صوبہ ہرمزگان کو ملک کے مرکز سے الگ تھلگ کر دیا جائے۔
بنیادی مقصد ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں کو تہران سے کاٹ دینا اور ایران کی اپنی سرحدی علاقوں اور مرکزی حصے کے درمیان رسد اور افواج کی نقل و حرکت کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
اسی طرح چاہ بہار اور بندر عباس کے مواصلاتی ٹاورز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ ٹاورز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نگرانی اور اُنہیں نشانہ بنانے کے لیے کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہے تھے۔
اب حملوں کا رخ مغربی ایران کے دورافتادہ علاقے کردستان کی طرف بھی ہو گیا ہے، جہاں سڑکوں کے نیٹ ورک اور پاسداران کے مراکز پر شدید بمباری ہو رہی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ نہ تو ایران اپنے عراقی اور لبنانی ملیشیاؤں کی مدد کر سکے گا اور نہ ہی وہ ایران کی مدد کو آ سکیں گے۔
دو دن قبل شام نے ایران سے لبنان جانے والے اسلحے کی ایک بڑی کھیپ پکڑی ہے، جسے آئل ٹینکرز میں چھپایا گیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ خمینی کے پاکستانی پیروکار صدر جولانی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اب ایرانی میڈیا خود بتا رہا ہے کہ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تباہی سے لگتا ہے کہ امریکہ جنوبی ایران میں زمینی فوج اتار رہا ہے۔
عراقچی کہتا ہے کہ امریکہ کی انفراسٹرکچر پر بمباری جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے، مگر اس منافق سے کون پوچھے کہ سعودی اور قطری سویلین طیاروں، قطر اور امارات کے انرجی سنٹروں اور کویت میں پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنانا کس زمرے میں آتا ہے؟
کل رات ایران نے سعودی عرب کو بھی بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ اب پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان ہے، کیونکہ دو دن قبل پاکستان نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور اس پر کسی قسم کا حملہ — خواہ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں — ناقابلِ قبول ہوگا۔
دو دن قبل اسرائیلی میڈیا میں خبر آئی کہ بن گوریان ایئرپورٹ پر اتنے امریکی طیارے کھڑے ہیں کہ اسرائیلی جہازوں کے لیے جگہ کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
اور آج ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع کے پیشِ نظر امریکہ مزید درجنوں ری فیولنگ ٹینکر طیارے بھیج رہا ہے، کیونکہ امریکیوں کے خیال میں اس وقت یہ خطے میں محفوظ ترین جگہ ہے۔
جس وقت میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، خلیج کے اوپر 11 ری فیولنگ طیارے پرواز کر رہے ہیں۔
اس سب کے باوجود ایران پڑوسی عرب ممالک پر مسلسل بمباری کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کو تکلیف نہیں دے رہا، کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ اسرائیل کیا سلوک کرے گا۔
واپس کریں