دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
’دیوانِ مغرب‘ West-östlicher Divan
طاہر سواتی
طاہر سواتی
گوئٹے جرمن زبان کا سب سے عظیم شاعر، ڈراما نگار، ناول نگار اور فلسفی تھا۔ مختصراً وہ جرمن زبان و ادب کا شیکسپیئر تھا۔ گوئٹے 27 اگست 1749ء کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک امیر اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد وکیل تھے جبکہ نانا شہر کے میئر تھے۔
چھبیس سال کی عمر میں ڈیوک آف ڈیمر نے انہیں اپنے دربار میں وزیر بنا دیا، جس کے بعد انہوں نے بڑے عیش و آرام سے زندگی بسر کی۔
1814ء میں انہوں نے دیوانِ حافظ کا جرمن زبان میں ترجمہ پڑھا، جس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ رومی اور حافظ شیرازی کو پڑھ کر انہیں اسلام اور مشرق سے بے حد دلچسپی پیدا ہوئی، اسی لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی اور زرتشتیت اور اسلام کا وسیع مطالعہ کیا۔
دیوانِ حافظ سے متاثر ہو کر انہوں نے معرکۃ الآرا کتاب ’دیوانِ مغرب‘ (West-östlicher Divan) لکھی۔
اقبال گوئٹے سے بہت متاثر تھے۔ اس نے دیوانِ مغرب کے جواب میں اپنی مشہور کتاب "پیامِ مشرق" لکھ ڈالی۔
اسی کتاب میں اپنے نظم "غالب" میں اقبال نے گوئٹے کو یوں یاد کیا ہے:
"آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے"
گویٹے نے اپنی کتاب "دیوانِ مغرب" میں رسول اللہ ﷺ پر "نغمۂ محمدی" کے نام سے ایک مشہور نظم لکھی ہے، جس میں آپ ﷺ کے لیے ایک چشمۂ رواں کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے، جو دھیرے دھیرے ایک عظیم دریا کی شکل اختیار کرتا دکھایا گیا ہے۔
اقبال نے گوئٹے کی نظم "Mohamet's Gesang" کا آزاد ترجمہ بعنوان "جوئے آب" کیا ہے۔
آج بارہ ربیع الاول ہے، "جوئے آب" پڑھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ مغرب نے اس کے بعد ہزاروں گوئٹے پیدا کیے، جو رواداری، بین المذاہب مکالمے اور انسانی عظمت پر یقین رکھتے ہیں،
لیکن ہم جو "رحمۃ اللعالمین" کے پیروکار ہیں، ہم نے پھر کوئی رومی و شیرازی کیوں پیدا نہیں کیا؟
ہمارے ہاں خمینی، خامنہ ای، ہیبت اللہ اور خادم رضوی جیسے خونی جنونی ہی کیوں جنم لیتے ہیں؟
عید میلادالنبی کی مناسب سے “ جوئے آب “ اور اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
نغمہِ محمدی
شاعر : جان وولف وین گوئتے
اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی
وہ پاکیزہ چشمہ
جو اوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا
سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے
چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا
چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے
وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے
آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے
بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا
بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں
پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے
جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا
اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی
یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ
اُس ﷺ کی منزل نہ تھی
وہ تو بڑھتا گیا
کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار
اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا
اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے
خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔
سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر
جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے
شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے
راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو
کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے
راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے
یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں
آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں
ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے
جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے
اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے
اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے
گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں
آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں
وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے
ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے
شہر آتے رہے شہر جاتے رہے
اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے
اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی
ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی
قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے
کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے
شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں
عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں
اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں
از زمیں تا فلک
از فلک تا زمیں
از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں
دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ
فیض یاب اس سے کل
اور خود کل سے بے واسطہ
واپس کریں