دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خمینی کے پیروکار بشار الاسد کے سنہری دور کی ایک جھلک۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
یہ 2019 کی بات ہے، جب شامی فوج کے ایک ٹیکنیشن کو ایک لیپ ٹاپ ٹھیک کرنے کے لیے دیا گیا۔ لیپ ٹاپ کو کھولنے کے بعد، ٹیکنیشن کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، کیونکہ اس نے اس میں انسانی قتل عام کی 27 غیر ایڈیٹ شدہ ویڈیوز موجود دیکھیں۔
یہ لیپ ٹاپ شام کی ملٹری انٹیلی جنس کی برانچ 227 کا تھا، جہاں امجد یوسف بطور وارنٹ افسر خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ ویڈیوز خود امجد یوسف نے 2013 میں بنائی تھیں، جو دراصل دمشق کے مضافاتی قصبے التضامن میں 41 عام شہریوں کی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹیاں ہیں، ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔ وہ انہیں ایک ٹائروں سے بھرے گڑھے میں دھکیلتا ہے، پھر ان پر گولیوں کی بونچھاڑ کر دیتا ہے، اور آخر میں پورے گڑھے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتا رہا۔
یوسف لوگوں کو پھنسانے کے لیے کہتا تھا: "اسنائپر سے بچنے کے لیے اس طرف بھاگو"، اور یوں وہ انہیں سیدھا اپنی گولیوں کی زد میں لے آتا تھا۔
تحقیقات میں ثابت ہوا کہ اس نے ایک دن میں 288 بےگناہ لوگوں کو قتل کیا، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ بعد میں اس نے خود اعتراف کیا: "میں نے بہت لوگوں کو مارا،" "میں نے بدلہ لیا،" "مجھے اپنے کیے پر فخر ہے۔"
اس ٹیکنیشن نے یہ 27 ویڈیوز پیرس میں موجود ایک شامی دوست کو بھجوائیں۔ اس شامی نے ویڈیوز کو یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے پروفیسر اُغور اُمِت اُنگور تک پہنچا دیا۔ پروفیسر اُنگور اور خاتون پروفیسر انصار شاہ ہود نے دو برس تک ان ویڈیوز کی صداقت جانچنے میں لگا دیے۔ اس دوران انہوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کی جیو لوکیشن، اوپن سورس کے ذریعے تحقیقات اور پھر زندہ بچ جانے والوں اور خود مجرموں کے انٹرویوز لیے۔ یہاں تک کہ انصار شہود نے فیس بک پر "اینا" کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بنائی، خود کو بشار الاسد کا حامی ظاہر کیا، اور یوسف سے خفیہ طور پر بات بھی کی۔
ویڈیو لیک کرنے والے ٹیکنیشن کی کہانی اور بھی دلچسپ ہے۔ وہ اپنی جان بچا کر دمشق سے حلب بھاگا، جہاں اس نے شامی فوج کے 4th ڈویژن کے ایک کرنل کو 1500 ڈالر رشوت دی، اور پھر نو مینز لینڈ عبور کر کے اپوزیشن کے علاقے میں داخل ہوا۔ سرحد پار کرنے میں ایک دن کی تاخیر ہوئی، کیونکہ اسی کرنل کی یونٹ اسی راستے سے منشیات کی غیر قانونی کھیپ منتقل کر رہی تھی۔ بالآخر وہ وہاں سے ترکی اور پھر یورپ پہنچ گیا۔
اس کے شام سے بحفاظت نکلنے کے بعد، فروری 2022 میں ان ویڈیوز کے مکمل شواہد نیدرلینڈز، جرمنی اور فرانس کے پراسیکیوٹرز کے حوالے کیے گئے۔ اپریل 2022 میں گارڈین اور نیو لائنز میگزین نے یہ ویڈیوز شائع کیں۔
امجد یوسف قاسم سلیمانی کا دست راست تھا اور بڑے فخر سے اس قسم کی کارروائیوں کی ویڈیوز بنا کر انعامات وصول کرتا رہا۔ بہت جلدی ترقی کرتا ہوا میجر کے عہدے تک پہنچا۔
دسمبر 2024 میں اسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد یوسف روپوش ہو گیا، مگر دو دن قبل 24 اپریل 2026 کو اسے حما کے الغاب میدان میں تلاش کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ شامی وزیر نے گرفتاری کے بعد اسے اس کے مظالم کی ویڈیوز دکھائیں۔
بیشک آج خمینی کے پیروکاروں کے نزدیک شام میں اسرائیل اور امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے، لیکن یہ قصائی بشار اسد سے ہزار درجہ بہتر ہے، جہاں امجد یوسف جیسے درندوں کے ساتھ بھی قانون کے مطابق ڈیل کیا جا رہا ہے۔
بشار الاسد اور اس کے ظالم باپ حافظ الاسد کا 54 سالہ دورِ حکومت شامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے،
شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق (SNHR) کے دستاویزات کے مطابق بشار الاسد نے 2010سے لیکر 2024 تک 14 برسوں میں دو لاکھ شامی شہریوں کو بیدردی سے قتل کیا ، جن میں 23 ہزار کے قریب بچے اور 12 ہزار کے قریب خواتین شامل ہیں ۔
آجُ امریکہ ایران جنگ میں 16 سو ہلاکتوں پر ماتم کرنے والے ان دو لاکھ انسانوں کے قتل عام پر خاموش ہیں ۔ان مظالم میں خمینی اور خامنہ ای اپنے پورے ریاستی مشینری کے ساتھ شریک رہے۔
ہیلی کاپٹر حادثے میں مرنے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جو خامنائی کے طاقتور ترین جانشین شمار ہوتے تھے وہ بڑے فخر سے کہتے تھے ،
“ ہمیں اپنے کاموں پر فخر ہے ، ہم نے جو کچھ شام میں کیا اس پر فخر ہے ، جو کچھ عراق میں کیا اس پر فخر ہے جو کچھ لبنان میں کیا اس پر فخر ہے “
تو یہ تھے ان کے فخریہ کارنامے ،
اب وہ کسی کے لیے آیت اللہ ہوں گے، سپریم لیڈر ہوں گے، معصوم الخطا ہوں گے، میرے نزدیک یہ تنگ نظر متعصّب فرقہ پرست ملا تھے جن کے ہاتھوں لاکھوں شامی ،لبنانی، عراقی اور ایرانی مسلمانوں کا خون ہے۔
خمینی کے پیروکار جس بشار الاسد کے سنہری دور پر بڑا فخر کرتے ہیں، یہ اس کی ایک جھلک ہے۔
سال 2017 میں میرے پڑوس میں ایک شامی ڈینٹل سرجن آیا۔ اس نے مجھے جو دل ہلا دینے والی داستانیں سنائیں، وہ ناقابلِ بیان ہیں۔ وہ 2016 میں حلب کے قتلِ عام کا چشمِ دید گواہ تھا، یہ قتلِ عام روسی، شامی افواج، پاسدارانِ انقلاب ایران اور حزب اللہ نے مل کر کیا تھا۔
ابھی تو میں نے سیزر کی داستان پر لکھنا ہے۔
واپس کریں