طاہر سواتی
ہمارے ہاں ایک بڑی اکثریت کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ ایران میں رجیم تبدیلی کے نتیجے میں اسرائیل نواز حکومت آ سکتی ہے۔ یوں ہمارا مغربی سرحد مکمل طور پر غیرمحفوظ ہو جائے گا۔ ہماری ریاستی پالیسی بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔
حالانکہ 78 سالہ تاریخ نے ہمارے خوف کے سائے میں پلنے والی اس قسم کی خارجہ پالیسی کو ہمیشہ غلط ثابت کیا ہے۔
صرف سوویت یونین کو گرم پانیوں سے روکنے کے خوف سے ہم نے سرد جنگ میں امریکہ کو اڈے دیے، افغان جہاد میں فرنٹ لائن پر لڑ کر اپنے ملک کو کھنڈر بنا دیا۔ پھر بیس برس تک امریکہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے، افغانستان میں جمہوری نظام کو مضبوط نہیں ہونے دیا، اور آخرکار اپنے لاڈلوں کو اقتدار میں لا کر ہی سکون ملا۔ صرف اس ایک مقصد کے تحت کہ
"ہمارا مغربی سرحد محفوظ رہے گا۔"
لیکن سب کچھ الٹ پڑا۔ آج اسی افغان طالبان سے ہمارا کوئی علاقہ محفوظ نہیں، نہ ہی وہ ڈیورنڈ لائن کو مانتے ہیں۔ کل "یومِ بنیانِ المرصوص" منانے کے موقع پر انہوں نے بنوں میں ایک پولیس اسٹیشن پر بڑا حملہ کرکے ہمیں سرپرائز دیا۔
دوسری طرف جس شمالی اتحاد کو ہم ہمیشہ دشمن سمجھتے رہے، آج کل وہ ہر جگہ پاکستان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیڈر علی الاعلان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہیں۔
اسرائیل ایران پر براہِ راست قبضہ نہیں کر سکتا۔ باقی مودی سے بڑھ کر اسرائیل نواز کون آ سکتا ہے؟ اگر وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو کوئی افغانی یا ایرانی کیا کر لے گا؟
اسرائیل کی مصر کے ساتھ 208 کلومیٹر کی سرحد لگتی ہے۔ 1979 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد کوئی جنگ نہیں ہوئی، نہ ہی مصر کے اندر اسرائیل نے کوئی پراکسی چلائی۔
اسی طرح اسرائیل کی اردن کے ساتھ 307 کلومیٹر کی سرحد ہے، جسے 1994 کے امن معاہدے کے بعد ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا گیا۔ نتیجے میں اسرائیل نے اردن کا 380 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس کر دیا، دریائے اردن اور یرموک کے پانی کا مسئلہ حل ہو گیا اور اس کے بعد دونوں ممالک سکون سے رہ رہے ہیں۔
مغربی کنارے کے ساتھ اسرائیل کی 330 کلومیٹر سرحد لگتی ہے۔ 5,640 مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں فلسطینی اتھارٹی کی محدود حکومت قائم ہے، جہاں 30 لاکھ فلسطینی اور 6 لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہاں اسرائیلی آبادکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے علاوہ حالات عمومی طور پر پرسکون رہتے ہیں (آبادکاروں کی ایک الگ کہانی ہے)۔
دوسری طرف اسرائیل کی لبنان کے ساتھ 81 کلومیٹر، شام کے ساتھ 83، اور غزہ کے ساتھ صرف 59 کلومیٹر کی سرحد لگتی ہے، لیکن ان چھوٹی سرحدوں پر آئے روز جھڑپیں لگی رہتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ شام، لبنان اور غزہ میں "معصوم اور بےگناہ" پاسدارانِ انقلاب کی بےجا مداخلت ہے۔ لیکن جن کے ساتھ بڑی سرحدیں ہیں، وہاں سکون ہے۔
اب آپ ایمانداری سے بتائیں کہ مسئلہ کہاں ہے؟
اسرائیل کو چھوڑیں، خمینی انقلاب کے بعد ایران پڑوسی مسلمان ممالک کے ساتھ کتنا امن و شانتی سے رہ رہا ہے؟
خمینی انقلاب نے سب سے پہلے اپنے لوگوں کو نگلنا شروع کیا۔ خمینی نے 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے تین وزرائے اعظم، فوجی سربراہان سمیت سینکڑوں اعلیٰ عہدیداروں اور کئی اہم سیاسی رہنماؤں کو قتل کر ڈالا۔
7 اپریل 1979 کو سابق وزیر اعظم عامر عباس حسین کو سرِ عام گولیوں سے اڑا دیا گیا۔
شاہِ ایران دور کے آخری وزیرِ اعظم شاپور بختیار، جو انقلاب کے بعد فرانس میں جلاوطن زندگی گزار رہے تھے، کو ایرانی انٹیلیجنس نے خامنائی کے حکم پر 1991 میں پیرس میں اُن کے گھر میں قتل کر دیا۔
انقلاب کے بعد ایران کے پہلے صدر ابوالحسن بنیصدر، جون 1981 میں جان بچا کر پیرس بھاگ گئے اور وہاں سیاسی پناہ لے لی۔
سب سے پہلے عراق کو انقلاب کی برآم شروع ہوئی۔
اس سلسلے میں شمالی عراق میں علیحدگی پسند کردوں اور شیعہ گروپوں، خاص طور پر دعوہ پارٹی کی حمایت شروع کی گئی تاکہ سیکولر بعثی پارٹی کی حکومت ختم کر کے اس کی جگہ اپنا مسلکی انقلاب لایا جائے۔ یہاں تک کہ اپریل 1980 میں وزیرِ خارجہ طارق عزیز پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔ بالآخر جب بغداد نے تہران کی تخریبی کوششوں کو روکنے کی کوشش کی تو ایران عراق جنگ شروع ہوگئی۔
شام میں سنی عوام پر مسلط اقلیتی نصیری فرقے کے مظالم میں ایران نے بھرپور ساتھ دینا شروع کیا، جو بشار الاسد حکومت کے خاتمے تک جاری رہا۔
پاکستان میں عارف الحسینی جیسے مولوی پیدا کئے ، زینبیون، فاطمیون، ناصریون، مختار فورس جیسے دھشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کی۔
خمینی نے حج کو سیاسی اکھاڑا بنایا، حاجیوں سے حرم میں پلے کارڈ/بینر لگوائے، آل سعود کو "مثل یہود" کہا، نمر جیسے دہشت گردوں کے ذریعے مشرقی سعودی عرب میں علیحدگی کی سازش کی۔
لبنان میں حزب اللہ مسلط کی، بحرین، یمن، سعودی عرب اور کویت میں فرقہ وارانہ فسادات کروائے۔
"انقلاب برآمدگی" کی یہ داستان بڑی طویل ہے۔
ابھی حال ہی میں الجزائر کی حکومت نے ایرانی سفیر محمد رضا بابائی کو اندرونِ ملک مداخلت کی بنا پر ملک بدر کر دیا، حالانکہ ان کی مدتِ ملازمت میں ابھی دو سال باقی تھے۔ اس سے قبل الجزائر 2018 میں ایران کے کلچرل اٹاشی امیر موسوی کو نکال چکا ہے، کیونکہ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق وہ پاسدارانِ انقلاب کا حاضر سروس بریگیڈیئر جنرل تھا، جو ہزاروں شیعہ جنگجو بھرتی کر رہا تھا۔
29 مارچ 2026 کو لبنان نے ایرانی سفیر محمد رضا شیبانی کو "ناپسندیدہ شخصیت" قرار دے کر 72 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
اگست 2025 کو آسٹریلیا نے ایرانی سفیر احمد صادقی کو یہودی مخالف کرائیوں کے الزام میں 7 دن میں ملک بدر کر دیا۔
4 مارچ 2026 کو قطر نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے کام کرنے والے 10 رکنی نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد 18 مارچ کو قطر نے ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔
دو دن قبل بحرین نے پاسدارانِ انقلاب کے لیے کام کرنے والے 41 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسی طرح کویت اور امارات نے بڑے پیمانے پر ایران کے نیٹ ورک پکڑے ہیں۔
ابھی کل کی خبر ہے کہ پاسدارانِ کے القدس برگیڈ کے کمانڈر اسماعیل قانی بغداد میں بیٹھے ہیں، جہاں سے وہ شیعہ ملیشیاوں کے ذریعے عرب ممالک پر حملوں کی کمان کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی حکومت ایسے حملوں میں اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتی ہے۔
پاکستان میں شیعہ تنظیموں کی سرپرستی ہو، کھلبوشن نیٹ ورک ہو، یا بی ایل اے کے دہشت گرد، پاسداران کی مداخلت ہر سطح پر جاری ہے۔
اب پاکستان کے خلاف وہ کون سا اقدام ہے جو موجودہ رجیم کے جانے کے بعد کوئی اسرائیل نواز حکومت آ کر کرے گی؟
واپس کریں