دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
داتا دربار کے مالی معاملات کا بھونچال
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
لاہور کا داتا دربار صرف ایک مزار نہیں بلکہ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کا روحانی مرکز ہے، جہاں ہر روز ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ زائرین کی جانب سے دیے جانے والے نذرانے اور عطیات اس دربار کے بڑے مالی وسائل میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داتا دربار کے مالی معاملات ہمیشہ عوامی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں داتا دربار کے چندہ بکسوں، آمدن کے ریکارڈ اور انتظامی معاملات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد محکمہ اوقاف پنجاب نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ تحقیقات کے دوران مختلف افسران اور ملازمین کے کردار کا جائزہ لیا گیا اور بعض افراد کے خلاف محکمانہ کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔
اس معاملے میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا نام داتا دربار کے سابق خطیب مفتی محمد رمضان سیالوی کا ہے۔ مفتی رمضان سیالوی طویل عرصے تک داتا دربار میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے اور مذہبی حلقوں میں ایک معروف شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد مختلف سوالات اٹھے کہ آیا یہ کارروائی داتا دربار کے کیش بکس معاملے سے براہ راست متعلق تھی یا کسی دوسرے انتظامی معاملے کا نتیجہ۔
دستیاب معلومات کے مطابق مفتی رمضان سیالوی کو براہ راست چندہ بکس چوری یا کیش باکس سے رقم غائب ہونے کے کسی مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کے حوالے سے ایک الگ معاملہ سامنے آیا جس میں مبینہ طور پر ایک شخص سے بیرون ملک دورے کے نام پر تقریباً 26 لاکھ روپے وصول کرنے کے الزام پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا ذکر کیا گیا۔ یہ ایک الزام تھا اور کسی بھی الزام کی حتمی حیثیت تحقیقات مکمل ہونے اور قانونی کارروائی کے بعد ہی طے ہو سکتی ہے۔
داتا دربار کے مالی معاملات میں سامنے آنے والی کارروائی صرف مفتی رمضان سیالوی تک محدود نہیں رہی بلکہ محکمہ اوقاف کے متعدد انتظامی اہلکار بھی اس کی زد میں آئے۔
رپورٹس کے مطابق سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کے خلاف مالی معاملات میں محکمانہ کارروائی کی گئی۔ ان پر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے تقریباً 92 لاکھ روپے کی ریکوری اور محکمانہ سزا کا معاملہ سامنے آیا۔
اسی طرح سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کے معاملے میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم کی ریکوری کا ذکر کیا گیا اور محکمہ کی جانب سے سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سابق سٹینوگرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کا نام بھی محکمانہ کارروائیوں میں سامنے آیا۔ ان کے خلاف بھی قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔
اس سے قبل داتا دربار میں کیش بکسوں سے مبینہ رقوم غائب ہونے کے واقعات میں نچلے درجے کے بعض ملازمین کے نام بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ مختلف اوقات میں چند اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور تحقیقات کی گئیں، جن میں رشید، سلامت، حیدر، شریف اور خالد محمود کے نام رپورٹ ہوئے۔
داتا دربار کا یہ معاملہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ پاکستان کے بڑے مزارات پر آنے والی خطیر رقم کی نگرانی کا نظام کتنا مؤثر ہے۔ زائرین کی طرف سے دی جانے والی رقم دراصل مذہبی عقیدت کی بنیاد پر ایک امانت ہوتی ہے، اس لیے اس کے حساب کتاب میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کو صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تحقیقات کا مقصد حقائق تک پہنچنا اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی جگہ مالی بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داری صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے نگرانی کے نظام کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
داتا دربار کا حالیہ معاملہ صرف ایک مزار کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں اوقاف کے زیر انتظام تمام بڑے مذہبی مقامات کے مالی نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چندہ، عطیات اور نذرانوں کے نظام کو جدید طریقوں سے محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر قابل احتساب بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
واپس کریں