دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
34 کھرب کا ہیر پھیر اور پی ٹی آئی کی بہتی گنگا
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کے مالی معاملات پر ایک بار پھر بڑے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک اہم دستاویز نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وفاق سے صوبے کو ملنے والے 34 کھرب 88 ارب روپے سے زائد فنڈز کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اپوزیشن ارکان نے اربوں روپے کی اس فراہمی کے باوجود عوامی زندگی میں بہتری نہ آنے اور مختلف منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دستاویز کے مطابق سال 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا کو وفاق کی جانب سے مجموعی طور پر 3 ہزار 488 ارب 67 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ ان میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 ہزار 114 ارب 45 کروڑ روپے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 374 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے شامل تھے۔
ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ رقم مالی سال 2024-25 میں صوبے کو منتقل کی گئی، جب وفاق سے 1 ہزار 46 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری ہوئے۔ یہ خیبرپختونخوا کی تاریخ کی سب سے بڑی مالی فراہمیوں میں شامل ہے، لیکن اتنی بڑی رقم کے باوجود صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی صورتحال پر سوالات بدستور موجود ہیں۔
صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے ان فنڈز کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں شروع کیے گئے بعض فلاحی پروگرام اور منصوبے شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترے۔ ارکان نے خصوصاً احساس پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ غریب اور مستحق افراد کے نام پر آنے والی رقوم کی تقسیم کا طریقہ کار کیا تھا اور کیا واقعی یہ امداد اصل حقداروں تک پہنچی؟
اپوزیشن ارکان نے الزام لگایا کہ غریبوں کے نام پر مختص بعض رقوم سیاسی بنیادوں پر من پسند افراد اور پی ٹی آئی کارکنوں تک پہنچائی گئیں۔ ایوان میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر یہ عوامی پیسہ تھا تو اس کی مکمل تفصیلات، مستحقین کا ریکارڈ اور تقسیم کا نظام عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟
34 کھرب روپے کی اس خطیر رقم کے سامنے آنے کے بعد ماضی کے متنازع منصوبے بھی دوبارہ بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایوان میں بلین ٹری سونامی، ملم جبہ منصوبے اور کوہستان سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں میں سامنے آنے والے الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ قومی خزانے سے خرچ ہونے والی رقوم کہاں اور کیسے استعمال ہوئیں۔
بلین ٹری سونامی منصوبہ تحریک انصاف حکومت کا ایک نمایاں منصوبہ تھا، تاہم اس پر ماضی میں مختلف حلقوں کی جانب سے شفافیت اور مالی معاملات سے متعلق اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی طرح ملم جبہ اور کوہستان منصوبے بھی سیاسی بحث اور الزامات کا مرکز رہے ہیں۔
صوبائی اسمبلی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ مالیاتی تفصیلات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ مزید جانچ پڑتال کے لیے سوالات کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ اب کمیٹی کے سامنے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اربوں روپے کے اس پورے معاملے میں ریکارڈ، منصوبوں کی صورتحال، فنڈز کے استعمال اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے۔
اصل سوال یہی ہے کہ وفاق سے آنے والی 34 کھرب روپے سے زائد کی رقم نے خیبرپختونخوا کے عام شہری کی زندگی میں کتنی تبدیلی پیدا کی؟ اگر خزانے میں اتنی بڑی رقم آئی تو پھر عوامی مسائل کم کیوں نہ ہو سکے؟ اور اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو اس کے ذمہ دار کون ہیں؟
34 کھرب روپے کا یہ سوال اب صرف سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ عوامی وسائل کے حساب کتاب کا معاملہ بن چکا ہے۔ شفاف تحقیقات ہی فیصلہ کریں گی کہ یہ رقم واقعی عوامی فلاح پر خرچ ہوئی یا کہیں سیاسی مفادات کی نذر ہو گئی۔
واپس کریں