معذور افراد کی بحالی کے نام پر خریداری میں مبینہ گھپلا
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں معذور افراد کی بحالی کے لیے سلائی مشینوں کی خریداری کا معاملہ متنازع بن گیا ہے۔ خریداری کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کے پی پی آر اے قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات نے سرکاری نظام کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معذور افراد کے لیے سلائی مشینوں کی خریداری کے سلسلے میں ابتدائی ٹینڈر تقریباً 13 ہزار روپے فی مشین کے حساب سے کامیاب قرار دیا گیا، تاہم مبینہ طور پر مقررہ قانونی طریقۂ کار مکمل کیے بغیر اور پہلے ٹینڈر کو منسوخ کیے بغیر دوسرے نمبر پر آنے والے ٹھیکیدار سے تقریباً 29 ہزار روپے فی مشین کے حساب سے خریداری کی گئی۔
الزامات کے مطابق ایک ہی منصوبے میں فی مشین قیمت میں غیر معمولی فرق سامنے آیا، جس نے خریداری کے پورے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب کم قیمت پر ایک بولی کامیاب قرار دی جا چکی تھی تو پھر زیادہ قیمت پر خریداری کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟
دستیاب معلومات کے مطابق اگر خریداری کے تمام مراحل قواعد کے مطابق مکمل نہیں کیے گئے تو یہ معاملہ نہ صرف کے پی پی آر اے قوانین بلکہ سرکاری خریداری کے بنیادی اصولوں، جن میں شفافیت، مسابقت اور عوامی وسائل کا مؤثر استعمال شامل ہے، کے خلاف تصور کیا جا سکتا ہے۔
خصوصی افراد کی بحالی کے لیے مختص فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ یہ وسائل معاشرے کے ایک ایسے طبقے کے لیے مختص ہوتے ہیں جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ متاثرہ افراد کے لیے مختص سہولیات میں کسی بھی قسم کی مالی بے قاعدگی براہ راست ان کے حقوق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری خریداری میں قیمت، معیار اور طریقۂ کار کی مکمل جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اگر کسی منصوبے میں کم قیمت کے بجائے غیر معمولی طور پر زیادہ قیمت پر خریداری کی جائے تو اس کی وجوہات اور متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سلائی مشینوں کی خریداری کا عمل مکمل طور پر قواعد کے مطابق ہوا؟ کیا پہلے کامیاب ٹینڈر کو قانونی طریقے سے ختم کیا گیا؟ اور اگر قیمت میں اتنا نمایاں فرق تھا تو اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
سماجی حلقوں اور شہریوں نے خیبرپختونخوا حکومت، محکمہ اینٹی کرپشن اور متعلقہ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خریداری کے مکمل ریکارڈ، ٹینڈر دستاویزات، نرخوں کے تعین اور ادائیگیوں کی تفصیلات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی، اختیارات کے غلط استعمال یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ معاملہ صرف چند سلائی مشینوں کی خریداری کا نہیں بلکہ اس اعتماد کا ہے جو عوام ریاستی اداروں پر کرتے ہیں۔ شفاف تحقیقات ہی طے کریں گی کہ معذور افراد کے نام پر مختص وسائل واقعی مستحق افراد تک پہنچے یا نہیں۔
واپس کریں