دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عشقِ ایران میں مبتلا لبرل اور سیکولر دانشور
طاہر سواتی
طاہر سواتی
ایران نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایرانی سویلینز کے قتل عام پر کارروائی کی جائے۔
بہت اچھی بات ہے، نہتے سویلینز کا قتل عام سب سے بڑا جرم ہے۔ لیکن یہ جرم صرف امریکہ اور اسرائیل نے ہی نہیں کیا، جس نے اور جہاں بھی کیا ہے، اسے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
امریکہ اور اسرائیل نے چالیس روزہ جنگ میں 90 ہزار ٹارگٹ کو نشانہ بنایا، اس میں کل 3,600 اموات ہوئیں، جن میں سویلینز کی تعداد 1,600 ہے۔
جبکہ اس کے نصف (800) سویلین افراد تو حماس نے پہلے ہی وار میں بھون ڈالے تھے۔
جنوری 2026 میں ایران میں کیا ہوا؟
ٹائم میگزین لکھتا ہے:
"ایران کی وزارتِ صحت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے ٹائم کو بتایا کہ صرف 8 اور 9 جنوری کو ایران کی سڑکوں پر 30 ہزار افراد مارے گئے۔ اِن دنوں ایرانی سیکیورٹی فورسز نے اتنے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا کہ ریاستی نظام لاشوں کو ٹھکانے لگانے کی سکت ہی کھو بیٹھا۔ حکام کے مطابق کفن یا باڈی بیگز ختم ہو گئے، اور ایمبولینسوں کی جگہ بڑے ٹرالر استعمال کیے جانے لگے۔"
برطانیہ کے مشہور اخبار گارڈین نے لکھا تھا ،
“ ایران کی وزارت صحت کے اہلکار احمدی اور ان کے ساتھی نے گارڈین کو بتایا کہ ملک بھر کے مردہ خانوں اور قبرستانوں سے ملنے والی اطلاعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایرانیوں پر کس قدر وسیع پیمانے پر ظلم ڈھایا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار اصل تعداد سے 10 فیصد بھی کم ہیں۔ ہمارے اندازے کے مطابق کم از کم 30 ہزار سویلین مارے گئے۔
ایرانی حکومت نے 3 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے، جبکہ ایک قابلِ اعتماد تنظیم HRANA (ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی) نے 6 ہزار سے زائد اموات کی تصدیق کر دی ہے اور مزید 17 ہزار سے زیادہ اموات زیرِ تفتیش ہیں۔ یوں ممکنہ مجموعی تعداد تقریباً 22 ہزار بنتی ہے۔ ملک بھر کے مردہ خانوں، قبرستانوں اور ہسپتالوں سے ملنے والی شہادتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حکام نے اصل تعداد چھپانے کے لیے باقاعدہ کوششیں کیں: لاشوں کو آئس کریم والی گاڑیوں اور گوشت کے ٹرکوں میں منتقل کیا گیا، بڑی تعداد میں لاشوں کو جلدی جلدی دفنا دیا گیا، اور سینکڑوں لاشیں بظاہر ایران کے فرانزک نظام سے غائب کر دی گئیں۔
تہران میں مقیم ایک اور ڈاکٹر نے گارڈین کو بتایا: "میں ذہنی طور پر ٹوٹنے کے قریب ہوں۔ انہوں نے لوگوں کا قتلِ عام کیا ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا… میں نے صرف خون ہی خون دیکھا ہے۔"
چلیں، یہ سب جھوٹ ہے، لیکن 21 جنوری کو ایران کے سرکاری ٹی وی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 3,117 مارے گئے۔
یعنی امریکہ اور اسرائیل نے چالیس دنوں میں 1,600 ایرانی قتل کیے — اس کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ لیکن پاسداران اور پولیس فورس نے دو دنوں میں اس سے دگنی تعداد میں ایرانیوں کو گاجر مولیوں کی طرح کاٹا، تو اس پر زبان بند رکھی جائے؟
کئی ماہ تک ایرانی حکومت اس قتلِ عام کا الزام "موساد/سی آئی اے کے ایجنٹوں" پر ڈالتی رہی۔
لیکن اب تہران کے پولیس چیف احمد رضا رادان نے حقیقت بے نقاب کر دی اور ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ کسی غیر ملکی ایجنٹوں کا کام نہیں تھا، بلکہ خود حکومت نے مظاہرین کا قتلِ عام کیا۔
اب پولیس چیف اسے "دوسری جنگ" اور ایرانی عوام کے خلاف "شہری جنگ" قرار دے کر اس پر فخر کا اظہار کر رہا ہے، بلکہ آئندہ کے لیے مظاہرین کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔
پاکستان میں عشقِ ایران میں مبتلا لبرل اور سیکولر دانشور ایک ایرانی اسکول میں بچیوں کی شہادتوں پر تو بہت واویلا کرتے ہیں، لیکن پاسداران کے قتل عام پر مکمل خاموش ہیں۔ کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ بچیوں کے اسکول کی دیوار کے ساتھ پاسداران کا ایک اہم مرکز کیوں بنایا گیا؟
اس جنگ بندی کے دوران دو خطرناک ویڈیوز سامنے آئی ہیں:
ایک ویڈیو میں ایرانی بلوچستان کے ایک اسکول میں پاسداران نے میزائل لانچر نصب کیا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو تہران کی ہے جہاں بچوں کے ایک پارک میں میزائل لانچر لا کھڑا کر دیا گیا ہے۔
اب جب ایسی جگہوں سے میزائل فائر ہوں اور جوابی کارروائی میں معصوم بچے نشانہ بنیں، تو اس کا اصل قاتل کون ہوگا؟
واپس کریں