دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بدلتی دنیا، بدلتا کلچر ۔ خالد خان
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
کلچر کسی ایک قوم، قبیلے یا خطے کی ملکیت نہیں بلکہ انسانی زندگی کا وہ آفاقی اظہار ہے جو وقت، حالات اور ضرورت کے ساتھ مسلسل اپنی صورت بدلتا رہتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنے جغرافیے، معیشت، وسائل اور سماجی ڈھانچے کے زیرِ اثر ایک مخصوص طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے اور یہی طرزِ زندگی رفتہ رفتہ کلچر کہلاتا ہے۔ اسی لیے دنیا میں بے شمار ثقافتی رنگ موجود ہیں اور یہی رنگ انسانی تہذیب کی اصل خوبصورتی بھی ہیں۔ صحرا کا انسان، پہاڑوں کا باسی اور برفانی خطوں کا رہنے والا اپنی اپنی ضروریات اور ماحول کے مطابق مختلف طرزِ فکر اور طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے، کیونکہ جب حالات بدلتے ہیں تو سوچ بدلتی ہے، اور سوچ بدلتی ہے تو کلچر بھی نئی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگر پشتون معاشرت کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ کلچر کوئی جامد شے نہیں۔ وقت نے ہر دور میں انسانی زندگی کے انداز کو تبدیل کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تانگہ صرف سواری نہیں بلکہ پورے سماجی و معاشی نظام کی علامت تھا۔ اس کے گرد ایک مکمل تہذیبی دنیا آباد تھی۔ تانگہ بان کی محنت، گھوڑوں کی دیکھ بھال، نعل سازی، راستوں کا انتظام اور روزمرہ زندگی کے بے شمار پہلو ایک مربوط نظام تشکیل دیتے تھے۔ اس دور کی کہانیاں، رشتے، جھگڑے اور گیت سب اسی نظام کے اندر سانس لیتے تھے۔ مگر جب موٹر گاڑی اور جدید مشینی نظام نے قدم رکھا تو یہ پورا ڈھانچہ آہستہ آہستہ وقت کی دھول میں تحلیل ہونے لگا۔ گھوڑے کی جگہ انجن نے لے لی، گھاس اور ونڈا کی جگہ پٹرول اور ڈیزل نے، اور تانگہ بان کی جگہ ڈرائیور نے۔ یوں ایک پوری تہذیبی کڑی نئے صنعتی دور میں منتقل ہو گئی۔
اسی طرح پشتون سماج میں حجرہ صرف ایک عمارت نہیں تھا بلکہ اجتماعی زندگی کا مرکز تھا۔ وہ جگہ جہاں مہمان نوازی ایک روایت نہیں بلکہ اجتماعی اخلاق کا حصہ تھی، جہاں جرگہ صرف فیصلہ نہیں بلکہ اجتماعی دانش کا مظہر تھا، اور جہاں فرد اپنی شناخت کھو کر نہیں بلکہ اجتماع میں وسعت پاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ مرکز بیٹھک میں بدلا، بیٹھک ڈرائنگ روم میں سمٹ گئی، اور آج ڈرائنگ روم بھی سکرینوں اور ڈیجیٹل رابطوں کی دنیا میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے۔ اب انسانی تعلق کی وہ گرمی، وہ براہِ راست مکالمہ اور وہ اجتماعی احساس رفتہ رفتہ ایک غیر مرئی ڈیجیٹل فضا میں منتقل ہو چکا ہے جہاں رابطے موجود ہیں مگر رشتوں کی حرارت کم ہوتی جا رہی ہے۔
آج ابلاغِ عامہ اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کر دیا ہے۔ سیاست، معیشت، رشتے اور نجی فیصلے سب اس کے زیرِ اثر آ چکے ہیں۔ وہ معاملات جو کبھی خاندان، بزرگوں اور جرگوں کے اجتماعی فیصلوں سے طے ہوتے تھے، اب انفرادی فیصلوں اور فوری ڈیجیٹل رابطوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ماضی کو تھامے وقت کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو ہر نئی تبدیلی کے ساتھ بغیر سوچے سمجھے خود کو بہا دیتے ہیں۔ مگر ان دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ بھی موجود ہے، وہ لوگ جو اپنی تہذیبی جڑوں کو ساتھ لے کر جدید دنیا میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ ماضی سے مکمل انقطاع کرتے ہیں اور نہ حال سے آنکھیں چراتے ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کلچر کوئی جامد حقیقت نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک عمل ہے۔ جیسے جیسے معیشت بدلتی ہے، پیداواری ذرائع تبدیل ہوتے ہیں اور ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں گہرائی سے داخل ہوتی ہے، ویسے ویسے کلچر بھی خود کو نئے سانچوں میں ڈھالتا رہتا ہے۔ زبان بھی اس تبدیلی سے مستثنیٰ نہیں۔ زبان دراصل کلچر کا سب سے حساس اور زندہ حصہ ہے جو وقت کے ساتھ سب سے پہلے اثر قبول کرتا ہے۔ پرانی زبانیں اپنی جگہ درست ضرور تھیں مگر آج کا انسان ان کے مکمل سیاق سے دور ہو چکا ہے کیونکہ زندگی کا پورا نظام بدل چکا ہے۔
تاریخ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ہر دور کی زبان اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق تشکیل پاتی ہے۔ آج وہی زبانیں زندہ اور مؤثر ہیں جو علم، معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ زبان صرف ادب یا شاعری سے زندہ نہیں رہتی بلکہ وہ اس وقت طاقتور بنتی ہے جب وہ تحقیق، ایجاد اور عملی زندگی کی زبان بن جائے۔ جب کوئی قوم علم، پیداوار اور تحقیق میں آگے بڑھتی ہے تو اس کی زبان خود بخود عالمی اثر اختیار کر لیتی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف ثقافتی جذبات یا ماضی کی داستانوں سے نہیں ہوتی بلکہ علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیشت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ جو قومیں ایجاد کرتی ہیں وہ نہ صرف دنیا کو بدلتی ہیں بلکہ اپنی تہذیب کو بھی عالمی سطح پر مضبوط مقام دیتی ہیں۔ آج دنیا میں وہی زبانیں اثر رکھتی ہیں جن کے پیچھے سائنسی ترقی اور فکری تسلسل موجود ہے۔
کلچر کو بچانے کا مطلب اسے منجمد کرنا نہیں بلکہ اسے زندہ رکھنا ہے۔ زندہ کلچر وہی ہے جو وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو مگر اپنی روح کو برقرار رکھے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم پرانے کلچر کو کیسے محفوظ کریں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے کلچر کو آنے والے وقت میں کیسے بامعنی، مؤثر اور زندہ رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ جو کلچر خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہی کلچر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
واپس کریں