دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جلال کا کمال اور عمران خان کی سیاسی پد
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
آج ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جس میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن جلال خان، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں، اسمبلی میں بجٹ پر بات کر رہے تھے۔ میں نہ انہیں پہلے جانتا تھا اور نہ اب جانتا ہوں، لیکن ان کی گفتگو نے مجھے متاثر ضرور کیا۔
میں آخری مرتبہ اس وقت اسمبلی کا بجٹ سیشن کور کرنے گیا تھا جب اکرم خان درانی وزیر اعلیٰ تھے۔ مجھے سیاستدان اچھے نہیں لگتے۔ آج ہی ایک خبر دیکھی تھی کہ کسی ڈپٹی کمشنر نے اپنے دفتر میں سیاستدانوں، بشمول منتخب اراکینِ پارلیمنٹ، کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ خبر کے مطابق ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ انہیں سیاستدان اچھے نہیں لگتے۔
خیر، وہ تو ڈپٹی کمشنر ہے جو مرضی کر سکتا ہے، ہماری تو وہی بات ہے کہ جب گھوڑے نال لگوا رہے تھے تو مینڈکوں نے بھی ٹانگیں اٹھا دیں کہ ہمیں بھی نال لگوا دیں۔
اب آتا ہوں جلال خان کی تقریر کی طرف۔ ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں۔
جلال خان نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سپیکر سواتی انہیں بولنے کا موقع نہیں دیتے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وجہ جان پاؤں لیکن ناکام رہا۔ یقیناً انہیں ڈائریکشن دی گئی ہوگی، لیکن آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے آج موقع فراہم کیا۔
جلال خان سپلیمنٹری بجٹ پر بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 121 ارب روپے کا ضمنی بجٹ پیش کیا ہے اور اب یہ سپلیمنٹری بجٹ پاس کرنا چاہتی ہے۔ کر لیں گے کیونکہ حکومت کے پاس عددی اکثریت ہے۔
سپلیمنٹری بجٹ تب پیش کیا جاتا ہے جب اخراجات میں کمی کا سامنا ہو۔ سپلیمنٹری بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بجٹ کیوں پیشہ ورانہ انداز میں نہیں بنایا گیا تھا؟
چلیے مان لیتے ہیں کہ مختلف محکموں کی ضروریات ہوں گی، لیکن 10 ارب، 15 ارب یا 20 ارب روپے زیادہ سے زیادہ ہونے چاہییں۔ 121 ارب روپے کا سپلیمنٹری بجٹ تو سمجھ میں نہیں آتا۔ سپلیمنٹری بجٹ میں تو محکموں کے لیے 2 ارب اور 3 ارب روپے بڑھائے جاتے ہیں۔ یہ 121 ارب سمجھ سے بالاتر ہے۔ گزشتہ سال 1700 ٹریلین روپے کا بجٹ لیا گیا تھا۔ بجٹ کا تناسب 2 ہزار، 1700 اور 21 ہزار تک رہا ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ 13 سالہ مسلسل حکومت کے تمام بجٹس کی رقوم گنی جائیں تو آج وہ پیسے ہمیں صوبے میں نظر آنے چاہییں تھے۔
سکولوں میں بچے بینچز نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ 45 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ ایمرجنسی دوائیاں بھی موجود نہیں ہیں اور سرجریز کے لیے مطلوبہ اوزار اور مشینیں بھی نہیں ہیں۔ پھر آخر یہ پیسہ خرچ کہاں ہوا؟
ہمیں بجٹ اور سپلیمنٹری بجٹ پر اعتراض نہیں ہے، مگر چار بڑی معروف آڈٹ کمپنیوں، جنہیں "چار بگ" کہا جاتا ہے، سے ان کیمرہ آڈٹ کروایا جائے تاکہ پتہ چلے کہ یہ رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک حکومتی رکنِ اسمبلی نے کہا تھا کہ کرنسی نوٹ پر عبارت: "رزق حلال عین عبادت ہے" ہٹا دی گئی ہے۔ تب سے اب تک مجھے جو بھی ملتا ہے میں اسے کہتا ہوں مجھے نوٹ دکھا دو۔ ہمارے کرنسی نوٹوں پر تو وہ عبارت بدستور موجود ہے، مگر یہ سمجھ نہیں آیا کہ بجٹ والے نوٹوں سے وہ عبارت "رزق حلال عین عبادت ہے" کیوں ہٹا دی گئی ہے۔
جلال خان نے بڑے جلالی انداز میں کہا اور ان کے لہجے اور ہر لفظ سے سچائی اور درد جھلک رہا تھا کہ خدارا مزید کرتبوں پر وقت نہ ضائع کریں اور اس صوبے کے غریب عوام پر رحم کریں۔ ہماری پولیس بندوقوں کے بغیر دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے۔ یہ ہے حکومتی ترجیحات کا عالم۔
انہوں نے کھلے دل سے صوبے کے مفاد میں مل کر چلنے اور تعاون کی پیشکش کی اور حکومت کو مسلسل کام کرنے اور شرم دلانے پر زور دیا۔
دریں اثنا ڈپٹی سپیکر نے گھنٹی بجا کر ان کی بات ادھوری رہنے دی۔
کوئی بات نہیں جلال خان، میں آپ کی ادھوری بات پوری کرتا ہوں۔
ایک گاؤں میں ایک لفنگا شخص کمال خان رہتا تھا۔ وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں ایک ہندو بنیّا اپنی ہٹی چلا رہا تھا۔ اس نے کمال خان کو ادھار سودہ دینا بند کیا ہوا تھا۔ کمال منت ترلے کرنے بنیے کی ہٹی پر گیا۔
دوپہر کا وقت اور گرمی کا موسم تھا۔ بنیّا ہٹی میں اکیلا تھا اور جھاڑو مار رہا تھا۔ کمال نے سوچا یہ بہترین موقع ہے، کوئی نہیں ہے، بنیے کو مجبور کر لوں گا۔ کمال مسلسل منتیں کرتا رہا اور بنیّا انکار کرتا رہا اور جھاڑو بھی مارتا رہا۔
اس دوران بنیے نے پد ماری۔ کمال کو موقع مل گیا۔ اس نے بنیے کو کہا کہ پورے گاؤں میں مشہور کر دوں گا کہ بنیے نے پد ماری ہے۔ بنیّا بھی پٹھان تھا۔ پد مارنا اس کے لیے بھی باعثِ شرم تھا۔ اس نے کمال کی ٹھوڑی پکڑ کر کہا بھائی، بھگوان کے لیے گاؤں میں ذلیل مت کروانا، جو چاہیے لے جاؤ۔
کمال کو موقع مل گیا۔ جب بھی دکان پر گاؤں والوں کا رش ہوتا، کمال بنیے کے سامنے کھڑا ہو جاتا اور بنیّا چھپ چاپ سودا دے دیتا۔
اچانک کمال غائب ہو گیا اور بنیے نے بھی شکر ادا کیا کہ جان چھوٹی۔
کوئی دو مہینے بعد دوپہر کے وقت جب بنیّا ہٹی میں اکیلا تھا اور صفائی کر رہا تھا تو کمال حاضر ہوا۔ بنیے کے چہرے پر ایک رنگ آتا رہا اور دوسرا جاتا رہا۔ مصیبت کو سامنے کھڑے دیکھ کر بیچارے کے اوسان خطا ہو گئے۔ کھسیانی انداز میں پوچھا تم اتنے عرصے کہاں تھے؟
کمال نے کہا: اللہ کے راستے میں نکلا تھا۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے، لیکن یہ بتاؤ کہ کوئی کام کاج بھی شروع کیا ہے یا اب بھی پد کی کھا رہے ہو؟
جلال خان آپ نے جلال میں آ کر کمال کیا، لیکن یہ حکومت کمال جیسی ہے۔ گزشتہ 13 سال سے عمران خان کے سیاسی پد کا منافع کھا رہی ہے۔
واپس کریں