دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ضمیر کی عدالت
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
ضمیر کی عدالت ایک ایسی عدالت ہے
جس کی دیواریں آئینوں کی بنی ہوتی ہیں،
یہاں ہر چہرہ خود اپنا
سب سے بڑا گواہ بن جاتا ہے۔
نہ کوئی وکیل صفائی،
نہ کوئی جج دکھائی دیتا ہے،
مگر فیصلے یوں سنائے جاتے ہیں
کہ برسوں کی نیند بکھر جاتی ہے۔
یہاں نہ دلیل بچا پاتی ہے
نہ صفائی کام آتی ہے،
یہاں صرف سچ بولتا ہے
اور انسان خود ہی
کٹہرے میں کھڑا رہ جاتا ہے۔
باہر کی عدالتوں میں
لفظ خریدے جا سکتے ہیں،
قانون کو موڑا جا سکتا ہے،
اور انصاف اگر نہ ملے
تو فائل بند ہو جاتی ہے۔
مگر ضمیر کی عدالت میں
نہ کوئی تاریخ لگتی ہے،
نہ کوئی پیشی ملتوی ہوتی ہے،
یہ عدالت ہر سانس کے ساتھ لگتی ہے
اور سزا اندر ہی اندر ہوتی ہے۔
جو جرم دنیا نہ دیکھ سکے
وہاں ضمیر آنکھ بن جاتا ہے،
جو گناہ زبان نہ مانے
وہاں دل خود گواہی دے دیتا ہے۔
کچھ لوگ عمر بھر
سب کے سامنے بری رہتے ہیں،
مگر اپنے اندر کی اس عدالت سے
کبھی بری نہیں ہو پاتے۔
کیونکہ یہاں فیصلہ
کسی کاغذ پر نہیں لکھا جاتا،
یہ تو روح پر کندہ ہوتا ہے،
اور یہی وہ تحریر ہے
جو مرنے کے بعد بھی
مٹتی نہیں۔
واپس کریں