دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہاتھی میرا ساتھی ۔ خالد خان
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
بین الاقوامی شہرت یافتہ ایشیائی گلوکارہ اور فنکارہ سونیا مجید نے جنگلی حیات کے تحفظ اور جانوروں کی فلاح کے میدان میں ایک منفرد سنگِ میل عبور کرتے ہوئے سری لنکا کی معروف ملینیم ایلیفینٹ فاؤنڈیشن میں ایک ہاتھی کو گود لینے والی پہلی ایشیائی فنکارہ بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ان کا یہ اقدام فن، ہمدردی، ماحولیاتی شعور اور پائیداری کے فروغ کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
سونیا مجید نے اپنے حالیہ دورۂ سری لنکا کے دوران ملینیم ایلیفینٹ فاؤنڈیشن کا دورہ کیا، جو ہاتھیوں کی دیکھ بھال، تحفظ، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والا ایک معروف فلاحی ادارہ ہے۔ ادارے کی خدمات اور مشن سے متاثر ہو کر انہوں نے باضابطہ طور پر لکشمی نامی مشہور مادہ ہاتھی کو گود لے لیا، جو فاؤنڈیشن کے ہاتھیوں کے خاندان کی قابلِ احترام سربراہ سمجھی جاتی ہے اور سری لنکا کے معروف ترین ہاتھیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس موقع پر سونیا مجید نے کہا کہ ایک فنکار کے طور پر ان کا یقین ہے کہ ہر جاندار کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق لکشمی کا سفر، اس کی قوت، برداشت اور وراثت انہیں بے حد متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف گود لینے کا عمل نہیں بلکہ ان خوبصورت مخلوقات کے احترام، تحفظ اور ان کے وجود کا جشن منانے کے عزم کا اظہار ہے۔
لکشمی، جس کے نام کا مطلب "دولت اور خوشحالی کی دیوی" ہے، طاقت، وقار اور حسن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ وہ بین الاقوامی فلموں اور دستاویزی پروگراموں کا حصہ بھی رہ چکی ہے، جس کے باعث اسے سری لنکا میں جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک نمایاں علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لکشمی پوجا نامی ہتھنی کی والدہ بھی ہے، جسے سری لنکا میں قید میں پیدا ہونے والا پہلا ہاتھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے لکشمی صرف ایک ہاتھی نہیں بلکہ ورثے، استقامت، برداشت اور جانوروں کے تحفظ کی اہمیت کی ایک زندہ علامت سمجھی جاتی ہے۔
سونیا مجید نے لکشمی کے ساتھ اپنے تعلق کو "ایک فنکار کا دوسرے فنکار کو خراجِ تحسین" قرار دیتے ہوئے کہا کہ تخلیق صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ قدرت کی مخلوقات بھی اپنی منفرد کہانیوں، جذبات اور موجودگی کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق لکشمی نے برسوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے اور یہی خصوصیت اسے غیر معمولی بناتی ہے۔
ملینیم ایلیفینٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے گود لینے کے پروگرام میں پائیداری اور ماحول دوستی کو بھی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہاتھیوں کے فضلے سے تیار کردہ ری سائیکل شدہ کاغذی مصنوعات استعمال کی جاتی ہیں، جو قدرتی فضلے کو مفید اور ماحول دوست اشیا میں تبدیل کرنے کی ایک منفرد مثال ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت اور عوامی شعور مل کر فطرت اور جنگلی حیات کے لیے مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ملینیم ایلیفینٹ فاؤنڈیشن سری لنکا میں ہاتھیوں کی فلاح، تحفظ اور آگاہی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ ادارہ ایسے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے جنہیں طویل مدتی مدد اور خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے، جبکہ عوام میں ہاتھیوں کے ساتھ ذمہ دارانہ اور ہمدردانہ رویوں کے بارے میں شعور بھی اجاگر کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن کا مقصد ہاتھیوں کے لیے بہتر تحفظ، صحت، نگہداشت اور باوقار زندگی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ دنیا بھر میں تحفظِ حیات کی کوششوں میں تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینا بھی اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
لکشمی کو گود لے کر سونیا مجید بھی ان عالمی شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں جو اپنے اثر و رسوخ کو پائیداری، ماحولیاتی تحفظ اور جانوروں کی فلاح کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا یہ اقدام ایشیائی تخلیقی برادری، بالخصوص پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ فنکار نہ صرف ثقافت اور فن کے سفیر ہوتے ہیں بلکہ وہ عالمی ماحولیاتی اور فلاحی مسائل کے حل میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
موسیقی سے فطرت کے تحفظ تک سونیا مجید کا یہ سفر دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ فن تبدیلی لا سکتا ہے، ہمدردی مثبت اثر پیدا کر سکتی ہے اور قدرتی حیات کا تحفظ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
واپس کریں