دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دریائے سوات سے سمندر تک: پاکستان کے آبی نظام میں بڑھتی ہوئی آلودگی کا بحران
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
دریائے سوات، جو اپنی برف پوش وادیوں، شفاف پانی اور قدرتی حسن کے باعث پاکستان کے خوبصورت ترین دریاؤں میں شمار ہوتا ہے، آج ایک سنگین ماحولیاتی المیے کی تصویر بن چکا ہے۔ سوات بالا کے سیاحتی علاقے کالام، بحرین، مدین اور دیگر نشیبی شہروں سے لے کر زیریں علاقوں تک گٹر، سیوریج اور ٹھوس فضلہ براہِ راست دریا میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف سوات تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کے آبی نظام کے اجتماعی رویے اور عملی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں نہری نظام، دریا اور حتیٰ کہ سمندر تک کو انسانی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آبی آلودگی صرف کسی ایک ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں رہی، بلکہ یہ ایک اجتماعی رویہ بن چکا ہے جس میں شہری آبادی، ہوٹل انڈسٹری، مقامی انتظامیہ اور بعض اوقات ریاستی نظام بھی بالواسطہ یا براہِ راست شریک دکھائی دیتا ہے۔ جب سیوریج ٹریٹمنٹ کا مؤثر نظام موجود نہ ہو تو گھروں اور ہوٹلوں سے نکلنے والا گندا پانی بغیر کسی صفائی کے ندی نالوں اور دریاؤں میں شامل ہو جاتا ہے، اور یوں قدرتی پانی، جو زندگی کی علامت ہے، زہر آلود ہو کر زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
اس مسلسل آلودگی کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر آبی حیات پر پڑتا ہے۔ دریا میں موجود مچھلیاں، آبی کیڑے اور خوردبینی جاندار اس گندے پانی میں موجود کیمیائی مواد، جراثیم اور زہریلے مادوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے ماحولیاتی نظام کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ جو مچھلیاں زندہ بچ بھی جاتی ہیں، ان کے جسم میں زہریلے مادے جذب ہو جاتے ہیں جو غذائی زنجیر کے ذریعے آخرکار انسان تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح ایک بظاہر خاموش آلودگی پورے حیاتیاتی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
زرعی نظام بھی اس آلودگی سے محفوظ نہیں رہتا۔ دریائی پانی اور نہری نظام جب آلودہ ہو جائے تو وہ زمین کی زرخیزی کو بڑھانے کے بجائے اسے آہستہ آہستہ خراب کرنے لگتا ہے۔ گندے پانی میں موجود کیمیائی مادے اور غیر نامیاتی اجزا مٹی کی ساخت کو متاثر کرتے ہیں، اس کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم کرتے ہیں اور فصلوں کی قدرتی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی، زمین کی تھکن، زرعی لاگت میں اضافہ اور خوراکی مواد کے ذریعے انسانوں کو منتقل ہونے والے امراض جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یوں کسان، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، مزید مشکلات میں گھر جاتے ہیں اور صحتِ عامہ جہاں بری طرح متاثر ہوتی ہے وہاں عام لوگوں کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یوں بظاہر نظر نہ آنے والا مسئلہ گوناگوں دیگر مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اس آلودگی کا سب سے خطرناک پہلو انسانی صحت پر اس کے آبِ نوشی کے ذریعے پڑنے والے اثرات ہیں۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی لوگ دریائی اور نہری پانی کو پینے، نہانے اور روزمرہ استعمال کے لیے کام میں لاتے ہیں۔ یہ پانی جب بغیر ٹریٹمنٹ کے استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں موجود جراثیم، وائرس اور زہریلے مادے مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جن میں ہیضہ، اسہال، جلدی بیماریاں، پیٹ کے امراض، کینسر، کارڈیو ویسکولر امراض، اعصابی نظام کی خرابی اور بعض اوقات طویل المدتی جگر اور گردوں کے مسائل شامل ہیں۔ یہ صورتحال صرف دیہی آبادی تک محدود نہیں بلکہ سیاحتی علاقوں میں آنے والے افراد بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتے۔
اسی طرح مویشی اور پرندے بھی اسی پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ آلودہ پانی پینے والے جانوروں میں بیماریوں کا پھیلاؤ عام ہو جاتا ہے، جس سے دودھ اور گوشت کا معیار متاثر ہوتا ہے، جانور مرتے ہیں اور کاشتکاروں اور دودھ اور گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو نقصانات ہوتے ہیں۔ ان بیمار جانوروں کا دودھ، گوشت اور دودھ سے بننے والی دیگر مصنوعات انسانوں کی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ پرندے جو دریا کے کنارے اپنی خوراک اور پانی حاصل کرتے ہیں، وہ بھی آہستہ آہستہ اس زہریلے ماحول کا حصہ بن کر اپنی قدرتی زندگی کے دائرے سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح پورا ماحولیاتی سلسلہ، جو ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتا ہے۔
دریائے سوات جیسے قدرتی حسن کے حامل دریا میں آلودگی صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی ماحولیاتی بحران کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے ترقی کو قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بجائے اس کے خلاف کیوں کھڑا کر دیا ہے۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ دریا جو کبھی زندگی کا سرچشمہ تھے، آنے والے وقتوں میں صرف ایک آلودہ نالے کی صورت اختیار کر جائیں گے۔
فطرت کے ساتھ ظلم دراصل اپنے ہی مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔
واپس کریں